سوڈان میں احتجاج، فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 126ہو گئی

سوڈان میں احتجاج، فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 126ہو گئی

  



نیویارک/واشنگٹن /خرطوم (این این آئی)سوڈان میں حالیہ تشدد کے نتیجے میں 126افرادہلاک ہوگئے،تاہم فوجی حکومت نے ان ہلاکتوں کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ درجنوں افرادہلاک ہوئے ہیں لیکن تعداد سیکڑوں میں نہیں،جبکہ فوجی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حوالے سے جامع تحقیقات کی جائیں گی۔دوسری جانب سلامتی کونسل میں اس تشدد کے خلاف پیش کردہ ایک اعلامیے کو چین نے ویٹو کر دیا ہے۔ اس تناظر میں چین کوروس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس افریقی ملک میں جاری اس تشدد کے خلاف عالمی برداری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان میں ملکی دارالحکومت خرطوم  بدھ کے دن دریائے نیل سے مزید چالیس لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ یوں حالیہ پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 126تک جا پہنچی ہے۔سوڈان میں بحالی جمہوریت کے لیے جاری مظاہروں میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد126 ہو گئی، عید کے روز دارالحکومت خرطوم میں فوجی گاڑیاں گشت کرتی رہیں، ہوائی فائرنگ ہوتی رہی اور اکثر سڑکیں سنسان رہیں۔ اطلاعات ہیں کہ فوج کی جنجوید ملیشیا فورس کے اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔ سوڈان کی جنجوید ملیشیا پر دارفور کی لڑائی کے دوران بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات لگتے رہے ہیں۔سینٹرل کمیٹی آف سوڈانی ڈاکٹرز نے پچھلے دو روز سے جاری پرتشدد واقعات کی خبروں کے بعد بدھ کے روز ان کے فیس بک پیج پر ہلاکتوں کی تعداد126 بتائی ہے،عینی شاہدین کے مطابق خرطوم میں فوجی وردیوں میں ملبوس مسلح افراد کے ٹولے لوگوں کو دھمکا رہے ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس ہے اور وہ عید جیسے موقع پر اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے جبکہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ فوجی حکام نے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ بند کردیا ہے جبکہ خرطوم ایئرپورٹ پر کئی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔۔ مظاہرین  کا الزام ہے کہ سوڈان کے جرنیل فوجی اقتدار کو غیرآئینی اور غیر قانونی طول دینے کے لیے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ادھر فوجی سربراہ نے کہا کہ وہ استحکام کی خاطر مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے باوجود ملکی فوج دارالحکومت خرطوم میں جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔دوسری جانب سلامتی کونسل میں اس تشدد کے خلاف پیش کردہ ایک اعلامیے کو چین نے ویٹو کر دیا ہے۔ اس تناظر میں چین کوروس کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس افریقی ملک میں جاری اس تشدد کے خلاف عالمی برداری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مزید : عالمی منظر