حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کی دینی وملی خدمات

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کی دینی وملی خدمات

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ قیام پاکستان کے پر جوش حامی تھے، آپؒ کا اصلاحی تعلق برصغیر کی مشہور و معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تھا اور آپؒ حضرت تھانویؒ کے خلیفہ مجاز بھی تھے اور آپؒ نے حضرت تھانویؒ کے نام کی طرف نسبت کرتے ہوئے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کے نام سے معروف دینی ادارہ قائم کیا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا شمار ان ممتاز ہستیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا۔۔۔ اور ان کی تصنیفات کی تعداد پندرہ سو سے زائد ہے۔ان ہی کے بارے میں قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے کہا تھا کہ میرے پاس ایک ایسا عالم دین ہے کہ اگر اس کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور پورے ہندوستان کے بقیہ علماء کا علم دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ان کا پلڑا بھاری ہو گا اور وہ ہیں مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ کے حکم پر مفتی محمد حسنؒ نے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ اور دیگر علمائے دیوبند کے ہمراہ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور کئی جگہ مسلم لیگ کے امیدواروں کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان بننے کے بعد مشرقی و مغربی پاکستان پر آزادی کا پرچم لہرانے کی سعادت ’’بزم اشرف‘‘ کے روشن چراغ اور دارالعلوم دیوبند کے قابل فخر سپوت حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کو حاصل ہوئی۔۔۔

حضرت مولانا مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ ،حسن ابدال کے قریب ایک قصبہ مل پور میں اتمان زئی قبیلہ پٹھان کے ایک دیندار گھرانہ مولانا اللہ داد کے گھر پیدا ہوئے آپؒ کے والد اپنے وقت کے معروف عالم دین، محدث اور صاحب نسبت بزرگ تھے، حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ خود اپنے والد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میرے والد رات کے آخری حصہ میں سحری کے وقت نفی و اثبات کا ذکر کیا کرتے تھے۔

آپؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقہ میں حاصل کی۔۔۔ اور پھر مزید دینی تعلیم مولانا محمد معصومؒ ، مولانا عبد الجبار غزنویؒ ، مولانا نور محمدؒ اور مولانا غلام مصطفی قاسمیؒ اور دیگر علماء سے حاصل کرنے کے بعد تزکیہ نفس اور تربیت کیلئے حکیم الامت مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے پاس جا پہنچے۔۔۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ارشاد گرامی اور ہدایت پر آپؒ نے قاری کریم بخشؒ سے تجوید اور فن قرأت کی سند حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند سے حضرت مولانا علامہ انور شاہ کاشمیریؒ سے دورہ حدیث کی تجدید کرتے ہوئے سند فراغت حاصل کی۔۔۔ جس کے بعد حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے آپؒ کو طریقت کے چاروں سلسلہ میں بیعت کر لیا۔۔۔ بیعت کے بعد حضرت مفتی محمد حسنؒ ایسے ’’فنافی الشیخ‘‘ ہوئے کہ ذکر و اذکار اور محنت و ریاضت کے ذریعہ بڑی تیزی کے ساتھ تزکیہ و سلوک کی منازل طے کیں۔۔۔ اور تین سال کے عرصہ میں ہی حضرت تھانویؒ نے آپؒ کو خلعت خلافت سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ میرے قلب میں بار بار اس کا تقاضہ ہوتا ہے کہ میں آپؒ کو ’’تو کّلاً علی اللہ‘‘ بیعت و تلقین کی اجازت دوں اگر کوئی طالب حق بیعت کی درخواست کرے تو انکار نہ کریں خلافت ملنے کے بعد آپؒ حضرت تھانویؒ کے خلفاء اور مصلحین اُمت میں شمار ہونے لگے پھر آپؒ کو اپنے شیخ سے وہ مناسبت پیدا ہوئی کہ آخر دم تک اس میں ہر آن اضافہ اور برکت ہوتی چلی گئی۔حضرت تھانویؒ سے خلافت ملنے کے بعد آپؒ مرجع خلائق ہو گئے۔اپنے وقت کے بڑے بڑے علماء کے علاوہ سابق وزیراعظم پاکستان چودھری محمد علی مرحوم ، سردار عبدالرب نشتر مرحوم سمیت گورنرز، وزراء اور افسران حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کی مجلس میں حاضری کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے، مؤرخ اسلام علامہ سید سلیمان ندویؒ اور مولانا عبد الماجد دریا آبادیؒ بھی حضرت مفتی محمد حسنؒ کے دامن عقیدت سے وابستہ تھے۔حقیقت یہ ہے کہ آپؒ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ بقول ذکی کیفی مرحوم

؂عارف، فقیہ، عالم بے مثل، نکتہ داں

کہنے کو ایک فرد، حقیقت میں انجمن

صحافت و خطابت کے بے تاج بادشاہ آغا شورش کاشمیری مرحوم حضرت مولانا مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں رقمطراز ہیں!

’’حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ صرف کتابی فقیہ یا عالم ہی نہ تھے ان کی صحبتیں، محفلیں اور مجلسیں کئی کتابوں پر حاوی تھیں ان کے پاس بیٹھ کر انسان محسوس کرتا کہ وہ کسی عظمت کے پاس بیٹھا ہے میں نے ان میں کبھی غرور و تکبر، نخوت اور خشونت نہیں دیکھی وہ صحیح معنوں میں قرون اولی کے ان رفیقانِ رسول اللہ ﷺ کے عکس تھے جنہیں رسالت مآب ﷺ کی خوشہ چینی کا شرف حاصل ہوا۔‘‘ 

عالم دین کے منصب پر فائز ہونے اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے خلعت خلافت عطا ہونے کے بعد آپؒ نے 1947ء تک امرتسر کے مدرسہ جامعہ نعمانیہ میں کتابیں پڑھانے اور دینی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اصرار اور اپنے پیرومرشد حضرت تھانویؒ کی اجازت سے درس قرآن کا آغاز کیا اور دس سال کے عرصہ میں قرآن کی تکمیل کی، درس قرآن کیا تھا تصوف، توحید الٰہی، عشق رسالت ﷺ عظمت صحابہؒ کو ایسے دلنشین انداز میں بیان کرتے کہ درس سننے والوں کو یوں محسوس ہوتا گویا ان پر تزکیہ نفس اور خشوع و خضوع کی بارش ہو رہی ہے۔۔ درس قرآن پر آپؒ نے کبھی اجرت نہیں لی۔ اور مسلسل اڑتالیس سال تک امرتسر اور 10سال تک جامع مسجد نیلا گنبد انار کلی لاہورمیں خطبہ وعظ دیتے رہے۔ لاہور میں درس قرآن دیا۔۔ جب تک صحت نے اجازت دی بلاناغہ درس قرآن اور مواعظ حسنہ کا سلسلہ جاری رکھا، اس کے ساتھ ساتھ 60 سال تک درس و تدریس کو بھی جاری رکھا۔

اللہ تعالیٰ نے جہاں آپ کو اپنی دیگر نعمتوں سے نوازا وہاں آپ کو انتہائی نیک اور صالح اولاد بھی عطا فرمائی۔۔آپؒ نے اپنی زندگی میں دو نکاح کئے تھے جن سے آپ کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں ایک بیٹا فضل الرحمن اور دو بیٹیاں آپؒ کی زندگی میں وفات پا گئے تھے، آپؒ کے بقیہ صاحبزادوں کے اسماء گرامی یہ ہیں:(1) حضرت مولانا محمد عبید اللہ ؒ سابق مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور (2) حاجی ولی اللہؒ (3)شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمن اشرفی ؒ (4) مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی مدظلہ مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، (5) حاجی سیٹھ محمد عبد اللہ ؒ (6) مولانا عبد الرحیم ؒ .... ان میں سے ہر ایک دین کا خادم و داعی ہیں اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں علم و عمل کی شمعیں روشن کر رہے ہیں اورپھرآگے ان کی اولادیں بھی پوری سرگرمی کے ساتھ دینِ حنیف کی خدمت میں مصروف ہیں۔

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ امرتسری نے اپنے قیام امرتسر کے زمانہ میں وہاں ایک دینی مدرسہ کی بنیاد ڈالی تھی جس کی آبیاری آپؒ نے اپنے خون و پسینہ سے تقریباً چالیس سال تک کی۔۔ اور پھر قیام پاکستان کے بعد جب امرتسر سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے تو آپؒ نے لاہور میں سائیکل مارکیٹ نیلا گنبد انارکلی مول چند بلڈنگ کے ایک حصہ میں اپنے پیرو و مرشد حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی طرف نسبت کرتے ہوئے جامعہ اشرفیہ کے نام سے 14 ستمبر 1947ء میں دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی....اس مدرسہ نے آپؒ کی محنت و خلوص کی وجہ سے اس تیزی کے ساتھ ترقی کی کہ مدرسہ کی یہ عمارت ناکافی ثابت ہوئی اور صرف آٹھ سال کے مختصر عرصہ کے بعد فیروز پور روڈ پر120 کنال وسیع قطعہ اراضی خرید کہ 1955ء میں بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عصر جامعہ اشرفیہ جدید کا سنگ بنیاد رکھا گیا، سنگ بنیاد کی اس تقریب میں پاک و ہند کی بڑی علمی شخصیات نے شرکت کی جس میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ حضرت مولانا جلیل احمدشیروانیؒ ، حضرت مولانا مسیح اللہ خانؒ ، حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ ، حضرت مولانا رسول خانؒ اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ، مؤرخ اسلام علامہ سید سلمان ندوی ؒ سمیت دیگر اکابرین امت و نامورعلماء کرام نے شرکت کی۔۔ جامعہ اشرفیہ کی عمارت سے پہلے اس میں مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن اس وسیع قطعہ اراضی میں مسجد کی تعمیر کیلئے جگہ کا تعین بھی ایک مسئلہ تھا کہ مسجد کس جگہ تعمیر کی جائے آخر حضرت مفتی محمد حسنؒ کے ہی ایک مخلص اور نیک بندے کو خواب میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی او ر حضور ﷺ نے خواب میں مسجد کی تعمیر کیلئے جگہ متعین فرما دی، جہاں آج انتہائی خوبصورت اور عظیم الشان مسجد ’’الحسن‘‘ جامعہ اشرفیہ فیروز پور روڈ لاہور میں قائم ہے۔آج کل مسجد تعمیر نو کے مراحل میں ہے مسجد کے صحن میں بیسمنٹ کے ساتھ مختلف منازل کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ صبرو استقامت کے پہاڑ تھے ان کی زندگی کا اہم واقعہ اور کرامت یہ ہے کہ آپؒ کے دائیں پاؤں پر ایک پھوڑا نکل آیا جو آہستہ آہستہ اتنا بڑھ گیا کہ آخر کا راس نے پوری ٹانگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔ آپؒ 18 سال مسلسل اس بیماری اور تکلیف میں مبتلا رہے اس دوران علاج و معالجہ کے ساتھ ساتھ دین کی خدمت میں بھی مسلسل مصروف رہے، تکلیف بڑھنے پر ڈاکٹروں نے پوری ٹانگ کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے اس کا زہر پورے جسم میں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا۔۔۔ آپؒ اس شرط پر ٹانگ کٹوانے پر راضی ہوئے کہ آپریشن کے دوران ان کو بے ہوش نہیں کیا جائے گا۔۔۔ تاکہ اگر خدانخواستہ دوران اپریشن موت بھی آ جائے تو کلمہ سے محرومی نہ ہو آخرکار ڈاکٹر حضرات نے ایک انجکشن سے ٹانگ کو معمولی سا بے حس کر کے آپؒ کو بے ہوش کئے بغیر دائیں ٹانگ کو ،ران کے اوپر سے مکمل طور پر کاٹ کر جسم سے الگ کر دیا تقریباً ایک گھنٹہ کے اس اپریشن کے دوران آپؒ نے اُف تک نہ کیا اور صبر و استقامت کے پہاڑ بنے رہے اور مکمل ہوش و حواس کے ساتھ اللہ کے ذکر میں مصروف رہے ڈاکٹر حضرات آپؒ کی اس کرامت اور صبرواستقامت کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔آپؒ فرمایا کرتے تھے کہ بعض دفعہ کٹی ہوئی جگہ پر اتنا شدید قسم کا درد ہوتا کہ جیسے کسی نے بیک وقت ہزاروں چھریوں سے حملہ کر دیا ہو۔

حضرت مولانا مفتی محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاص و للہیت کی وجہ سے جامعہ اشرفیہ لاہور بڑی تیزی کے ساتھ ترقی اوراپنی علمی و دینی منازل طے کرتے ہوئے آج پوری دنیا میں ثانی دارالعلوم دیوبند کی حیثیت سے مشہور و معروف ہے اس وقت پوری دنیا میں جامعہ اشرفیہ لاہور کے فیض یافتہ دین حنیف کی خدمت میں مصروف ہیں اور حرمین شریفین تک میں جامعہ کے فضلاء درس و تدریس کے فرائض سرانجام دینے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ سے تعلیمی فراغت پانے کے بعد سینکڑوں طلبہ نے ایم فل ،پی ایچ ڈی ، ایم بی بی ایس، انجینئرنگ اور قانون کی ڈگریا ں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق و تصنیف ،صحافت و خطابت اور دعوت و ارشاد کے میدانوں میں قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 

؂ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

مزید : ایڈیشن 1