ہیڈ سد ھنائی ، شہریوں پرپولیس کا لاٹھی چارج ، دونوجوانوں نے دریا میں چھلانگ لگا دی 1جاں بحق

ہیڈ سد ھنائی ، شہریوں پرپولیس کا لاٹھی چارج ، دونوجوانوں نے دریا میں چھلانگ ...

  



کبیروالا+اڈا کوٹ بہا در+بارہ میل+ کوٹ اسلام نامہ نگار+نمائندہ پاکستان+سپیشل رپورٹر)” ڈیک چلانے کے مبینہ جرم میں“ ہیڈ سدھنائی پکنک پوائنٹ پر عید کے دوسرے روز تفریحی کےلئے آنے والے نہتے شہریوں پر پولیس کا بیہمانہ لاٹھی چارج کیا، لاٹھی چارج سے بھگدڑ مچ گئی، پو لیس لاٹھی چار ج سے بچنے کے لئے 2 نوجوانوں نے دریائے راوی میں چھلانگ لگا دی،ایک نوجوان کو مقامی افراد نے بچا لیا،جبکہ دوسرا نوجوان گہرے پانی میں ڈوب گیا،تاحال نعش نہ مل سکی،پانی کا تفصیل کے مطابق عید کے دوسرے روز وہاڑی کا رہائشی نو جوان اللہ دتہ اپنی فیملی کے ساتھ ہیڈ سدھنائی پر تفریح کے لئے(بقیہ نمبر31صفحہ7پر )

آیا ہوا تھا، دوران پکنک اچانک پو لیس کی بھاری نفری نے ان پر لاٹھی چارج کرنا شروع کر دیا جس پر وہاں لو گوں میں بھگدڑ مچ گئی دوران بھگدڑ اللہ دتہ اور اسکے رشتہ دار نو جوان نے پو لیس کے لاٹھی چارج سے بچنے کے لئے دریا میں چھلانگ لگا دی ،ایک نو جوان کو لو گوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کاروائی کرتے دریا سے نکال لیا مگر اللہ دتہ کو پانی کا تیز بہاﺅ اپنے ساتھ بہاتا لے گیا جس کی تلا ش رات گئے تک جاری رہی مگر در میانی شب تک اسکی نعش نہ مل سکی تھی، پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ پکنک پارٹی مبینہ طور پرڈیک چلا کر لاوڈ ایمپلی فائرایکٹ کی خلاف ورزی کر رہی تھی،جن کے بارہا منع کرنے کے باوجود نہ رکنے پر پولیس لا ٹھی چارج کر نے پر مجبور ہو ئی،عینی شاہدین کے مطابق یہ لاٹھی چارج تھانہ اروتی کی پولیس نے کیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق کبیروالا پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا، جب کہ کبیروالا پو لیس کا کہنا ہے کہ یہ واقع ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ اروتی پولیس نے کیا ہے، واضح رہے کہ دریا کا ایک کنارہ ضلع خانیوال اور دوسرا ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی حدود میں ہے، جب کہ ڈو بنے والے نوجوان کی نعش ڈھونڈنے کی بجائے ضلع ٹو بہ ٹیک سنگھ پو لیس اور ضلع خانیوال پو لیس ایک دوسرے پر لاٹھی چارج کر نے کے الزاما ت عائد کرتے اپنی حدود کا تعین کر نے کی بحث میں لگے ہو ئے ہیں اور کو ئی تھانہ واقعہ کی ذمیہ داری قبول کر نے پر تیا ر نہ ہے ۔

لاٹھی چارج

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...