تاریخی پہاڑ کڑاکڑ میں لگی ہوئی آگ پانچویں روز بھی نہ بجھ سکی

تاریخی پہاڑ کڑاکڑ میں لگی ہوئی آگ پانچویں روز بھی نہ بجھ سکی

  



صوابی(بیورورپورٹ)ضلع صوابی اور مردان کے حدود میں واقع تاریخی داستان یوسف خان شیر بانو کے معروف پہاڑ کڑا مار پر لگی ہوئی آگ پانچویں روز میں داخل ہو گئی ۔ آگ بجھانے کے لئے پاک آرمی کے این ڈی ایم اے ہیلی کاپٹروں نے باقاعدہ طور پرامدادی کارروائی میں حصہ لے کر آپریشن کاآغاز کیا اور ہیلی کاپٹر سے پہاڑ پر پانی پھینک کر آگ پر قابو پالیا جارہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر صوابی سلمان لودھی و دیگر ضلعی انتظامیہ صوابی اور مردان کی نگرانی میں ریسکیو 1122، ٹی ایم اے ، محکمہ جنگلات اور دیگر ادارے آگ بجھانے کے لئے پوری طرح کارروائی میں مصروف ہے ۔ آگ بجھانے کے لئے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیا گیا 80فی صد تک آگ پر قابو پالیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق کڑامار پہاڑ پر پیر کے روز پر اسرار طور پر آگ لگی تھی یہ پہاڑ مردان کے علاقہ رستم ، گڑیالہ اور مچئی سے ہوتا ہوا صوابی کے علاقہ آدینہ ، اسماعیلہ ، شیوہ ، کالو خان ، شیر درہ تک تقریباً پندرہ کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے یہ انتہائی دشوار گزار پہاڑ ہے اس میں ہزاروں کی تعداد میں قیمتی درخت نندراور شیشم و دیگر کے علاوہ نایاب پرندے بھی موجود ہیں آگ سے کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی درختوں کے علاوہ پرندے چرندے بھی جل گئی اسی طرح محکمہ جنگلات کے علاوہ وائلڈ لائف کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے ۔ اس موقع پر ڈی سی صوابی سلمان لودھی اور اسسٹنٹ کمشنر رزڑ لاہور ضلع صوابی تابندہ طارق نے بتایا کہ 80 فی صد آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور بہت جلد ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ پر پوری طرح قابو پالیا جائیگا ریسکیو1122مردان اور نوشہرہ کے علاوہ ٹی ایم ایز ، محکمہ مال ، محکمہ جنگلات اور دیگر ادارے آگ بجھانے کے کارروائی میں بھر پور حصہ لے رہی ہے ۔ چونکہ یہ دشوار گزار پہاڑ ہے اس لئے آگ بجھانے پر قابو پانے میں دشواری کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود ریسکیو اہلکار اور دیگر اداروں کے لوگ پہاڑوں پر چڑھ کر آگ بجھانے میں مصروف عمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈی سی صوابی سلمان لودھی ان تمام کارروائیوں کی بذات خود نگرانی کر رہے ہیں اور ان کو لمحے لمحے کی رپورٹ دی جارہی ہے ضلع صوابی کی پوری انتظامیہ کارروائی میں مصروف عمل ہے ۔ دریں اثناءٹوبیکو ڈیلرز ایسو سی ایشن کے صوبائی رہنما محمد اقبال خان نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ کوہ کڑا مار پر ایک سازش کے تحت آگ لگائی گئی ہے کیونکہ اس میں بلین ٹریز سونامی منصوبے کے تحت لاکھوں درخت لگائے گئے تھے۔ اور اس میں مبینہ کروڑوں روپے کرپشن کو چھپانے کے لئے آگ لگائی گئی ہے اور اس کی تحقیقات کے لئے اپوزیشن کے رہنما سردار حسین بابک اور سابق وزیر اعلی اکرم درانی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جس کی رپورٹ میں کروڑوں روپے کی کرپشن کاذکر کیا گیا ہے انہوں نے اس حوالے سے قومی احتساب بیورو اور دیگر اداروں سے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی جنگلات اور وائلڈ لائف کو تباہ کرنے میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا #

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...