القدس میں امریکی سفارتخانہ قائم کرنا امت مسلمہ کو للکار نے کے مترادف ہے :محمد باق بیگی

القدس میں امریکی سفارتخانہ قائم کرنا امت مسلمہ کو للکار نے کے مترادف ہے :محمد ...

پشاور(سٹاف رپورٹر) فلسطین کے مظلوم عوام کویہودی وامریکی سامراج کے رحم وکرم پرچھوڑدیناپوری امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہے امریکی صدرٹرمپ نے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ قائم کرنیکافیصلہ کرکے نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹرڈکیخلاف ورزی کی ہے بلکہ اس نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کوبھی للکارا ہے اب وقت آگیاہے کہ اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم اوآئی سی سمیت تمام اسلامی دنیاکوصرف قراردادیں پاس کرنیکی بجائے عملی اقدامات کرناہوں گے۔ان خیالات اظہارپشاور میں ایرانی قونصل جنرل محمدباقربیگی نے صحافیوں کیاعزاز میں افطارڈنرکے موقع پرخصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا اور آج یہ دن تمام اسلامی ممالک میں شایان شان طریقے سے منایا جاتا ہے۔ انہوں کہاکہ اسلامی جمہوری ایران مسلمانوں کے قبلہ اول کی یہودیوں سے مکمل آزادی تک فلسطینیوں کی ہرمحاذپرمددجاریرکھیگا،ایران نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے کو اسلام کا بنیادی اور اہم مسئلہ جانا ہے کیونکہ بیت المقدس مسملمانوں کا قبلہ اول ہے اور ہمارے نی ﷺ مسجد اقصی سے معراج پر گئے تھے۔ اسلامی جمہوریہ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کے مظلوم فلسطینی عوام پر جاری ظلم و ستم کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ حال ہی میں اسرائیل کے وحشی فوجیوں نے ایک نرس کو صرف اس جرم میں شہید کر دیا کہ اس نے زخمی فلسطینوں کی جان بچائی تھی۔ اس سال قدس کا دن پچھلے سالوں کی نسبت متفاوت ہوگا کیونکہ اس سال ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارحکومت قرار دیا ہے اور اس سال قدس پر اسرائیل کے 70 سال مکمل ہو گئے ہیں ، اسرائیلی ظلم و ستم کی داستان یہیں ختم نہیں ہوتییہاں تک کہ ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت قرار دینے پر احتجاجکرنیوالے 150 نہتے فلسطینوں کوشہیدکر دیا گیاجونہایت انسانیت سوزہے اوریہ اخلاق باختگی کی انتہاہے اس واقع پرمسلم دنیاسے صرف مذمتی بیانات سامنے آئے ہیں جوانتہائی نازک صورتحال ہے،اگرفلسطین کامسئلہ حل نہ کیاگیاتو نہ صرف اسلامی دنیا کے بحرانوں میں روزبروز اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل فلسطین پرقبضہ کے تمام اخلاقی جوازکھوبیٹھاہے اسکوہرحال میں اسے آزادکرناہوگا۔انہوں نے مشرق وسطی کے معاملات پربات چیت کرتے ہوئے کہاکہ خطے میں ذمہ دارسیاست کامظاہرہ نہ کیاگیاتوپھرحالات مزیدبگڑیں گے اوراسکی ذمہ داری منفی سیاست کرنیوالی قواتیں ہوں گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایران یورپ کیساتھ ہونیوالے معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹ رہالیکن جن مقاصدکیلئے یہ معاہدہ کیاگیاوہ پورے نہ ہوں توپھرمعاہدہ کاکوئی فائدہ نہیں امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کی جانب سے معاہدہ سے پیچھے ہٹنے کے اعلان پراسکاصرف دوممالک نے ساتھ دیاجبکہ باقی ممالک بھی ٹرمپ کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ہم نے یورپی یونین کے سامنے اپنی شرائط رکھدیں ہیں ہم کم ازکم ایرانی عوام کے بنیادی حقوق پر کوئی سودانہیں کریں گے۔انہوں نے پاکستان ایران تعلقات کے حوالے سے کہاکہ دونوں برادرممالک کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں اورہماری خواہش ہے کہ یہ مزیدبہترہوں اورخصوصی طورہم تجارتی حجم بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں چندماہ قبل دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈشروع کرنے کیلئے بینکنگ ٹرانزیکشن شروع کرنیکی مفاہمت کی یاداشت پردستخط کئے گئے ہیں جسکومعاہدہ کی شکل دیناناگزیرہے اورہم امیدکرتے ہیں بہت جلد ایران وپاکستان کے درمیان آذادتجارت شروع کرنے کیلئے اقداماتاٹھائے جائیں گے ۔انہوں نے پاکستانی بندرگاہ گوادراورایران کی بندرگاہ چاہ بہارکومربوط کرنے کی خواہش کابھی اظہارکیااورکہاکہ اسطرح نہ صرف دونوں مملک کی اقصادی حالت بہتر ہوگی بلکہ سنڑل ایشیاوجنوبی ایشیابھی اسکے ثمرات سے مستفیدہوسکیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...