حکومت کو اندر سے خطرہ؟

حکومت کو اندر سے خطرہ؟
حکومت کو اندر سے خطرہ؟

  



وطن عزیز میں سیاسی اور معاشی طور پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ٹائمنگ پر غور کرنے کی ضرورت ہے اب یقینا وہ وقت نہیں رہا کہ ”اسٹیٹ آف دی آرٹ“ اطلاعات پر یقین بلکہ من و عن تسلیم بھی کر لیا جائے مگر اب سائبر ٹیکنالوجی کا دور ہے ہر سوجھ بوجھ رکھنے والا ایک طرف سمارٹ ڈیوائس کا مالک ہے جہاں اسے ”انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن“ دونوں باآسانی دستیاب ہیں اب یہ اس پر منحصر ہے کہ اس کی جذباتی سیاسی اور معاشی وابستگی کس کے ساتھ ہے اگر وہ تحریک انصاف کا کارکن ہے تو اس وقت اسے ہر طرف ہرا ہرا ہی نظر آئے گا اگر ن لیگ کا ہے تو اسے شام غریباں کا منظر محسوس ہوتا ہے اور پیپلز پارٹی کا جیالا تو اپنے آپ کو جمہوریت ہی سمجھتا ہے ایم کیو ایم باقی ماندہ مسلم لیگس،

جمعیت علمائے اسلام کے گروپ اور لسانی گروپ بھی اپنے اپنے ”بابے“ کو طاقت ور قرار دینے کے لئے بے قرار ہیں لیکن ماضی کی طرح تحریک انصاف کی حکومت بھی یہ حقیقت سمجھنے سے یکسر قاصر اور سمجھتی ہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہی درست ہے باقی سب جھوٹے اور بد دیانت ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے اس وقت اقتدار میں جو ان کے حصہ دار ہیں وہ کبھی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی شریک حکومت رہے ہیں یہی نہیں بلکہ یہی لوگ مارشل لاء اور پھر مارشل لائی جمہوریت میں بھی ”طاقت“ کے مزے لوٹتے رہے ہیں اور اب موجودہ حکمرانوں کے ہم رکاب ہیں اور اس وقت تحریک انصاف کے اندر جو ”چڑچڑاہٹ“ پیدا ہو رہی ہے وہ بھی شاید انہی کاریگروں کا حسن ہے یعنی اگر حکومت کو کوئی خطرہ ہے تو وہ انہی اپنوں سے ہے غور کریں تو حکومت جس طرح اپنے ہی لئے سیاسی اور معاشی حالات پیدا کر رہی ہے اور مملکت میں ان کی دلچسپی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے بحران پر بحران پیدا ہو رہے ہیں ڈالر تو دور کی بات رہی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مسلسل ناکامی ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ بغیر سوچے سمجھے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عین اس وقت کیا گیا جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے اب یہ بات تو عام شہری بھی سمجھ سکتا ہے کہ بجلی،

گیس کے ساتھ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی تو مہنگائی کو کنٹرول کوئی جن ہی کر سکے گا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنی سیاسی چتا کے لئے خود ہی لکڑیاں جمع کر رہی ہے اب سننے میں آرہا ہے کہ جون میں آنے والے بجٹ میں مزید ٹیکس لگانے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو گویا اپوزیشن کو حکومت مخالف تحریک چلانے کے لئے ایک بہترین ایندھن فراہم کر دیا گیا ہے کاروباری حالات پہلے ہی منفتی ہیں اب سپریم کورٹ بارے بھی عید کے بعد طبل جنگ بجانے کا اعلان کر دیا ہے اب اس چنگاری کو آگ بننے سے کون روکے گا کیونکہ تحریک انصاف کے اندر بیٹھے رہنما باہم راضی نہ ہیں اہم وزارتیں غیر منتخب یا دوسرے لفظوں میں ٹیکنو کریٹس کی تعیناتی بھی اس اندرونی خلفشار کی اہم وجہ ہے

اور اب تو وزراء بھی دل کی بات زبان پر لانے لگے ہیں ادھر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ماضی کے حکمرانوں کی طرح تھانے اور حوالاتیں چیک کرنے پر لگ گئے ہیں جو اس بات کی خمازی کرتا ہے کہ اب ان کے پاس کرنے کو کچھ اور نہیں ہے حالانکہ سابق حکمرانوں کی انہی باتوں پر انہیں اعتراض تھا تو کیا ”خادم اعلی“ کی ایسی کارروائیوں نے موجودہ حکمرانوں کے رویے تبدیل کروا دئیے ہیں انتظامیہ اور پولیس ان کے قابو میں نہیں لگ رہی جو بات وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب منع کرنے کو کہتے ہیں وہی بات ضروری ہو جاتی ہے حکومت نے واضح اعلان کیا کہ سرکاری خرچ پر افطاریاں نہیں ہوں گی لیکن چیک کر لیں انتظامیہ اور پولیس نے ہر دوسرے دن سرکاری خرچ پر افطاری کی یعنی ان کی ادائیگی کس فنڈ سے ہوئی یہ چیک کرنے کی بات ہے ادھر شہری تو شہری کسان بھی انتہائی پریشان ہے گندم کے ساتھ جو حشر ہوا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے

اب کپاس کی کاشت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر حکومتی ادارے خاموش ہیں اور ایک نام نہاد کسانوں کا رہنما بن کر ایک طرف حکومت کو بلیک میل کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ کسانوں کا استحصال بھی کرنے میں مصروف ہے پاکستان کسان اتحاد کا اپنے آپ کو مرکزی صدر کہلانے والا خالد محمود کھوکھر ون مین شو ہے جس کی خود ساختہ تنظیم کا نہ کوئی سیکرٹری ہے اور نہ کوئی شامل ہیں اور زرعی ادویات کے ڈیلرز اور کمپنیوں کا اس سے کیا تعلق ہے اور اتنی مہنگی میڈیا کمپین کی ادائیگی کون کر رہا ہے اسے زراعت اور کسانوں کے حوالے سے صحیح اعداد و شمار بھی معلوم نہیں ہے اور غلط معلومات دے کر کسانوں کا استحصال اور زرعی ادویات بیچنے والوں کے مفادات کی نگرانی کر رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے یوم تکبیر پاکستان کو تاریخ کا سنہری ترین دن قرار دیا تمام تر لالچ، رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود نواز شریف نے اپنی دھماکے کر کے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے اپوزیشن کو چاہیے کہ نہ وہ حکومت کو گرنے دیں اور نہ عمران کو ہٹائیں ورنہ کوئی اور آجائے گا ہر مسئلے کا حل گولی نہیں، فاٹا کا ایشو پارلیمنٹ اور حکومت کو حل کرنا چاہیے نواز شریف کو توڑنے کے لئے بنایا گیا نیب خود دھڑام سے نیچے آن پڑا ہے آئی ایم ایف والے بجٹ میں عوام کا کچومر نکال دیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...