حیدر عباس رضوی دہری شہریت کے باوجود دوبار رکن قومی اسمبلی رہے

حیدر عباس رضوی دہری شہریت کے باوجود دوبار رکن قومی اسمبلی رہے

نصیر احمد سلیمی

ایم کیو ایم کے سابق ڈپٹی کنوینر اور دوبار کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے حیدر عباس رضوی جو ان دنوں کینیڈا میں مقیم ہیں کراچی میں ایک دن قیام کے بعد براستہ دبئی واپس چلے گئے ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری کہتے ہیں کہ وہ کراچی اپنی والدہ سے ملنے آئے تھے ۔ جبکہ ایم کیو ایم کے دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کراچی ایم کیو ایم نے اس لئے بلایا تھا کہ وہ کینیڈا کی دہری شہریت ترک کر کے 25جولائی کو ہونے والے عام انتخاب میں الیکشن لڑیں مگر وہ واپس چلے گئے۔

حیدر عباس رضوی نے ایم کیو ایم کے بہادر آباد کے مرکز میں پریس کانفرنس بھی کرنا تھی، جو منسوخ کر دی گئی ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے ایک ذمہ دار نے اس نامہ نگار کو بتایا کہ ایم کیو ایم چاہتی تھی کہ حیدر عباس رضوی کراچی میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مقابلے میں الیکشن لڑیں جس کے لئے انہیں کینیڈا کی شہریت ترک کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔اب ایم کیو نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مقابلے میں پارٹی کے عام کارکن کو الیکشن لڑانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی کی قومی اسمبلی کی 21اور صوبائی اسمبلی کی 44نشستوں سمیت حیدر آباد ،ٹنڈو اللہ یار، میر پور خاص، نواب شاہ اور سکھر کی شہری نشستوں پر امیدوار کھڑے کرے گی ۔ نواب شاہ میں آصف علی زرداری کے مقابلے میں یا تو اپنا امیدوار کھڑا کرے گی یا ان کے خلاف کسی دوسرے مضبوط امیدوار کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرے گی، سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد کاغذات نامزدگی کے ساتھ حلف نامہ جمع کرانا کافی نہیں ہو گا۔ بلکہ حلف نامہ دوہری شہریت ،آمدن ذرائع بیرون ملک کاروبار یا ملازمت اقامہ یعنی قیام کا ویزہ سمیت وہ تمام تفصیل درج کرنا پڑے گی جو سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے حلف نامہ تیار کیا ہے حیدر عباس رضوی کے لئے بھی مشکل یہ تھی کہ اگر وہ الیکشن لڑنے کے لئے کینیڈا کی شہریت ترک کردیتے ہیں تو انہیں 2002ء اور 2008ء کا الیکشن لڑتے وقت دوہری شہریت چھپانے کے الزام میں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ جیسے پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک کو برطانیہ کی دوہری شہریت ترک کرنے کے باوجود 2008ء میں سینیٹ کا الیکشن لڑتے وقت کاغذات نامزدگی میں اپنی دوہری شہریت چھپانے کی وجہ سے عدالتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں 2008ء اور 2013ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے کئی رہنماؤں کو کاغذات نامزدگی میں دبئی کا ’’اقامہ‘‘ ظاہر نہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے ان رہنماؤں میں سندھ کے کئی سابق وزیر بھی شامل ہیں اور آصف علی زرداری کی بہن محترمہ فریال تالپور بھی ہیں ۔واضح رہے کہ 2012ء میں سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے ارکان اسمبلی کا نوٹس لینا شروع کیا تھا تو حیدر عباس رضوی سمیت ایم کیو ایم کے کئی دیگر رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے سامنے کیس جانے کے خوف سے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے میں عافیت جانی تھی ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی جو دوہری شہریت ظاہر ہونے کے خوف سے مستعفی ہوئے تھے ان میں ایک نمایاں نام پاک سر زمین پارٹی کے سیکریٹری جنرل رضا ہارون کا بھی تھا۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر عاصم حسین بھی کینیڈا کی دوہری شہریت کی وجہ سے سے سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہوئے تھے، سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ جو اس وقت سندھ کا وزیر خزانہ تھے۔ دوہری شہریت کا کیس سپریم کورٹ کے سامنے جانے کے خوف سے مستعفی ہوئے تھے، سید مراد علی شاہ نے 2013ء کے عام انتخاب میں حصہ بھی اسی وجہ سے نہیں لیا تھا سندھ میں پیپلزپارٹی کی دوبارہ حکومت قائم ہو گئی۔ تو انہوں نے دوہری شہریت ترک کرے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائے جانے والے حلف نامہ میں ان تمام امور کی تفصیل درج کرنے کی جو شرط عائد کی ہے۔ اس وجہ سے مختلف جماعتوں کے بہت سے امیدواروں کا آڈٹ ہونے کے امکانات کو درپیش کیا جا سکتا ہے۔

مزید : تجزیہ