آپ کا فون چپکے چپکے آپ کے خلاف کیا کر رہا ہے؟ ایسا انکشاف سامنے آ گیا کہ آپ کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

آپ کا فون چپکے چپکے آپ کے خلاف کیا کر رہا ہے؟ ایسا انکشاف سامنے آ گیا کہ آپ کی ...
آپ کا فون چپکے چپکے آپ کے خلاف کیا کر رہا ہے؟ ایسا انکشاف سامنے آ گیا کہ آپ کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے موبائل فونز ہماری روزمرہ کی گفتگو سنتے اور ریکارڈ کرتے ہیں یا نہیں؟ اس حوالے سے اب تک مختلف آراء پائی جاتی تھیں تاہم اب ماہرین نے ایسا حتمی جواب دے دیا ہے کہ سن کر آپ جدید سمارٹ فونز کے استعمال سے ہی خوفزدہ ہو جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہمارے سمارٹ فونز ہماری روزمرہ کی گفتگو سنتے ہیں۔ سمارٹ فونز ہی نہیں بلکہ ان میں انسٹال کی ہوئی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی ایپلی کیشنز بھی یہ کام کرتی ہیں۔ اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ وہ سفر، ہوٹل میں قیام یا کسی دیگر مخصوص موضوع پر گفتگو کر رہے تھے اور کچھ ہی دیر بعد کسی ایپلی کیشن پر اسی حوالے سے اشتہارات نظر آنے لگے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہوتا۔سمارٹ فونز اور ایپلی کیشنز ہماری گفتگو سنتی ہیں اور اس سے ہماری دلچسپیوں کا اندازہ لگا کر اسی حساب سے ہمیں اشتہارات دکھاتی ہیں۔

امریکی سائبر سکیورٹی فرم ایسٹرسک کے ماہر ڈاکٹر پیٹر ہینوے کا کہنا تھا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ سمارٹ فونز میں مصنوعی ذہانت (artificial intelligence)استعمال ہوتی ہے۔ سمارٹ فونز کا یہی وہ فیچر ہے جو بعض مخصوص الفاظ اور فقروں پر ہمہ وقت کان دھرے رہتا ہے، مثال کے طور پر Hey Siriاور Ok Google۔ آپ نے کئی ایپلی کیشنز بھی دیکھی ہوں گی جب ہم انہیں انسٹال کرتے ہیں تو وہ ’مائیکروفون‘ کے استعمال کی بھی اجازت مانگتی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ ایپلی کیشنز بھی مصنوعی ذہانت سے لیس ہوتی ہیں اور مائیکروفون کے ذریعے ہماری گفتگو سن کر اشتہارات دکھانے میں اس کا استعمال کرتی ہیں۔ان ایپلی کیشنز کا نظام ’انکرپٹڈ‘ شکل میں یہ ڈیٹا منتقل کرتے ہیں، چنانچہ اس ڈیٹا کی نوعیت معلوم کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ ایپلی کیشنز کے یہ نظام بعض مخصوص الفاظ سے متحرک ہوتے ہیں جو ان کے سسٹم میں محفوظ ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص موبائل فون کے پاس ان میں سے کوئی لفظ بولتا ہے تو ان کے نظام متحرک ہو جاتے ہیں اور اس کی گفتگو ریکارڈ کرکے اپنے ڈیٹا بیس کو منتقل کر دیتے ہیں۔گوگل اس بات کا اعتراف کر چکی ہے اور مجھے یقین ہے کہ باقی کمپنیاں بھی یہی کچھ کر رہی ہیں تاہم وہ اس کا اعتراف نہیں کرتیں۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس