اللہ تعالیٰ نے میری بیٹی کے لیے جو کیا بہتر کیا:آصف علی

اللہ تعالیٰ نے میری بیٹی کے لیے جو کیا بہتر کیا:آصف علی

  



لندن (آئی این پی)پاکستانی کرکٹر آصف علی کا کہنا ہے کہ بیٹی کا غم اپنی جگہ لیکن وہ اپنی قومی ذمہ داری سے غافل نہیں ہیں، اللہ نے جو بھی کیا میری بیٹی کے لیے بہتر کیا۔بی بی سی کے سوال کے جواب میں ورلڈکپ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بلے باز آصف علی نے کہا کہ انہیں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوران بیٹی کی بیماری کا پتا چلا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل صورتحال میں اہل خانہ اور ان کے مینیجر طلحہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ آصف علی نے بتایا کہ کہ ان کی اہلیہ بچی کو لے کر علاج کے لیے امریکہ بھی گئیں تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے جو بھی کیا وہ ان کی بیٹی کی بہتری کے لیے کیا۔یاد رہے کہ آصف علی کے لیے پچھلے چند ماہ بہت تکلیف دہ تھے کیونکہ ان کی ڈیڑھ سالہ بیٹی کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں جو بعد میں انتقال کرگئیں۔آصف علی آج بھی اپنی بچی کا غم نہیں بھلا سکے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اپنی اس ذمہ داری سے بھی غافل نہیں ہوئے جو انھیں پاکستانی بیٹنگ کو مستحکم کرنے کی صورت میں ملی ہے۔ٹیم میں اپنے رول کے بارے میں آصف علی کہتے ہیں کہ انہیں ٹیم میں اسی لیے رکھا گیا ہے کہ وہ جارحانہ بیٹنگ کریں، اپنا نیچرل گیم کھیلیں اور ان کے رنز ٹیم کے کام آئیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ملک کی نمائندگی نصیب والوں کو ملتی ہے۔آصف علی کا کہنا ہے کہ انھیں انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں ایسی صورتحال میں بھی بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا جب کافی اوورز باقی تھے۔ انھوں نے اس سیریز میں دو نصف سنچریاں بنائیں۔آصف علی ورلڈ کپ کے پہلے اعلان کردہ سکواڈ میں شامل نہیں تھے لیکن انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز میں دو اچھی اننگز نے ان کی ورلڈ کپ کی ٹیم میں شمولیت یقینی بنا دی۔آصف علی کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں زیادہ نہیں سوچ رہے تھے۔ انہیں یہ پتا تھا کہ اگر ورلڈ کپ ان کے نصیب میں لکھا ہوا ہے تو وہ اس میں ضرور کھیلیں گے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...