ن لیگ کا ٹائی ٹینک 

ن لیگ کا ٹائی ٹینک 
ن لیگ کا ٹائی ٹینک 

دو تہائی اکثریت کے ساتھ پانچ سال حکومت کرنے والی ن لیگ پر ایسا وقت بھی آئے گا یہ کس نے سوچا تھا؟؟نواز شریف کی نا اہلی کے بعد وزارتِ عظمیٰ کا تاج سجانے والے شاہد خاقان عباسی فرماتے ہیں کہ انہوں پروفیسر حسن عسکری کی بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نامزدگی قبول نہیں ہے کیونکہ انکا جھکاؤ تحریک انصاف کی طرف ہے ۔ انکا بیان سن کر شش و پنج میں مبتلا ہوں کہ ہنسنا ہے یا رونا ہے۔سادہ سی بات ہے کہ جن چار حضرات کے نام پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو بھیجے تھے انہی میں سے کسی کو منتخب کرنا ہے اگرن لیگ کے بھیجے گئے نام منتخب ہوجاتے تو سب ٹھیک تھا ،المیہ یہ ہے  کہ یہ باتیں وہ شخص کر رہا ہے جو وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فائز رہا ہے۔

جب 2013 کے الیکشن میں نجم سیٹھی کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشاورت سے بنایا گیا تو الیکشن کے بعد انکے کردار پر بے تحاشہ سوالات اٹھے اور 35 پنکچر کی کہانیاں بھی سامنے آئیں ۔پھر ن لیگ کی حکومت نے ہی نجم سیٹھی کو جو  کہ ایک صحافی کا پروفائل رکھتے ہیں انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چئیرمین مقرر کر دیا جس پر وہ تاحال فائز ہیں،پاناما سے لے کر اقامہ تک کے سفر میں ن لیگ نے بہت کچھ کھو دیا ہے ۔اب الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلے کو مسترد کرنے کی بات ہورہی ہے ۔یہ وہی الیکشن کمیشن ہے جسکے ممبران کی تشکیل ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی مشاورت سے ہوئی تھی۔ اب اسکے فیصلے بھی برے لگنے لگے ہیں ۔یہی معاملات نیب کے چئیرمین کی تقرری کو لے کر بھی سامنے آئے تھے ۔

رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے ۔ لوگ آپس میں گفتگو کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں  کہ اتنے روزے رہ گئے ہیں ۔ ن لیگ کے کرتا دھرتا صبح اٹھتے ہیں تو سب سے پہلے دیکھتے ہیں پارٹی میں بندے کتنے رہ گئے ھیں ۔ریحام خان کی کتاب کو لے کر پس پردہ ن لیگ کا کردار بتایا جا رہا ہے جسکے باعث اسکی اخلاقی حیثیت مزید کمزور ہوتی جارہی ہے ۔

ن لیگ کی کشتی میں بڑا سوراخ کرنے چوہدری نثار جا رہے ہیں جنہوں نے چار حلقوں سے آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔شنید ہے کہ انکی تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے ۔آنے والے کچھ دنوں میں ایوان فیلڈ پراپرٹی کا فیصلہ متوقع ہے جس میں بظاہر سزا یقینی نظر آتی ہے ۔ حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے شہبازشریف اور نواز شریف کے انوکھے بیانات بھی سامنے آئے  کہ ہماری حکومتی مدت ختم ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ ہونے کے ہم ذمّہ دار نہ ہونگے بلکہ ساری ذمّہ داری نگران حکومت کی ہوگی۔عوامی حلقوں کی طرف سے ان بیانات کو لے کر سوشل میڈیا پر شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ دونون بھائیوں نے جو گیارہ ہزار میگا واٹ بجلی بنائی تھی وہ جاتے جاتے حکمران شاپر میں اپنے ساتھ ڈال کر لے گئے ہیں ۔

ن لیگ کی کشتی میں سوراخ کر کے تحریک انصاف میں ہجرت کرنے والے موسمی فصلی بٹیرے تحریک انصاف کے لیئے بھی بوجھ بن رہے ہیں ۔ن لیگ کا مسئلہ ہے کس کو ٹکٹ دیں ،کوئی مناسب امیدوار نہیں ہے اور تحریک انصاف پریشان ہے کہ کس کو دیں اور کس کو نہ دیں۔ امیدواروں کا جم غفیڑ ہے ۔ امیدواروں کی حتمی فہرست کا اعلان ہوتے ہی تحریک انصاف میں بھی گروپ بندیاں واضح ہوجائیں گی

چار انتخابی حلقوں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو انصاف دلانے کے لیئے 2014 میں کیئے جانے والے دھرنے ن لیگ کے گلے پڑ گئے اور وہ ایک کے بعد ایک غلطیاں کرتی گئی، پاناما کیس میاں نواز شریف کو لے ڈوبا جبکہ ن لیگ کے نئے صدر شہباز شریف کے لیئے سانحہ ماڈل ٹاؤن ڈراؤنا خواب بنا رہے گا۔

تحریک انصاف کا منشور سامنے آچکا ہے جس سے اختلاف یا اتفاق کیا جا سکتا ہے ،دوسری طرف ن لیگ کا منشور ووٹ کو عزت دو کے بیانیے، یک نکاتی ایجنڈے پر مشتمل نظر آرہا ہے لوڈشیڈنگ کا بحران ،پانی کا بحران ، بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال سے ن لیگ بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔تیس سال حکومت کرنے والے شہبازشریف کہتے ہیں اگر اب ہمیں اقتدار مل جائے تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے ۔ شہبازشریف کی یہ بات سن کر میں نے چینل بدلا تو 115 ارب روپے سے تعمیر ہونے والے اسلام آباد ائیرپورٹ کا منظر سامنے تھا جو کہ مختصر سی موسلا دھار بارش کے باعث پانی میں ڈوب چکا تھا اور لاؤنج کی چھتیں ٹپک رہی تھیں۔ مجھے یوں لگا شہر اقتدار کے نئے ائرپورٹ کے ساتھ ساتھ ن لیگ کا دو تہائی اکثریت والا ٹائٹینک بھی اسی پانی کی تہہ میں گم ہوتا جا رہا ہے۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...