پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں تشویشانک اضافہ، پولیس کا جاری سرچ آپریشن کاغذی کارروائیوں تک محدود

پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں تشویشانک اضافہ، پولیس کا جاری سرچ آپریشن ...

  



لاہور(رپو رٹ یو نس با ٹھ(پولیس کے پنجاب میں جاری سرچ آپریشن کا غذی کارروائیوں تک محدود‘تھانوں میں کم نفری‘ محدود وسائل‘رواں سال کے پہلے5ماہ کے دوران صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہوا۔2500 سے زائدمردو خواتین اور بچوں کا قتل‘1400سے زائد پراسرار ہلاکتیں‘مبینہ پولیس مقابلوں میں 180 افراد کی ہلاکت‘ڈکیتی مزاحمت پر2پولیس اہلکاروں سمیت 124 مردوخواتین کا قتل‘1500سے زائد خود کشیاں‘ ٹریفک حادثات میں 1522سے زائد ہلاکتیں‘آتشزدگی کے واقعات میں 300سے زائد ہلاکتیں‘ خون میں ڈوبا مئی 2019گزر گیا۔2019کے پہلے5ماہ کے دوران سر کی قیمت والے109دہشتگردوں اور295اشتہاریوں کے ساتھ‘9بڑے اشتہاری گروپوں اور74ہزار سے زائد اشتہاریوں نے لا ہور سمیت پنجاب بھر میں اودھم مچائے رکھا جبکہ پولیس انہیں گرفتار کرنے میں بری طرح نا کام رہی۔صرف لا ہور میں 22ہزار سے زائد اشتہاریوں کی گرفتاری پولیس کیلئے چیلنج بنی رہی۔پنجاب بھر میں ڈاکوؤں‘ چوروں‘ منشیات فروشوں اور ناجائز اسلحہ کیخلاف چلائی جانے والی پولیس کی خصوصی مہم بھی کاغذی کاروائیوں تک محدود رہی۔پولیس‘2جرمن باشندوں سمیت پنجاب سے اغوا ہونے والے18اہم افراد کا پتہ لگانے میں ناکام رہی جبکہ پولیس اغوا کے بعد قتل ہونے والے کئی افراد کی لاشیں بھی برآمد کرنے میں ناکام رہی۔ بتایا گیا ہے کہ  2019کے پہلے 5ماہ کے دوران پنجاب میں 15ہزارسے زائد مقدمات درج ہو ئے جبکہ6لاکھ 50ہزارسے زائد درخواستوں پر مقدمات کا اندراج مختلف وجوہات کی بنا پر التوا کا شکار رہا۔2019کے دوران جرائم کم ہونے کی دعوے دار پولیس جرائم پیشہ عناصر کے سامنے بے بس نظر آئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پنجاب میں اغوا اور اغوا برائے تاوان کے مقدمات پچھلے سا ل کی نسبت کم درج ہوئے  ہیں تا ہم پنجاب میں اغوا کی13ہزار سے زائد درخواستیں زیر التوا رہیں۔اغوا کے واقعات میں زیادہ تر جواں سال لڑکیوں کے اغوا رپورٹ ہو رہے ہیں۔لا ہور میں قتل کے225مقدمات درج ہوئے جبکہ پنجاب میں اقدام قتل کے9556سے زائد مقامات رپورٹ ہوئے ہیں۔2019کے پہلے5ماہ خواتین کیلئے بھی کچھ اچھے نہیں گزرے‘ پنجاب میں بداخلاقی کے999مقدمات‘ اجتماعی بداخلاقی کے98مقدمات رپورٹ ہوئے جبکہ2ہزار سے زائدبداخلاقی اور اجتماعی بداخلاقی کے واقعات میں پولیس نے مقدمات درج کرنے کی بجائے مدعیوں اور ملزمان میں صلح کروائی۔لا ہور میں خواتین کے ساتھ بداخلاقی کے175جبکہ اجتماعی بداخلاقی کے14واقعات رپورٹ ہوئے۔لا ہور ٹریفک پولیس کی کارکردگی بھی ضلع پولیس سے مختلف نہ رہی، سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہوئی گاڑیو ں نے 122فراد کو ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سلا دیا جبکہ3ہزارسے زائد افراد عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے۔پنجاب میں گزشتہ5ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 1522سے زائد افراد ہلاک جبکہ32ہزار سے زائد زخمی ہو ئے۔پنجاب میں روزانہ500سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں روزانہ10کے قریب افراد ہلاک جبکہ600کے قریب زخمی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ سال 2019میں جہاں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھی وہیں سٹریٹ کرائم میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوااور ڈکیتی اور چوری کے واقعات کا بازار بھی گرم رہا۔سال 2019 کے پہلے5ماہ میں پنجاب میں ڈکیتی اور راہزنی کے21000ہزارسے زائد مقدمات درج جبکہ80ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ریسکیو ٹیموں کی ناقص کارکردگی کے باعث پنجاب میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات میں 300سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔صرف لا ہوار میں روزانہ10سے12آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پنجا ب پو لیس کے تر جما ن کا مو قف ہے کہ پنجا ب میں امن وامان کی صورتحا ل بہتر ہے  اور جرائم کی شر ح ہر سال بتد ریج کم ہو رہی ہے۔آئی جی پولیس پنجاب کا تمام کرائم پر فوکس ہے اور جس اضلاع میں بھی واردات ہو تی یا کوئی دیگر واقعہ پیش آتاہے وہ فوری نوٹس لیتے ہیں۔

  پولیس 

مزید : صفحہ آخر


loading...