افراطِ زر اور بھکاریوں کی یلغار

افراطِ زر اور بھکاریوں کی یلغار

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ ماہِ رمضان المبارک بخیر گذرا، اگرچہ اِس دور ان حادثات بھی ہوئے تاہم مجموعی طور پر اللہ کا کرم رہا، عید الفطر بھی بھرپور طریقے سے منا لی گئی۔ بڑھی ہوئی گرانی اور کمر توڑ بلکہ جان توڑ مہنگائی کے باوجود بچوں بڑوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق خوشی منائی۔ اس بار چھٹیاں معمول کے مطابق8 سے نو دن تک کی گئیں اور آج بھی چھٹی ہی کا دن ہے۔ اگرچہ عید کا چوتھا روز ہے۔ اس مرتبہ شہروں کی انتظامیہ بھکاریوں کے حوالے سے کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دے پائی اور ان کو کھلی چھٹی تھی، چنانچہ جمعتہ المبارک کے اجتماعات سے عید کی نماز تک کے دِنوں میں مساجد اور عبادت گاہوں کے باہر بھکاریوں کے ڈھیرے تھے،جو نمازیوں کے کپڑے بھی نوچ رہے تھے۔ اسی طرح گھروں میں چین نہیں تھا، کہ ہر پل ڈور بیل بجتی، گھر والے کسی مہمان کے حوالے سے باہر جاتے تو سامنا بھکاری سے ہوتا۔شہریوں نے اگرچہ جی کھول کر خیرات کی،اس کے باوجود ان بھکاریوں کی یلغار سے عہدہ برآ نہ ہو سکے اور پریشان ہی رہے۔ بعض خبروں کے مطابق سٹیٹ بینک بیس روپے والے سکے بھی جاری کرنا چاہتا ہے، ایک اور پانچ روپے والے نوٹ تو عرصہ دراز سے بند ہیں اب دس اور20 والے بھی بند کرنا مقصود ہیں،اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ افراطِ زر کی صورتِ حال کیا ہے، پیسے تو دور کی بات ایک روپے، دو روپے اور پانچ روپے کے کرنسی نوٹوں کا استعمال ختم ہوا تو اب دس اور20والا بھی ختم کیا جا رہا ہے۔اس صورتِ حال سے شہریوں کا پریشان ہونا واجب ہے۔ یہ سب بدانتظامی اور افراط زر کے کرشمے ہیں اور معیشت کی بدحالی کا منہ بولتا ثبوت ہیں،عوام پریشان ہیں اور دُعا کرتے ہیں کہ بجٹ خیر کا ہو اور مہنگائی رمضان اور عید کا تحفہ ثابت ہو کر کم ہو جائے۔

مزید : رائے /اداریہ