چارسدہ ،قومی وطن پارٹی اور ایم ایم اے کے مابین انتخابی اتحاد کا میابی کے قریب

چارسدہ ،قومی وطن پارٹی اور ایم ایم اے کے مابین انتخابی اتحاد کا میابی کے قریب

چارسدہ (بیورورپورٹ)قومی وطن پارٹی اور ایم ایم اے کے مابین انتخابی اتحاد کامیابی کے قریب ۔ اے این پی کیلئے ایک بارپھر خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ اے این پی کے اسفندیار ولی خان کے مقابلے میں قومی وطن پارٹی اور ایم ایم اے نے مولانا گوہر شاہ کو متفقہ امیدوار نامزد کر دیا جبکہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کی قومی اسمبلی کی نشست اور اس کے ساتھ دو صوبائی نشستیں اوپن چھوڑ دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ مجلس عمل کے صوبائی قیادت کی طرف سے انتخابی اتحاد کیلئے اے این پی کو پہلی ترجیح قرار دینے کے بعد اے این پی اور متحدہ مجلس عمل کے مابین انتخابی اتحاد کیلئے متعدد اجلاس ہو ئے جس میں اے این پی صوبائی اسمبلی کے حلقہ جات 59,58,57اور این اے 24پر کسی قسم کی کمپرو مائز کیلئے تیار نہ ہوئی جس کے بعد مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق اے این پی اور متحدہ مجلس عمل کے مابین مذاکرات کی ناکامی کے بعد قومی وطن پارٹی نے متحدہ مجلس عمل سے انتخابی اتحاد کے لئے کامیاب مذاکرات کئے اور ایک فارمولہ طے پایا گیا ۔ فارمولے کے تحت قومی اسمبلی حلقہ این اے 24پر جے یو آئی کے مولانا سید گوہر شاہ ،پی کے 57پر قومی وطن پارٹی کے ارشد خان عمر زئی ، پی کے 58پر جماعت اسلامی کے ولی محمد خان اور پی کے 59 پر جے یو آئی کے مولانا محمد ہاشم خان، قومی وطن پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے مشترکہ امید وار ہونگے ۔دوسری طر ف قومی وطن پارٹی کے چےئرمین آفتاب احمد خان شیر پاؤ کے قومی اسمبلی حلقہ 23 سکند ر شیر پاؤ کے صوبائی حلقہ پی کے 56اورتحریک انصاف کے عارف احمد زئی کے حلقہ پی کے60کو اوپن رکھا گیا ہے جہاں پر انتخابی اتحاد نہیں ہو گا۔ قومی وطن پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے مابین مجوزہ انتخابی اتحاد سے اے این پی کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے کیونکہ مجوزہ انتخابی اتحاد نے 2013کے عام انتخابات میں بھی اے این پی کو تمام حلقوں پر بری طرح شکست دی تھی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر