عید گزرگئی، کیا اب تحریک کی تیاریاں ہیں؟

عید گزرگئی، کیا اب تحریک کی تیاریاں ہیں؟
عید گزرگئی، کیا اب تحریک کی تیاریاں ہیں؟

  



روپے کی بے قدری کے باعث گرتی معیشت، آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرضے کرنے کی منظوری، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں آئے روز ہوشربا اضافے، بڑھتی بے روزگاری اور آسمان کو چھوتی مہنگائی کے باعث تحریک انصاف کی حکومت سخت عوامی دباؤ میں ہے،کمزور ملکی معیشت، روپے کی بے قدری، مہنگائی اور بیروزگاری کی معروضی وجوہات کچھ بھی ہوں اور اس کی ذمہ دار خواہ ماضی کی حکومتیں ہی کیوں نہ ہوں، عوام تمام تر ذمہ داری ان لوگوں کے کندھوں پر ڈالیں گے، جن کے ہاتھ میں آج زمام اقتدار ہے۔

تحریک انصاف سے وابستہ تبدیلی اور انقلابی اقدامات کی توقعات مایوسی میں بدل چکی ہے۔ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ مزید بڑھانے کے لئے پر تول رہی ہیں۔مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت حکومت مخالف تحریک کا عندیہ دے چکی ہے۔ احتساب عدالتوں میں مقدمات، پیشیوں اور قبل از گرفتاری ضمانت کے لامتناہی سلسلے سے تنگ آکر زرداری صاحب بھی حکومت مخالف تحریک کا اعلان کرچکے۔

بلاول کی دعوت افطار میں اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہوں بالخصوص مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کی شمولیت حکومت مخالف تحریک کی کوششوں کو تقویت دے گی۔ مولانا فضل الرحمن پہلے دن سے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں. جلد از جلد حکومت کا خاتمہ مولانا صاحب کی پہلی ترجیح ہے اور وہ متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے یہ فریضہ سرانجام دینے کے لئے بے چین ہیں۔

تمام تر حکومتی کمزوریوں اور نااہلیوں کے باوجود اپوزیشن کا بیانیہ کمزور ہے۔ یہ تحریک اس بنیاد پر چلائی جائے گی کہ حکومتی نااہلی سے ملکی معیشت تباہ ہوئی روپے کی بے قدری ہوئی ہے، جس سے مہنگائی کا طوفان آیا اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔اس نااہل اور کمزور حکومت کا مزید ٹھہرنا ملک و ملت کے لئے مزید مشکلات لائے گا لہٰذااس حکومت کو جانا ہوگا۔ اس حکومت کی جگہ کون لے گا اور تحریک کے دوران اگر ملکی معیشت اور امن و اماں کی حالت مزید دگرگوں ہو گئی تو اس کے لئے کون اور کیسے اقدامات اٹھائے گا۔

اگر حالات بے قابو ہوکر سیاستدانوں کے ہاتھ سے نکل گئے تو اس کی ذمہ داری کس کے کندھوں پر آئے گی۔شاید اس پہلو پر توجہ نہیں دی گئی۔حکومت کا جوابی بیانیہ یہ ہوگا کہ ملکی معیشت کی تباہ حالی کی ذمہ دار ماضی کی حکومتیں ہیں، جنہوں نے نہ صرف ناقص منصوبہ بندی کے تحت بیرونی قرضے لئے، بلکہ اس دولت کو کرپشن میں ضائع کر دیا۔ آج ماضی کے قرضوں کو مع سود واپس کرنے کا وقت آن پہنچا ہے تو مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

حکومتی عہدیدار یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں گے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہوا کہ وہ ورثہ میں ملی بیمار معیشت کو ٹھیک کر سکے۔ یہ لوگ جو پچھلے چالیس سال سے اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ہیں یہ ملکی معیشت کو چالیس برسوں میں ٹھیک نہیں کر سکے تو اب ان پر کیسے دوبارہ اعتماد کیا جا سکتا ہے۔حکومت مخالف اتحاد کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی جو پچھلے گیارہ برسوں سے اقتدار میں ہے اس نے سندھ میں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی ہیں،بلکہ سندھ کے عوام زبوں حالی کا شکار ہیں۔

مزید برآں یہ سیاسی جماعتیں تحریکوں, ہڑتالوں اور ہنگاموں سے بدنظمی اور افرتفری پیدا کرکے نہ صرف اپنی کرپشن سے توجہ ہٹانا چاہتی ہیں،بلکہ ملکی معیشت کو مزید دگرگوں کرنا چاہتی ہیں۔ان سیاسی جماعتوں کا مسئلہ کمزور معیشت،مہنگائی اور بیروزگاری نہیں، بلکہ لوٹی ہوئی ملکی دولت کا بچاؤ اور اپنی اولادوں کا سیاسی مستقبل ہے۔یہ تحریک عوام کے لئے نہیں، بلکہ حکومت کو دباؤ میں لا کر احتساب سے بچنا اور اپنے لئے این آر او حاصل کرنا ہے۔

ان تمام زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن اگر اپنی تحریک کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو تحریک کے سرخیلوں کو بیمار معیشت اور مہنگائی جیسے عوامی مسائل کے ساتھ ساتھ سب کے لئے یکساں احتساب کا نعرہ لگانا ہوگا تاکہ حکومتی بیانیہ کا توڑ ہوسکے، جو موجودہ حالات میں مشکل نظر آتا ہے۔ماضی کی حکومت مخالف سیاسی تحریکوں کا تجزیہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت کے اولین ایک دو سال میں حکومت مخالف تحریکوں کو کم عوامی پذیرائی ملتی ہے۔ تحریک کے لئے جون کے مہینے کا انتخاب جب سورج آگ برسا رہا ہوتا ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔

حکومت نیب کے ذریعے مریم نواز اور بلاول بھٹو خلاف جاری تحقیقات کے عمل کو تیز کرکے جوابی وار کر سکتی ہے۔موجودہ معروضی حالات میں بنا سوچے سمجھے اور جلد بازی میں چلائی گئی اپوزیشن کی تحریک ناکام بھی ہو سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم