ڈاکٹر انور سجاد بھی رخصت ہوئے

ڈاکٹر انور سجاد بھی رخصت ہوئے
ڈاکٹر انور سجاد بھی رخصت ہوئے

  



مجھے اس خبر پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ ڈاکٹر انور سجاد کی نماز جنازہ میں بہت کم لوگ موجود تھے، حتیٰ کہ ادیب و شاعر، فنکار و دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد بھی انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ انور سجاد ایک عرصے سے لاہور میں بسترِ علالت پر تھے۔ اس وقت کوئی ان کی عیادت کو نہیں جاتا تھا تو مرنے پر ان کے جنازے میں شامل ہونے کا وقت کس کے پاس تھا اور وہ بھی عید کے تیسرے دن،جب میل ملاپ جاری ہوتا ہے۔ دعوتوں میں جانے کی تیاری کرنا ہوتی ہے۔

گھر آئے مہمانوں کی آؤ بھگت سے فرصت نہیں ہوتی۔ ہم مان کیوں نہیں لیتے کہ ایک بے حس معاشرے کے فرد ہیں۔ یہاں جو زندگی بھرچراغ جلائے، ادب و فن کو اپنی سانسوں سے سینچے، وہ ناقدریئ عالم کا شکار ضرور ہو گا۔ ہم نہ بیمار پڑنے پر اپنے ایسے نابغوں کی تیمارداری کرتے ہیں، نہ ان کے علاج معالجے پر توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی انہیں عزت و تکریم سے رخصت کرتے ہیں۔ ایک بے توقیری، بے قدری اور بے حرمتی ضرور ایسی شخصیات کا مقدر بنتی ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ تو کچھ زیادہ ہی بے اعتناعی برتی گئی۔

چند ماہ پہلے کسی صحافی نے یہ خبر بریک کی کہ ڈاکٹر انور سجاد کا سرکاری وظیفہ بند کر دیا گیا ہے اور وہ بسترِ مرگ پر ہیں، لیکن انہوں نے کہا ہے وہ کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کریں گے۔ میڈیا پر خبریں چلیں تو حکومت کو کچھ ہوش آیا اور مالی امداد بحال کر دی، جو درحقیقت ان کی وہ تنخواہ تھی جو وہ آرٹ کے شعبے میں خدمات پر حاصل کرتے تھے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت کو جب ان کی بیماری کا پتہ چل ہی گیا تھا تو ان کے علاج پر توجہ دی جاتی۔ ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بنا کر ان کا طبی معائنہ کرایا جاتا اور اس کی سفارشات پر ان کا علاج شروع ہوتا، مگر ”رات گئی بات گئی“ کے مصداق وظیفہ بحالی کا اعلان کرکے حکومتی محکمے پھر غفلت کی نیند سو گئے، تاوقتیکہ ان کی روح بے چارگی کے عالم میں پرواز نہیں کر گئی۔

ڈاکٹرانور سجاد جن کا پورا نام سید محمد سجاد انور علی بخاری تھا، ایک ہمہ جہت انسان تھے۔ پاکستان میں بہت کم ایسی شخصیات گزری ہیں، جنہوں نے آرٹ کے شعبے میں اس قدر مختلف النوع کام کیا ہو۔ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہونے کے باوجود ڈاکٹر انور سجاد کی زندگی ادب و فن کے شعبوں میں گزری۔ وہ بیک وقت ناول نگار، مصور، افسانہ نگار، رقاص، براڈ کاسٹر،ڈرامہ نویس اور نقاد تھے۔ ایک زمانے میں ان کے افسانے ادبی لحاظ سے رجحان ساز ثابت ہوئے۔انہوں نے بیک وقت علامت اور روایت کو اپنے افسانوں میں برتا اور ایک ایسا نیا افسانہ اردو ادب کو دیا، جس کی پہلے مثال نہیں ملتی تھی۔ وہ بنیادی طورپر ترقی پسندانہ سوچ کے حامل تھے۔

ان کا مزاج بھی ترقی پسند انسان جیسا تھا، وہ پیپلزپارٹی سے بھی اسی لئے متاثر تھے کہ اس نے ملک میں ترقی پسندانہ سوچ کو فروغ دیا۔ وہ پارٹی کے فکری ونگ سے وابستہ رہے اور اپنے طور پر بھی انہوں نے کوششیں جاری رکھیں کہ پاکستان کو طبقاتی نظام کی جکڑ بندیوں سے آزاد کرایا جائے، مگر جس طرح ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ ایسے لوگ پارٹیوں میں موجود ”اسٹیٹس کو“ مافیا کے سامنے بے بس اور ناکام ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر انور سجاد بھی ناکام ہوئے۔ بعدازاں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے ادبی و فکری میدان میں مصروف ہو گئے۔ اس میدان میں انہوں نے اپنے آپ کو خوب منوایا۔ مصوری میں انہوں نے شاہکار تخلیق کئے، ڈرامے بھی لاجواب لکھے، پھر ان میں اپنی اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔

ایک زمانے میں میری ان سے لاہور میں ملاقات ہوئی تو مَیں نے ان سے پوچھا کہ ایک قلمکار جب پرفارمنگ آرٹ کے شعبے میں آتا ہے تو اپنے اندر کے تخلیق کار پر کیسے قابو پا کر ڈرامے کے کردار میں ڈھل جاتا ہے، کیا یہ مشکل عمل نہیں؟ مجھے یاد ہے انہوں نے کہا تھا کہ ایک ڈرامہ نگار اگر خود کسی ڈرامے میں ایک کردار کی صورت میں سامنے آتا ہے تو اس کی پرفیکشن عام آرٹسٹ کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ وہ خود کو اس کردار کی نفسیاتی کیفیت میں مکمل طور پر ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مَیں جب کسی کردار میں آتا ہوں تو کئی دن پہلے اس کو خود پر طاری کر لیتا ہوں۔ مَیں نے پوچھا آپ رقاص بھی ہیں، اس کی توجیح کیا پیش کریں گے؟ انہوں نے کیا خوبصورت جواب دیا تھا، میرے اندر ردھم ہے، لیکن میں شاعری نہیں کر سکتا، یہ کمی مَیں رقص کے ذریعے پوری کر لیتا ہوں، رقص اعضاء کی شاعری ہی نہیں، شاعری کا عملی حسن بھی ہے۔یہ ڈاکٹر انور سجاد کے عروج کا زمانہ تھا۔ ان کے پاس بعض اوقات سر کھجانے کا وقت بھی نہیں ہوتا تھا، مگر یہ وقت بہت ظالم ہے، آنکھیں پھیرتا ہے تو سب کچھ ملیا میٹ کر دیتا ہے۔

وحید مراد جیسا مقبول ترین اداکار صرف اس خوف سے خودکشی کرنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ اب لوگ مجھے بھولنا شروع ہو چکے ہیں۔ کل کوئی مجھے پہچانے گا بھی نہیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے لاہور میں ڈاکٹر سلیم اختر کا انتقال ہوا۔ لوگ ان کی کتابوں کو یاد رکھے ہوئے تھے، انہیں بھول گئے تھے، حالانکہ وہ اپنے گھر میں بسترِ علالت پر پڑے تھے۔ یہاں ”آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل“ والا معاملہ ہے۔ کوئی چلتا پھرتا نظر آتا رہے تو ہم اسے یاد رکھتے ہیں، آنکھوں سے اُوجھل ہوجائے یا بیماری کی وجہ سے بستر تک محدود ہو جائے تو اس کی یاد بھی نہیں آتی۔

لاہور میں درجنوں ادبی تنظیمیں ہیں، پلاک جیسے ادارے ہیں، مگر ان کی نگاہ ہمیشہ آج کے کسی بڑے آدمی پر ہی پڑتی ہے، جس کے پاس عہدہ بھی ہو اور اختیار بھی، نیز وہ ان کے کچھ کام بھی آ سکے۔ کیا یہ مقام افسوس نہیں کہ جب ڈاکٹر انور سجاد کی بیماری کے بارے میں سب کو معلوم ہو گیا تھا تو ان کی زندگی میں ہی ایک بہت بڑی تقریب منعقد کی جاتی، جس میں انہیں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دیا جاتا اور ساتھ ہی اس موقع پر حکومت اور دیگر ثقافتی ادارے کسی ایوارڈ کا اعلان بھی کرتے۔ ”مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا“ والی کیفیت کب ہماری جان چھوڑے گی۔

اب آپ دیکھیں گے کہ لاہور میں ڈاکٹر انور سجاد کے لئے کتنے تعزیتی ریفرنس منعقد ہوں گے، جن میں ان کی شان بیان کرنے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے جائیں گے، وہ جو اپنی عیادت کے لئے آنے والے ہر شخص کو ویران آنکھوں سے دیکھتا تھا۔ اگر یہ منظر دیکھتا کہ الحمرا ہال میں اس کے لئے ایک یادگار تقریب سجائی گئی ہے تو شاید اسے بھی یہ خوشی ہوتی کہ عمر بھر کی مشقت رائیگاں نہیں گئی اور لوگوں نے ان کی محبت کا اقرار کیا ہے۔

ڈاکٹر انور سجاد نے بیس برس کی عمر میں اپنا پہلا ناول 1955ء میں ”رگ سنگ“ لکھا، جس نے اشاعت کے بعد ادبی حلقوں کو چونکا دیا۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ”استعارے“ 1970ء میں شائع ہوا، جس کے بعد ایک فکشن رائٹر کے طور پر ان کی دھاک بیٹھ گئی۔ پھر پیلی کہانیاں، زرد کونپل، جنم روپ، رسی کی زنجیر، صبا اور سمندر، نگار خانہ کے نام سے کتابیں سامنے آتی گئیں اور ڈاکٹر انور سجاد اپنا نقش جماتے گئے۔ خوشیوں کا باغ ان کی وہ تصنیف ہے،جس نے انہیں چہاروانگ عالم میں مشہور کر دیا۔ اس کتاب میں انہوں نے فکشن کو حقیقت سے اس قدر قریب کر دیا ہے کہ سماج اپنی پوری سچائی کے ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے۔

انہیں 1989ء میں حکومت پاکستان نے تمغہ حسن ِ کارکردگی سے نوازا اور پھر بھول گئی، حالانکہ ان کی ادبی خدمات پر انہیں مزید تمغے بھی ملنے چاہئے تھے۔ ڈاکٹر انور سجاد حالیہ عرصے میں وفات پانے والے لاہور کے تیسرے بڑے ادیب ہیں، ان سے پہلے منو بھائی اور ڈاکٹر سلیم اختر جیسے لاہور کی دنیا بھر میں پہچان بننے والے لاہور ہی نہیں، دنیا چھوڑ گئے۔ جب تک ادب و آرٹ کے شعبے زندہ ہیں،ڈاکٹر انور سجاد کا نام بھی زندہ رہے گا، لیکن آخری عمر میں انہیں جس کسمپرسی کے عالم سے گزرنا پڑا، وہ معاشرے کے لئے شرمناک ہے۔ اپنے محسنوں کو اس طرح بھلانے والا معاشرہ کبھی علمی معاشرے میں نہیں ڈھل سکتا۔

مزید : رائے /کالم


loading...