نگران وزیراعلیٰ پنجاب پر مسلم لیگ ن کا احتجاج، الیکشن کمیشن بھی میدان میں آگیا، دبنگ اعلان کردیا

نگران وزیراعلیٰ پنجاب پر مسلم لیگ ن کا احتجاج، الیکشن کمیشن بھی میدان میں ...
نگران وزیراعلیٰ پنجاب پر مسلم لیگ ن کا احتجاج، الیکشن کمیشن بھی میدان میں آگیا، دبنگ اعلان کردیا

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن نے پروفیسر حسن عسکری کی بطور نگراں وزیراعلی پنجاب تقرری پر مسلم لیگ (ن) کے اعتراضات مسترد کردیے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حسن عسکری کو نگراں وزیر اعلی پنجاب مقرر کردیا ہے تاہم مسلم لیگ (ن) نے ان کی تقرری کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سرداررضا کی زیرصدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں نگراں وزیراعلیٰ کے لیے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بھجوائے گئے چار ناموں ایڈمرل (ر) ذکائاللہ، جسٹس (ر) سائر علی، پروفیسر حسن عسکری اور ایاز امیر پر غور کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے باہمی مشاورت کے بعد پروفیسر حسن عسکری کے نام پر اتفاق کیا اور پھر اس کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔ حسن عسکری آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ادھر ترجمان الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ردعمل پر کہا ہے کہ الیکشن کمیشن بغیر دباؤکے کام کرتا ہے، آرٹیکل 224 اے کے تحت پروفیسر حسن عسکری کو نگراں وزیراعلی پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا، کمیشن نے تینوں صوبوں پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختون خوا کے وزرائے اعلی متفقہ طور پر مقرر کئے۔

الیکشن کمیشن حکام نے ن لیگ کا حسن عسکری کے نام پر نظرثانی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کسی کے ایما اور خواہش پر نہیں بلکہ میرٹ پر فیصلے کرتا ہے، الیکشن کمیشن پر بے جا تنقید کسی صورت مناسب نہیں، سیاسی جماعتیں فیصلہ کرنے میں ناکام ہوئیں تو ہی الیکشن کمیشن نے آئین کے تحت فیصلہ کیا۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سعد رفیق، احسن اقبال سمیت (ن) لیگ کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں حسن عسکری کی بطور نگراں وزیراعلی پنجاب تقرری کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حسن عسکری کا تقرر کرکے انتخابات کو شبہ میں ڈال دیا ہے، حسن عسکری جانبدار اور پی ٹی آئی کے حامی ہیں، ان کے نام پر نظرثانی کی جائے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیراعلیٰ کا غیرجانبدار ہونا لازمی ہے ، پنجاب کے لئے ہماری جانب سے دیئے گئے نام معروف ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے ایک ایسے شخص کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا جو غیرجانبدار نہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے نے انتخابات کو شبہ میں ڈال دیا ہے، پاکستان کے عوام ان انتخابات کو رد کریں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ تمام جماعتوں کی قیادت نے کہا ہے کہ الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں، لیکن 26 اپریل 2018 کو حسن عسکری نے آرٹیکل میں الیکشن میں تاخیر کی بات کی اور کہا گرمی کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہوسکتی ہے، نگراں وزیراعلیِ کا فیصلہ پورے الیکشن کو شبہ میں ڈال دے گا الیکشن ہم نے لڑنا ہے نگران حکومت نے نہیں۔ الیکشن کمیشن سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں، ایسے شخص کو نگران وزیراعلیٰ بنایا جائے جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔

سابق وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ الیکشن میں تاخیر سے ملک کو نا قابل تلافی معاشی نقصان ہوگا، مسلم لیگ(ن) الیکشن کو روکنے کیلئے ہونے والی سازشوں کا مقابلہ کرے گی اور ہمارا ایک ایک ووٹراپنے ووٹ کی حفاظت کرے گا کسی کو مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے۔

خواجہ سعدرفیق کا کہنا تھا کہ حسن عسکری کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کے نظریات واضح ہیں، اور ان کے آرٹیکل ان کے نظریات کے عکاس ہیں، حسن عسکری کو چاہئے کہ وہ اپنے عہدے سے معذرت کرلیں۔

اس سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حسن عسکری جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے، ان سے غیر جانبدار اور میرٹ پر کام کی توقع نہیں کی جاسکتی، بدقسمتی ہے کہ جس شخص نے ایک اسکول نہیں چلایا وہ صوبہ چلائے گا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد