رویت پر نیا تنازعہ؟

رویت پر نیا تنازعہ؟
رویت پر نیا تنازعہ؟

  



اکثر امور کے حوالے سے علمائے کرام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ سائنس کی کسی بھی ایجاد کو قرآن سے ثابت تو کرنا شروع کر دیتے ہیں،لیکن خود مستفید ہوتے ہوئے جدت سے گریز پا رہتے ہیں، بلکہ بعض سیدھے سادے مسائل پر اُلجھاؤ پیدا کرتے ہیں،اس سلسلے میں تازہ ترین حوالہ رویت ہلال کا ہے،لیکن اس مرتبہ یہ امر خاص طور پر غور کرنے کا ہے کہ تنازعہ علماء نے پیدا نہیں کیا،بلکہ اس کے موجد خود انصافئے ہیں کہ ان حضرات نے سہ رخی اختیار کی۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے پہلا پتھر پھینکا اور قمری کیلنڈر کی تیاری کا اعلان کرتے ہوئے شوال کے چاند کی تاریخ (عیسوی سمیت) بھی متعین کر دی،اس پر اکتفا کئے بغیر انہوں نے رویت ہلال کمیٹی کو بھی فضول قرار دے دیا،لیکن اس کے برعکس وفاقی وزارت مذہبی امور نے رویت ہلال کمیٹی پر انحصار کیا اور نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا، جس کے مطابق مفتی منیب الرحمن ہی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین نامزد ہوئے اور4جون کو کراچی میں اجلاس کی تاریخ بھی متعین کر دی گئی۔

فواد چودھری کو اپنا موقف بیان کرنا تھا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ قمری کیلنڈر اور دورِ جدید کے حوالے سے رویت کا معاملہ پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے گا، پھر کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے پانچ سالہ قمری کیلنڈر مرتب کرا کے اسلامی نظریاتی کونسل کو تو بھیجا، لیکن سفارشات کا انتظار کئے اور کابینہ سے منظوری لئے بغیر ہی نہ صرف ویب سائٹ لانچ کر دی، بلکہ یہ متعین بھی کر دیا کہ قمری کیلنڈر کے مطابق چاند 4جون کو نظر آئے گا اور عیدالفطر5جون بدھ کو ہو گی۔

دوسری طرف صورتِ حال یہ ہوئی کہ جہاں سے ہمیشہ پہل ہوتی ہے،ادھر سے پھر یہی ہوا اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی نجی رویت ہلال کمیٹی نے اپنا اجلاس3جون کو بلا لیا اور 3جون کو اعلان کر دیا کہ شہادتوں کے بعد یہ طے ہے کہ شوال المکرم کی یکم منگل4جون کو ہو گی اور یہی یوم عیدالفطر ہے،اس بار جو اضافی عمل ہوا وہ خیبرپختونخوا کی حکومت کا عمل تھا،جس نے مفتی پوپلزئی کا نہ صرف اعلان قبول کیا،ان کا ساتھ دیا،بلکہ یہ مطالبہ بھی داغ دیا کہ مفتی پوپلزئی کو رویت ہلال کمیٹی کا چیئرمین بنا دیں، تنازعہ ختم ہو جائے گا۔

یہ تنازعہ اور اختلاف اِس بار علمائے کرام کے درمیان نہیں،بلکہ خود انصافیوں کے بڑوں کے درمیان ہوا، خیبرپختونخوا کے بعض حصوں میں سرکاری عید 4جون منگل کو ہوئی،یہاں تک کہ گورنر نے بھی 4جون کو عید نہیں منائی، سوات میں بھی جو وزیراعلیٰ کا علاقہ ہے عید اُن کی حکومت کے ساتھ نہیں منائی گئیاور باقی پورے ملک میں رویت ہلال کمیٹی (مرکزی) کے مطابق 5جون (بدھ) کو ہوئی۔

یوں ایک ہی جماعت کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اختلاف سامنے آیا، جسے فواد چودھری نے جھوٹ کا سہارا قرار دیا اور کہا کہ 3جون کو چاند نظر آ ہی نہیں سکتا۔ جھوٹ کے سہارے عید کرا دی گئی۔ اس پر صوبائی وزیر اطلاعات یوسفزئی نے ان پر اعتراض بھی کیا۔ رویت کا مسئلہ ایک خالص دینی معاملہ ہے کہ روزوں اور عید کی خوشی کی بشارت اور حکم خود رسول اکرمؐ نے دیا اور واضح طور پر کہا کہ جہاں چاند دیکھو روزہ رکھو اور جہاں اختتام رمضان پر چاند نظر آئے عید کر لو، اب اگر کوئی اختلاف تھا تو یہ کہ ہمارے علمائے کرام جدید دور کی مواصلاتی سہولتوں سے وعظ اور اذان تک کے لئے تو استفادہ کرتے ہیں، لیکن چاند کے مسئلے پر رویت پر زور دیتے ہیں کہ آنکھ سے نظر آئے۔

اس حوالے سے بحث جاری رہنی تھی اور اب نوبت یہاں تک آ گئی کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے باقاعدہ جدید سائنس کی سہولتوں اور ماہرین سے استفادہ شروع کر دیا تھا اور ننانوے فیصد سے زیادہ ان کے درمیان اتفاق ہوتا اور چاند کا اعلان کر دیا جاتا، جو وفاقی سطح پر قبول ہوتا،اس طرح معاملات درست طور پر چل رہے تھے۔

ضرورت یہ تھی کہ خیبرپختونخوا کی نجی رویت ہلال کمیٹی کو بھی آمادہ کیا جائے کہ وہ مرکزی کمیٹی سے اتفاق کرے،لیکن ایسا نہیں ہوا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے شمال والے بھائیوں کا ایک بہت بڑا حصہ ہر لحاظ سے قمری تاریخ سعودی عرب کے ساتھ متعین کرتے ہوئے روزہ اور عید سعودی عرب کی تاریخ کے مطابق کرنا چاہتا ہے اور اس کی یہ شرط بھی ہے کہ اتفاق رائے اسی پر ہو سکتا ہے۔

فواد چودھری کو اس میں اس انداز میں دخل نہیں دینا چاہئے کہ وہ حکم صادر کریں،ان کی قمری کیلنڈر والی کاوشیں لائق تحسین ہیں، جس کی ہر روشن خیال شہری نے تعریف کی،لیکن دین کے حوالے سے وہ اتھارٹی نہیں ہیں، نہ ہی فواد چودھری خود عالم ہیں، اِس لئے ان کا دین کی حد تک گریز کر لینا بہتر ہے، حالانکہ انہوں نے دو فقیہہ حضرات کا ذکر کر کے اپنے موقف کی تائید حاصل کی، تاہم ان کا نام نہیں لیا، جن کے پیرو کار برصغیر میں بھاری اکثریت میں ہیں، چاہے وہ مفتی منیب ہوں یا مفتی شہاب پوپلزئی۔

فواد چودھری نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور عیدالضحیٰ کے دن اور یکم محرم کی قمری تاریخ کا بھی اعلان کر دیا ہے وہ نچلے نہیں بیٹھنا چاہتے تو اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت سے نمٹیں، عوام کو پریشان نہ کریں اور نہ ہی مسلکی تنازعہ کو ہوا دیں، حالانکہ وہ تمام مسالک کے پیچھے پڑ گئے ہیں، جبکہ خود بھی ایک مسلک کے پیرو کار ہیں،عرض کرتے ہیں کہ وہ اپنی کاوش کو باہمی اتفاق رائے سے حل کریں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے آنے دیں،پھر علمائے کرام سے بھی بات کریں۔ قمری کیلنڈر اچھی کاوش ہے، لیکن حتمی نہیں، د لائل ہو سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم