عوام جیت گئی

عوام جیت گئی
عوام جیت گئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 بد دیانت اور کرپٹ حکمرانوں کوملک کی ہر بڑی وچھوٹی عدالت کی جانب  سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. پاکستانی عوام پر ظلم و ستم  ڈھانے والے حکمرانوں کی عوام کی عدالت سے بھی اچھی امیدیں وابستہ نہیں ہیں. ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے بعد جب کچھ نا بن پایا تو مقدس آئین کو پامال کیا گیا. جب آئین کی شقوں62-63 کی بات ہوئی تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے   حکمران یہی کہتے  کہ ایسے فرشتے کہاں سے لائیں جو ان شقوں پر پورا اُتر سکیں. یہی وجہ تھی کہ کاغذات نامزدگی فارم میں سے ایسی تمام تفصیلات نکال دی گئیں جن سے پتہ چل سکتا تھاکہ بندہ کتنا صادق اور امین ہے۔

اس ’’مجرمانہ فعل ‘‘ میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں،جی ہاں ہر وہ سیاسی جماعت  بھی جو  دعویٰ کرتی رہی کہ انہوں نے اُس وقت بائیکاٹ کیا تھا جب اس ترمیم کی منظوری دی جا رہی تھی، کیونکہ کسی بھی عوامی فورم پر اس تبدیلی کے بارے میں نہ تو کوئی احتجاج ہوا اور نہ ہی عوام کو خبر دی گئی۔ اگر تبدیلی کی نام لیوا سیاسی جماعتیں اس ترمیم کی مخالف تھیں تو عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ اس واردات کے خلاف کسی بھی فورم پہ احتجاج کیوں نہیں کیا گیا. حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کاغذات نامزدگی کا مسئلہ دو چار دن پہلے کا نہیں ہے جس پر اتنی خاموشی سے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ساتھ دیا جاتا رہا. گزشتہ تقریباً چھ ماہ پہلے لاہور ہائی کورٹ میں کاغذات نامزدگی فارم کی اس تبدیلی کو چیلنج کیا گیا تھا، لیکن کسی سیاسی جماعت نے اس کیس میں فریق بننے کی کوشش ہی نہیں کی۔

 لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک اس مقدمے کی سماعت کرتی رہیں۔ عدالت کے سامنے جب  کوئی کیس آتا ہے تو عدالت کو اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے فیصلہ تو کرنا ہوتا ہے، سو اس کیس کا فیصلہ آیا اور عدالتِ عالیہ نے یہ حکم جاری کیا کہ  کاغذات نامزدگی فارم میں سے جو تفصیلات نکالی گئی ہیں، وہ من و عن دوبارہ شامل کی جائیں، اس فیصلے کے منظر عام پر آنے کی دیر تھی کہ  ایوانوں سے فارغ سیاستدانوں میں کہرام بپا ہو گیا "الیکشن تاخیر کا شکار ہو جائیں گے" کی آوازیں سنائی دینے لگیں ، اس فیصلے کے خلاف  الیکشن کمیشن، سپیکر قومی اسمبلی اور نگران حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا. سپریم کورٹ نے اس پر فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا. بعدازاں سپریم کورٹ نے اس پیچیدہ معاملے کی دوبارہ سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے کاغذات نامزدگی چھاپنے کی ضرورت نہیں، یہ بات طے شدہ اور حتمی ہے کہ الیکشن میں تاخیر نہیں ہو گی، جھوٹے بیان حلفی کی صورت میں سپریم کورٹ براہ راست کارروائی کرے گی. "چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سابق اسپیکر ایاز صادق نامزدگی فارم کیس میں متاثرہ فریق کیسے ہیں اور ریمارکس دیئے کہ اثاثوں سمیت دیگر معلومات دینے میں ایاز صادق کو تکلیف کیا ہے، آخر کیا ظاہر نہیں کرنا چاہتے اور کس بات کی شرم ہے" ؟۔

ووٹر کو معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کے لیڈر کس قسم کے لوگ ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا لگتا ہے اعتراض ایاز صادق کو نہیں نون لیگ کو ہے۔ انہوں نے مزید کہا الیکشن کسی صورت ملتوی نہیں ہونے دیں گے.ان حالات میں سلام ہے ڈاکٹر طاہرالقادری کو جنہوں نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس کرکے سیاستدانوں کی اس گھناؤنی سازش کو بروقت بے نقاب کیا. ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اسی نامزدگی فارم پرانتخابات ہوتے رہے اور اسی بنیاد پر نواز شریف کو نااہل کیا گیا، اسی بنیاد پر نواز شریف کو خائن قرار دیا گیا جنہیں چور ڈاکو کہا گیا لیکن آج آرٹیکل 62،63 دوبارہ یتیم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

آخر کار ملک میں لوٹ مار کرنے والوں کو منہ کی کھانی ہی پڑی، ڈاکوؤں، لٹیروں کی چالاکیاں سپریم کورٹ نے نہ چلنے دیں. سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا تیار کردہ حلف نامہ منظور کرلیا، اور امیدواروں کی سہولت کیلئے حلف نامہ ای سی پی کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کردیا. نامزدگی فارم کے ساتھ حلف نامہ لینے کیلئے ریٹرننگ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں، اب امیدوار 11 جون تک حلف نامہ جمع کراسکتے ہیں۔جو ملک و قوم کو کھارہے تھے ،اب قوم انکے   کھاتے دیکھ سکے گی۔

 ۔۔۔

 

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

 

 

 

مزید : بلاگ