سیاسی مرض اور علاج!

سیاسی مرض اور علاج!
سیاسی مرض اور علاج!

  



پاکستان کے عوام رفتہ رفتہ سیاسی صورت حال سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں، بلکہ فی الحقیقت ہو چکے ہیں۔ اس نظام کے اندر قومی انتخابات کولہو کے بیل جیسی مشق ہے۔ ایک ہی دائرے میں گھومتے جانا اور منزل کا کوئی اتا پتا نہ ملنا۔ قدم تیز تر اور سفر آہستہ ترین!موجودہ سیاسی سسٹم، جو قیام پاکستان سے رائج چلا آتا ہے، کا یہ سارا چکر ہی قومی و ملکی مزاج کے برعکس اور بربنائے معاشرت، عصری تقاضوں کی رو سے آگے بڑھنے کے منافی ہے۔ اگر ہم مزید ایک ہزار برس انہی راستوں پر گھومتے پھرتے رہے تو بھی منزل مراد دکھائی دینے والی نہیں۔

محرومی کے زخم گہرے ہوتے جاتے ہیں اور طبقاتی کشمکش کے امکانات قومی،ً امراء اور غرباء کی درمیانی خلیج آئے روز وسیع سے وسیع ہو رہی ہے، جس کا نتیجہ بے حد تباہ کن ہو گا۔ زرداروں اور نو دولتیوں، جن کا دین و ایمان ہی پیسہ ہے، کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس کے باوجود ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور اگر واقعی تناسب کشید کیا جائے تو لاکھ میں شاید ایک! اصل پاکستانی تو خطِ غربت کے قریب یا خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزارتے چلے آتے ہیں۔ کسی کا کوئی پُرسان حال نہیں۔

وڈیروں، لٹیروں، افسر شاہی، ذخیرہ اندوزوں، شیطان صفت انسانوں اور بدکرداروں کے لئے تو پاکستان واقعی ایک جنت ہے، مگر اصل پاکستانیوں کے لئے جہنم سے بھی بدتر!! کیا پاکستان، دنیا کے نقشے پر موجود ایک دوزخ ہے؟ نہیں اس جنت کو دوزخ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ دنیا میں بہشت بریں کہ جس پر آلِ قارون و ہامان پوری طرح قابض ہیں!

غور طلب سوال یہ ہے کہ پاک وطن کو اب بھی جنت بنایا جا سکتا ہے؟ تلخ حقیقت یہ ہوگی کہ کون بنائے؟ مکروہ شکلوں نے تو دیس کا روپ اور رونق لوٹی، وہ کب اور کیوں چاہیں گے کہ اس کا چہرہ نکھر جائے۔ انہوں نے بربادی میں پورا حصہ ڈالا ہے، اب آبادی میں کسی صورت نہیں ڈالیں گے۔جمیل مرزا ایک مخلص اور سچے پاکستانی ہوتے ہیں، مگر شاید ان کا کافی وقت فرانس میں بھی گزرتا ہے۔

انہوں نے ”روشن پاکستان کا منشور الیکشن“ نام سے ایک دو ورقی پمفلٹ میں پاکستان میں برائیوں کی جڑ موجودہ الیکشن سسٹم کو قرار دیا ہے اور اس کا حل متناسب نمائندگی دیا ہے، وہ بالکل درست کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست نہیں تجارت ہو رہی ہے۔ ووٹر نہ چاہتے ہوئے بھی بکتے ہیں۔ ایک حلقے کا ناپسندیدہ ترین آدمی محض سرمائے، دھونس دھاندلی، تھانہ کچہری اور بدمعاشی و سینہ زوری کے بل بوتے پر پسندیدہ اور مقدس ایوان میں پہنچ جاتا، جبکہ اس کا منشور فقط ”پیسہ لگاؤ اور پیسہ کماؤ“ ہوتا ہے۔ ایک روپے کے عوض ہزار، لاکھ بلکہ کروڑ!

جمیل مرزا صاحب نے بیماری ہی کو تشخیص نہیں کیا، بلکہ علاج بھی دریافت کیا ہے۔ مسائل کا علاج تلاشنے سے قبل ان کا سبب جاننا ضروری ہوتا ہے۔ ایک بات بہرحال طے ہے کہ انتخابات میں اصل دھاندلی الیکشن بوتھ سے پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ اسے سسٹم بدلے بغیر کوئی قانون یا بائیو میٹرک سسٹم نہیں روک سکتا۔ اس کا واحد حل متناسب نمائندگی، الیکشن سسٹم ہے۔ برادری سسٹم، خرید و فروخت، اثر و رسوخ، دھونس دھاندلی، نوکریوں کی بندر بانٹ، بجلی کے کھمبوں اور سینہ زوری کا واحد علاج ایک ہی ممکن ہے اور وہ ہے متناسب نمائندگی!بیماری کی تشخیص اور علاج صد فیصد درست! غور طلب پہلو یہ ہے کہ نسخہ میسر کیسے اور کیونکر آئے گا؟

اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ ہر وہ شخص جو قوم، وطن اور انسان کی دوستی کا دم بھرتا ہے، جہاں تک اس کے لئے ممکن ہو، انقلابی فکر و عمل کو عام کرے! بھلا وہ بھی کوئی انسان ہے، جو اپنے ملک اور آئندہ نسل کے لئے نہ سوچتا ہو!

مزید : رائے /کالم


loading...