ْْْقصہ دو سیاسی فلموں کا

ْْْقصہ دو سیاسی فلموں کا
 ْْْقصہ دو سیاسی فلموں کا

  



میڈیا یا صحافت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہاں پر چھٹیاں کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہوتیں۔ سرکاری، پرائیویٹ اورخاص طور پر تعلیمی شعبے میں سال میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب کسی نہ کسی بہا نے چھٹی مل ہی جا تی ہے۔ کبھی گرمیوں کی چھٹی،کبھی سردی کی اور کبھی خزاں کی چھٹیاں ملتی رہتی ہیں مگر صحافت میں پو رے سال میں گنی چنی چھ، سات چھٹیاں ہی ہو تی ہیں اور یہ چھٹیاں بھی اس شرط کے ساتھ مشروط ہو تی ہیں کہ ان دنوں میں آپ کسی خاص اسائنمنٹ پر کام نہ کر رہے ہوں، ورنہ عید پر بھی چھٹیاں نصیب نہیں ہوتیں۔ اس مرتبہ عید کے لئے سرکاری طور پر چار چھٹیوں کا اعلان کیا گیا تو اپنے کام کا حساب کتاب کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مجھے عید کی دو چھٹیاں ہی مل رہی ہیں۔

خیر ان دو چھٹیوں کو ہی غنیمت جانتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا کہ ان چھٹیوں میں بالی ووڈ کی کئی ایسی اہم فلموں کو دیکھ لیا جائے جو میں اپنی مصروفیات کی بنا پر دیکھ نہیں پایا، مطالعے کا سلسلہ تو تقر یبا روز ہی چلتا رہتا ہے، مگر اچھی فلموں کو دیکھنے کی پہلی اور بنیا دی شرط یہی ہو تی ہے کہ آپ ذہنی طور پر بھی ری لیکس ہوں اسی ذہنی فراغت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے مطالعے اور فلموں کے رسیا دوست حسین جاوید افروز سے رہنمائی لی تو انہوں نے میرے لئے جو فلمیں تجویز کیں ان میں دو فلمیں ایسی تھیں جن کے موضوعات مکمل طور پر سیاسی تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ قارئین کو بھی ان دو سیاسی فلموں کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کروں۔

اس حوالے سے پہلی فلمThe Accidental Prime Minister یعنی ”ایک حادثاتی وزیر اعظم“ اس سال جنوری میں منظر عا م پر آئی۔یہ فلم بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کے 2004ء سے 2008ء تک میڈیا ایڈوائزر رہنے والے سنجے با رو کی لکھی ہوئی کتاب پر مبنی ہے۔ میں نے اس کتاب کا مطا لعہ کر رکھا تھا اس لئے فلم کا لطف دوبالا ہو گیا۔ اس فلم کی ہدایت کاری وجے رتناکر نے کی۔جبکہ سنجے با رو کا کردار اداکار اکشے کھنہ اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا کردار مشہور اداکار انوپم کھیر نے انتہائی خوبصورتی سے ادا کیا۔

سنجے بارو کے چلنے پھرنے، بات چیت کرنے کے انداز سے تو ہم واقف نہیں مگر انوپم کھیر نے جس طرح من موہن سنگھ کے کردار کو نبھایا، فلم میں ان کی بات چیت، چلنے، پھرنے کا انداز بالکل من موہن سنگھ جیسا دکھائی دیا۔اس فلم میں سو نیا گا ندھی کا کردار سوزین برنٹ نے ا دا کیا، تاہم صاف دکھائی دے رہا تھا کہ سوزین برنٹ سونیا گا ندھی کے انداز کو اپنانے کی نا کام اور بنا وٹی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ فلم چونکہ سنجے با رو کی کتاب پر ہی بنائی گئی تھی اسلئے اس میں من موہن سنگھ کے دس سالہ دور کے اتار چڑھاو کو پیش کیا گیا۔ خاص طور پر من موہن سنگھ کے دوسرے دور حکومت (2009-2014) کے دوران کرپشن کے ایسے ایسے الزامات سامنے آئے جن کے باعث پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوتی رہی۔2جی اسکینڈل، کوئلہ اسکینڈل،سپکٹرم اسکینڈل اور کامن ویلتھ گیمز اسکینڈل سمیت کئی میگا کرپشن کے اسکینڈ لز سامنے آئے اور من موہن سنگھ خاموشی کے ساتھ قومی دولت کی اس لوٹ مار کو دیکھتے رہے۔

من موہن سنگھ کی اپنی ذات پر تو کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا مگر ان پر یہی تنقید کی جاتی تھی کہ وہ اپنی کابینہ کے کئی وزرا کی کرپشن روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔کتاب کی طرح فلم میں بھی من موہن سنگھ کو مکمل طور پر بے قصور مگر ایک بے بس وزیراعظم کے طور پر پیش کیاگیا ہے جس کے پاس اختیارات نا م کی کوئی چیز نہیں تھی۔ من موہن سنگھ کے لئے اصل مشکلات ان کی دوسری میعاد 2009-2014ء کے دوران پیدا ہوئیں۔

من موہن سنگھ کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگنا شروع ہوئے تو من موہن سنگھ نے ان الزامات پر ایکشن لینے کی بجائے میڈیا میں یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ ان کے وزیر بیشک کرپٹ ہیں مگر وہ خود تو ایماندار انسان ہیں۔ من موہن سنگھ کے اس رویے نے ان کی ساکھ کو بہت زیا دہ نقصان پہنچایا کتاب کی طرح فلم سے اندازہ ہو تا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کے دفتر میں کیسے پرانے بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ ہر اہم پالیسی فیصلے پر اثر انداز ہو رہا ہوتا ہے۔

من موہن سنگھ کے میڈیا کے مشیر کے طور پر سنجے بارو کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی تھی کہ وزیراعظم من موہن سنگھ کے کام کو میڈیا میں زیا دہ سے زیا دہ اجا گر کیا جائے مگر من موہن سنگھ با ر با ر اصرار کرتے کہ بے شک انکے کاموں کو اجا گر کیا جائے مگر اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کسی بھی حالت میں گاندھی خاندان(سونیا اور راہول)کی اہمیت ان سے کم نظر نہ آئے۔

من موہن سنگھ کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو چکی تھی کہ ان کا پورا سیاسی وجود صرف سونیا گاندھی ہی کی بدولت ہے اِس لئے سونیا کو کسی بھی بات پر ناراض کرنے کا مطلب ہو تا کہ من موہن سنگھ سیاسی خود کشی کرنے جا رہے ہیں۔اس جذباتی اور نفسیاتی کیفیت کو اداکار انوپم کھیر نے انتہائی خوب صورت طر یقے سے ادا کیا۔من موہن سنگھ کا کردار اس نفاست سے پیش کر کے انوپم کھیر نے ثابت کر دیا کہ وہ واقعی ہی بہت منجھے ہوئے ادا کا ر ہیں۔

دوسری ا ہم فلم ”ٹھا کرے“ تھی یہ فلم بھی اس سال جنوری میں منظر عام پر آئی۔ ”ٹھاکرے“ فلم، مشہور بھارتی سیاست دان اور شیو سینا کے بانی ”بال ٹھاکرے“ کی سیاسی زندگی پر بنائی گئی ہے۔ ابھیجت پنسے کی اس فلم میں بال ٹھاکرے کا کردار مشہور اداکار نواز الدین صدیقی نے ادا کیا ہے۔بھارتی سیاست پر ذرا سی بھی نظر رکھنے والا کو ئی بھی طالب علم جانتا ہے کہ با ل ٹھاکرے بھارت کی ایک انتہائی متنازعہ شخصیت رہے ہیں۔

بال ٹھاکرے کی مسلمان دشمنی، انتہا پسند ہندو نواز سیاست، با بری مسجد گرانے میں شیو سینا کا کردار، ممبئی کے مسلم کش فسادات میں کردار کسی سے بھی ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے۔مگر سچی بات ہے اس فلم میں با ل ٹھاکرے کی سیاست کے ان منفی پہلووں کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔نوازالدین صدیقی کے کر دار میں بال ٹھاکرے کو ایک ایسا شخص دکھا یا گیا ہے جو اخبا روں میں سیاسی اور طنز یہ کارٹون بنانے میں خاص مہا رت رکھتا ہے اور پھر مہا راشٹرا اور خاص طور پر ممبئی میں مراٹھیوں کے حقوق کے لئے اپنی آواز بلند کرتا ہے، اپنا اخبار نکالتا ہے اور پھر اپنی سیاسی جما عت ”شیو سینا“ قائم کرتا ہے جو مر اٹھیوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ”ہندوتوا“ کو بھی فروغ دینے کے لئے بنا ئی جا تی ہے۔

فلم میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ با ل ٹھاکرے تو ممبئی کے مسلمانوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواشمند تھا مگر مسلمان اس کے لئے تیار نہیں تھے۔فلم میں پاکستان کے مشہور کرکٹر جاوید میاں داد کے ساتھ بال ٹھاکرے کی ملاقات بھی دکھائی گئی ہے، جس میں جا وید میاں داد، بال ٹھاکرے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو آپس میں کر کٹ میچ کھیلنے چاہئیں، مگر با ل ٹھاکرے اس پر راضی نہیں ہوتا۔بال ٹھاکرے نے ممبئی میں، جس طرح مسلم کش پا لیسیوں کو فروغ دیا اس کو کا فی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے۔

جہاں تک نواز دین صدیقی کی اداکاری کا تعلق ہے انہوں نے ایک منجھے ہوئے اداکار کی صورت میں بال ٹھاکرے کی بات چیت اور اٹھنے بیٹھنے کے انداز کو بھر پور طریقے سے نبھا یا،مگر سچ پو چھیں تو اس فلم میں با ل ٹھاکرے کی حقیقت کو صحیح طرح سے بیان نہیں کیا گیا اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے کسی اداکار نہیں،بلکہ ہدایت کار ابھجیت پنسے کو ہی ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے،تاہم اس کے باوجود اس فلم کو دیکھنے کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فلم تو دیکھنے کے قابل ہی نہیں۔ The Accidental Prime Minister اور ”ٹھاکرے“ فلم دیکھنے کے بعد میں یہی کہوں گا کہ جس بھی شخص کو بھارتی سیاست سے دلچسپی ہے وہ اپنی فرصت میں ان دونوں فلموں کو ضرور دیکھے۔

مزید : رائے /کالم