پاکستانی صحافت فروغ پذیر مگر آزادی محدود ہے، امریکی تھینک ٹینک

پاکستانی صحافت فروغ پذیر مگر آزادی محدود ہے، امریکی تھینک ٹینک

  



واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) پاکستان صحافت فروغ پا رہی ہے لیکن اس کی آزادی بہت محدود ہے۔ یہ جائزہ امریکی تھنک ٹینک نے 2019ء کی دنیا بھر کے بارے میں سالانہ رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں باب میں پیش کیا ہے۔ آزادی صحافت کی مجموعی صورتحال کے مطابق پاکستان کو سو میں سے 39پوائنٹس دیئے گئے ہیں اور خاص طور پر ایک بل کا ذکر کیا گیا ہے جو پالیمینٹ میں زیرغور ہے۔ جس کے تحت آن لائن صحافیوں اور اداروں کو خبروں کے اجراء کے لئے لائسنس حاصل کرنے کا پابند بنا دیا جائے گا۔ تاہم فریڈم ہاؤس نے تسلیم کیا کہ آن لائن میڈیا کو کنٹرول کرنے کا معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اس شعبے کے حوالے سے سخت قوانین اور ویڈیوز کی پوسٹنگ کے کڑے ضابطے لاگو کر رہی ہیں۔ چین میں حکومت کی طرف سے نجی ٹیکنالوجی کمپینوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ سنسر کے بغیر اطلاعات کی دستیابی کا سدباب کریں۔ رپورٹ میں صفر سے چار کے اسکیل پر دنیا بھر کے ممالک کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ جس میں صفر بدترین اور چار بہترین مقام رکھتے ہیں۔ اس وقت صفر میں چین، روس، یمن، درجہ ایک میں پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، ایران، عراق، ترکی، مصر، قطر اور عمان رکھے گئے ہیں۔ بھارت، افغانستان، سری لنکا اور بھوٹان دوسرے درجے ہیں۔ اسرائیل، جاپان، اٹلی آسٹریلیا، یونان اور ملائیشیا تین ہیں اور چوتھے بہترین درجے میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، سویڈن، سوئٹرزلینڈ اور ناروے شامل ہیں۔

فریڈم ہاؤس

مزید : صفحہ آخر


loading...