لیلۃ المبارکہ:نزولِ قرآن کی رات

لیلۃ المبارکہ:نزولِ قرآن کی رات

رمضان المبارک ہمارے پاس چند دنوں کا مہمان ہے ، جس نے اس کی جتنی قدر کی ہو گی وہ خوب عیش میں ہو گا اور جو سستی کا شکار رہے ان کے لئے ابھی بھی موقع ہے کہ وہ ماہ مہمان کی آخری کھڑیوں میں عبادات کا اہتمام کریں اوراس وقت کو خوب مفیدتر بناکر اپنی مغفرت کا سامان کریں ،یہی ہمارا مقصود رمضان ہے۔سیدنا ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ رمضان میں ہردن اور رات میں لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور رمضان کے ہر روز وشب میں ہرمسلمان کے لئے ایک دعا ہے، جسے قبولیت سے نوازا جاتا ہے۔۔۔(الترغیب و الترہیب، کتاب الصوم:1473)۔۔۔سیدنا کعب بن عجرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایاکہ :’’میرے قریب ہو جاؤ ،توہم لوگ حاضر ہوگئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبرکی پہلی سیڑھی پرچڑھے تو فرمایا:’’ آمین‘‘ پھر آپ ﷺدوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا: ’’ آمین‘‘ جب تیسری سیڑھی پر چڑھے تو آپﷺ نے پھر فرمایا۔۔۔’’ آمین‘‘ آخر میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے تو ہم نے عرض کی کہ :’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آج آپ سے خلافِ معمول منبر کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے ’’ آمین‘‘ ’’ آمین‘‘ ’’ آمین‘‘ کی آواز سنی ہے، پہلے تو آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا ؟۔۔۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب مَیں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا توجبریل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام میرے پاس آئے اورکہنے لگے :’’وہ شخص اللہ تعالی کی رحمت سے دور جورمضان کا مہینہ پالے پھر اس کی بخشش نہ ہو(یعنی اپنی بخشش نہ کرواسکے)۔ تو میں نے اس پر آمین کہا۔ جب مَیں نے دوسری سیڑھی پرقدم رکھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا: وہ شخص بھی اللہ تعالی کی رحمت سے دور جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاذکر کیاجائے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھے تو مَیں نے پھر کہاآمین اور جب مَیں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے پھر فرمایا کہ وہ شخص بھی اللہ تعالی کی رحمت سے دورجس نے اپنی زندگی میں اپنے ماں اورباپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے میں پایا اور اُنہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا(یعنی ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوسکا)، تو اس بات پر بھی مَیں نے کہا : ’’آمین‘‘۔۔۔اسی لئے ہمیں رمضان کو اپنے گناہوں کو مٹانے کا زینہ بنانے مَیں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہے

آخری عشرے میں روزوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ قیام کا پہلے سے زیادہ اہتمام کریں،اس سے غفلت برتنے سے انسان بہت بڑے اجر و ثواب سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ آپﷺ فرماتے جو کوئی ایمان کے ساتھ حصولِ ثواب کی نیت سے رمضان کاقیام کرے۔ اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ‘‘۔۔۔ قیامِ رمضان یانمازِ تراویح کاوقت عشا کی نماز کے بعد سے لے کرفجر کی اذان تک رہتا ہے۔ اس دوران اسے کسی بھی وقت اداکیا جاسکتا ہے۔''اللہ تعالیٰ اس مرد پر رحم فرمائے جس نے رات کو اُٹھ کرنماز پڑھی اوراپنی بیوی کو جگایا پھر اس نے بھی نماز پڑھی۔ اگر اس کی بیوی نے جاگنے سے انکار کیاتو اس (مرد) نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم فرمائے جس نے رات کو اُٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے خاوند کوجگایا تو اس نے بھی نماز پڑھی ،اگر خاوند نے اُٹھنے سے انکار کردیاتو عورت نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔‘‘اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ ''رات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے انتہائی قریب ہوجاتے ہیں ۔اگر تم اس وقت اللہ کو یاد کرنے والوں میں شامل ہوسکو تو ہوجاؤ‘‘۔۔۔(جامع ترمذی، کتاب الدعوات، رقم:3579)

آخری عشرے میں تلاوتِ قرآنِ مجید کی بھی بہت زیادہ تلاوت کرنی چاہئے ،کیونکہ قرآن اور رمضان کا بڑا گہرا تعلق ہے۔''جبریل امین ؑ رمضان المبارک میں ہر رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآنِ مجید کا دور کیا کرتے تھے‘‘۔۔۔صحیح بخاری، بدء الوحی، رقم:6۔۔۔ آخری عشرے میں خاص بات جو بہت اہمیت و فضیلت کی حامل ہے وہ اِعتکاف ہے۔’’مسلمان اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے محض اللہ تعالی کی عبادت کی نیت سے مسجد میں آکرٹھہرے اس کو ’’اعتکاف‘‘کہتے ہیں ۔ یہ مبارک عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرے میں مسجد میں اعتکاف فرماتے تھے۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ مَیں آپﷺ کے لئے (مسجد میں ) ایک خیمہ لگا دیتی اور آپ صبح کی نماز پڑھ کر اس میں چلے جاتے۔پھر سیدہ حفصہؓ نے بھی ایک خیمہ لگالیا۔ جب سیدہ زینبؓ بنت جحش نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے بھی اپنے لئے ایک خیمہ لگالیا۔جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی حقیقت کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ خیمے ثواب کی نیت سے کھڑے کئے گئے ہیں ؟'' پھر آپ نے اس مہینے (رمضان) کا اعتکاف چھوڑ دیااور شوال کے عشرے کا اعتکاف کیا۔۔۔ (صحیح بخاری،کتاب الاعتکاف، باب اعتکاف النساء ، رقم :2033)۔۔۔اعتکاف کی بہت فضیلت ہے ، رمضان کے اعتکاف کی قضا کسی دوسرے مہینے میں بھی دی جاسکتی ہے ۔سیدنا اُبی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ (آخری عشرے کے دوران) سفر میں تھے ، جب اگلا سال آیا توآپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔۔۔ سنن ابن ماجہ،کتاب الصیام، رقم:1770؛ سنن ابوداؤد، رقم:2463 'صحیح۔۔۔رمضان کے آخری عشرے میں بڑھ چڑھ کر خیروبھلائی کے تمام کاموں میں حصہ لینا چاہئے، جیسے کہ صدقہ و خیرات، اللہ تعالیٰ سے مناجات،ذکر و اذکار، توبہ و استغفار، صلہ رحمی اپنی تربیت ، تزکیہ نفس اس سب میں آگے بڑھنا چاہئے۔

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں :’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے کاموں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔ رمضان میں آپ ﷺتیز ہوا سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے اور خیر کے کاموں کی طرف سبقت لے جاتے تھے۔۔۔(بخاری)۔۔۔جیسے کہ رمضان المبارک کا سارا مہینہ ہی رب تعالیٰ کی رحمتوں اوربرکتوں سے بھراہواہے، مگر اس کے آخری دس دن بہت ہی زیادہ فضیلت کے حامل ہیں ۔سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں عبادات میں اتنی محنت کرتے تھے ، جتنی اور دنوں میں نہیں کرتے تھے۔۔۔۔صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، رقم:2275‘‘۔۔۔سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں :’’جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے اور ان راتوں میں خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کوبھی جگایا کرتے تھے‘‘۔۔۔(صحیح بخاری، کتاب لیلۃ القدر، رقم:2024)

رمضان کے آخری عشرے کو باقی دو عشروں سے ممتاز کرنے والی اصل چیز لیلۃ القدریعنی شبِ قدر ہے جسے قرآن میں لیلۃ مبارک بھی کہا گیا ہے۔اس رات کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:''حم، قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی، یقیناًہم نے اسے بابرکت رات میں اُتارا ہے۔ بے شک ہم ڈرانے والے ہیں ، اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کافیصلہ کیا جاتاہے۔ہمارے پاس سے حکم ہوکر، ہم ہی رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں ‘‘۔۔۔( الدخان)۔۔۔ایک دوسرے مقام پر یوں ارشادفرمایا: ’’یقیناًہم نے ہی اسے یعنی قرآن کو شبِ قدر میں نازل فرمایا، تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیاہے؟ شبِ قدر ایک ہزارمہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں ہر کام کے سرانجام دینے کو اپنے ربّ کے حکم سے فرشتے اور روح (جبریل) اُترتے ہیں ۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔۔۔۔(سورۃ القدر)۔۔۔سیدنا ابوہریرہؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''جس شخص نے شبِ قدر کاِ ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے گذشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں‘‘۔۔۔(صحیح بخاری:35)

عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شبِ قدر کی خبر دینے کے لئے تشریف لارہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں کچھ جھگڑا کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مَیں تمہیں شبِ قدر بتانے کے لئے نکلا تھا۔لیکن فلاں اور فلاں نے آپس میں جھگڑا کرلیاتو اس لیلۃ القدرکا علم واپس اُٹھا لیا گیا،یہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔لہٰذا اب تم اسے (رمضان کی) اکیسویں ، تیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو‘‘۔۔۔ (بخاری:2023) ۔۔۔ سیدنا ابوبکرؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لیلۃ القدر آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی سنا:

''جب نو، سات، پانچ یا تین یا آخری رات باقی رہ جائے تو اسے تلاش کرو‘‘۔۔۔(جامع ترمذی،کتاب الصوم، رقم:794 )۔۔۔سیدنا ابوبکرؓ رمضان کی پہلی بیس راتوں میں معمول کے مطابق نماز پڑھتے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے تھے۔مبارک ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات قدر والی ہے، ہمیں آخری عشرے کی طاق راتوں میں خوب عبادت کرکے اس رات کی فضیلت کو پاناچاہئے ۔ شبِ قدر کی چند علامات بھی ہیں۔شبِ قدر کی صبح سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں۔۔۔’’مسلم:762‘‘ شبِ قدر میں جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کاکنارہ۔(صحیح مسلم:1170)۔۔۔ شبِ قدر ایک خوشگوار رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی۔ اس صبح کاسورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوتی ہے۔۔۔(ابن خزیمہ:3331)شبِ قدر میں آدمی حسبِ معمول جو دعا چاہے مانگ سکتا ہے، تاہم اس رات کو جو خاص دعا ہے، اسے ضرور مانگناچاہئے اور وہ دعارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتائی ہے :

اللھم إنک عفو کریم تحبُّ العفو فاعف عنی

''اے اللہ بے شک آپ معاف کرنے والے کرم فرمانے والے ہیں ، معافی کو پسند فرماتے ہیں لہٰذا مجھے معاف فرما دیں ۔۔۔(جامع ترمذی:3513)۔۔۔اللہ کے رسولﷺ کے حکم کے مطابق ماہ رمضان کے اختتام پر روزوں کے مکمل ہونے کی خوشی میں صدقہ فطر ادا کیاجاتاہے ۔''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کاصدقہ ہر آزاد، غلام، مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، کافرض کیا ہے‘‘۔۔۔ جوکہ رمضان المبارک کے اختتام پر اورنماز عید کی ادائیگی سے پہلے پہلے ادا کردینا چاہئے۔ اللہ تعالی ہمیں رمضان میں اپنی بخشش کروانے کی توفیق دے ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم اسے پسند آجائیں اور اللہ ہم سے راضی ہو آمین۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...