سپریم کورٹ بار کا 14جون کو عدالت عظمی کے باہر غیر معینہ مدت کیلئے دھرنے کا اعلان 

سپریم کورٹ بار کا 14جون کو عدالت عظمی کے باہر غیر معینہ مدت کیلئے دھرنے کا ...

  



کوئٹہ (این این آئی) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کردہ ریفرنس بد نیتی اور امتیازی سلوک پر مبنیٰ ہے 14جون کو وکلاء سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دیں گے اور ریفرنس کی اعلامتی کاپی جلائیں گے جبکہ پورے ملک میں ہائی کورٹ سمیت دیگر عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائیگا، کوئی ادارہ مقدس گائے نہیں احتسا ب سب کا ہونا چاہیے، قاضی فائز عیسیٰ کو دہشتگردی کے خلاف سینہ سپر اور بلوچستان سے تعلق ہونے کی سزا دی جارہی ہے، قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لینے تک وکلاء پر امن تحریک چلائیں گے جو عدالت کے احاطے تک محدود ہوگی اگر ریفرنس واپس نہ لیا گیا تو سپر یم جو ڈیشل کونسل میں موجود 350کیسز سب کے سامنے لائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفر نس کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین حاجی عطاء اللہ لانگو، بلوچستان بار کونسل کی ایگریکٹو کمیٹی کے چیئر مین راحب بلیدی، ہائی کورٹ با ر ایسوسی ایشن کے جنر ل سیکرٹری نادر چھلگری، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سنیئر نایب صدر اقبال کاسی، کوئٹہ بار کے صدر آصف ریکی، کوئٹہ بار کے جنرل سیکرٹری خوشحال کاسی سمیت دیگر وکلاء نمائندے بھی موجودتھے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ بلوچستان کی تمام وکلاء تنظیموں کا موقف ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس بد نیتی اور امتیازی سلوک پر مبنیٰ ہے حکومت قاضی فائز عیسیٰ کی میڈیا کے ذریعے کردار کشی کر رہی ہے جبکہ ریفرنس میں الزام قاضی فائز عیسیٰ پر نہیں انکی اہلیہ اور بیٹے پر لگائے گئے یہ دونوں افراد خود کفیل اور صاحب حیثیت ہیں تاہم قوی امکا ن ہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے اثاثے ظاہر کرنے میں کوئی ٹیکنیکل غلطی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے قوانین کے مطابق ججز کے خلاف تمام ریفرنسز کی کاروائی اور معلومات  ان کیمرہ اور خفیہ رکھی جاتی ہیں لیکن حکومت نے خود تمام معاملے کو میڈیا میں لیک کیا ہے صدر مملکت اور وزیر اعظم نے خفیہ راز عیاں کر کے آئین کی پاسداری کے حلف کی خلاف ورزی اور سپریم جوڈیشل کونسل کے قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں۔امان اللہ کنرانی نے کہاکہ قاضی فائز عیسیٰ ایسے وقت پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے جب ملک میں آئندہ عام انتخابات ہورہے ہونگے ساتھ ہی انہوں نے 8اگست کے سانحہ پر جس طرح دہشتگرد ی کے خلاف دلیرانہ رپورٹ دی جسے حکومت نے بھی تسلیم کیا ہے انہی باتوں کی وجہ سے انکی شہرت کو خراب کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ریفرنس خالی اور جعلی ہے ججز کے کنڈکٹ 11شقوں میں سے کوئی ایک بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر ثابت نہیں ہوتی نہ ریفرنس کی نقل اب تک انہیں فراہم کی گئی لہٰذا 14جون کو سپریم کورٹ کے باہر علامتی ریفرنس جلائیں گے،سپریم کورٹ کے دروازے کے باہر اس وقت تک دھرنا دیا جائیگا جب تک سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کو خارج یا پھر حکومت اس ریفرنس کو واپس نہیں لیتی چاہے اس عمل میں ایک ماہ لگے یا پھر ایک سال، ہم ثابت قدم رہیں گے اور پر امن تحریک چلائیں گے۔ وکلاء جلاؤ،گھیراؤ، گالم گلوچ سمیت کوئی بھی پرتشدد عمل نہیں کریں گے،انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت تمام ہائی کورٹس کے باہر بھی دھرنے دئیے جائیں گے جبکہ عدالتی کاروائی کابھی بائیکاٹ کیا جائیگا ساتھ ہی وکلاء بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے،انہوں نے کہا کہ ہم آرٹیکل 209کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے کوئی ادارہ مقدس گائے نہیں ہے حکومت اداروں کو آپس میں لڑوانے سے گریز کرے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو چیف جسٹس کے عہد ے سے محروم رکھنے کی ساز ش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے،ہم احتساب کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ان 350ریفرنسز پر بھی سماعت ہونی چاہیے جو سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے سے دائر ہیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم وہ ریفرنس بھی سامنے لائیں گے اور عوام کو بتائیں گے کہ کیسے ایک جج نے اپنی بیوی کو جج لگایا، تین تین بار ججز کی عمر کم کی گئی،کن ججز کے 3,3سو کیسز زیر التواء ہیں،کونسے جج ہیں جو راتوں رات ساہو کار بنے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم

مزید : صفحہ اول


loading...