دوگروپوں میں فائرنگ، 10افراد قتل، 17زخمی، وزیر اعلی، آئی جی کا نوٹس، 8ملزم گرفتار

دوگروپوں میں فائرنگ، 10افراد قتل، 17زخمی، وزیر اعلی، آئی جی کا نوٹس، 8ملزم ...

  



ملتان، جلالپور پیروالہ (وقائع نگار،نامہ نگار) دیرینہ دشمنی پر، جلالپور پیروالہ شہر سے محض 10 منٹ کی دوری پر نواحی علاقہ بستی جعفریں میں عید کے نماز عید کے بعد دو گروہوں کے درمیان بے دریغ فائرنگ کے نتیجہ میں 10 افراد جاں بحق جبکہ 17 زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے یہ اندوہناک واقعہ بستی جعفریں کے معروف سیاسی و سماجی کارکن اور ٹرانسپورٹر ملک ممتاز عرف کالا جعفر کے گروپ کی ملک غلام نازک جعفر کے گروپ اور ڈیہڑ برادری سے چلی آرہی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ پولیس تھانہ صدر جلالپور میں اختر عباس کی مدعیت میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق ملک ممتاز عرف کالا جعفر اپنے دو بیٹوں سمیت 20 سے زائد ساتھیوں کے ہمراہ عید نماز کی ادائیگی کے بعد گھر کی طرف پیدل روانہ ہوا تو راستے میں پہلے سے گھات لگائے علی نواز‘ سلیم‘ خرم‘ اظہر‘ نذر‘ جواد‘ حسیب‘ حنیف‘ صدام‘ یٰسین اور غلام جعفر سمیت کلاشنکوف و دیگر اسلحہ سے لیس22 افراد‘ جن میں سے 5 نامعلوم افراد تھے‘ نے ندھا دھند ممتاز عرف کالا جعفر اور اس کے ساتھیوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں ممتاز عرف کالا جعفر‘ اپنے 11 سالہ بیٹے عصمت اللہ‘ سیکیورٹی گارڈ عاقب جاوید اور دیگر ساتھیوں اور رشتہ داروں شوکت علی‘ اختر‘ راحت اور شفقت علی سمیت موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا‘ جبکہ جوابی فائرنگ کے نتیجہ میں حملہ آور گروپ کے بھی تین افراد ماہی وال ڈیہڑ‘ اقبال عرف بپی ڈیہڑ اور غلام عباس جعفر مارے گئے۔ تاہم غلام عباس جعفر کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ غلام عباس حملہ آوروں میں شامل نہ تھا‘ وہ راہ چلتے فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوا‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ممتاز کالا جعفر گروپ نے غلام عباس کا نام اس لیے ایف آئی آر  میں ڈلوایا کیونکہ اس کی رشتہ داری ملک غلام نازک جعفر سے ہے جو کہ ممتاز عرف کالا جعفر کا بڑا مخالف ہے‘ دوسری جانب ایف آئی آر میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس واقعہ کی تمام تر منصوبہ بندی ملک غلام نازک جعفر نے کی جبکہ ملک غلام نازک جعفر کے بیٹوں اور قریبی رشتہ داروں سمیت اس کے بھتیجے سابق نائب ناظم یونین کونسل درآب پور ملک سلیم جعفر ایڈووکیٹ کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس تھانہ صدر جلالپور پیروالہ نے 5 نامعلوم افراد سمیت کل 22 ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعہ 7 سمیت تعزیرات پاکستان کی دفعات 302, 324, 109, 148, 149 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ملک غلام نازک جعفر کا اس واقعہ سے تعلق نہ ہے بلکہ تین چار سال قبل عابد ڈیہڑ نامی شخص کے قتل میں ممتاز عرف کالا جعفر گروپ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ڈیہڑ برادری ممتاز عرف کالا جعفر سے بدلہ لینے کے درپے تھی اور فائرنگ کے اس وقوعہ کی منصوبہ بندی میں عابد ڈیہڑ کا بیٹا علی نواز‘ چچا زاد بھائی اقبال عرف پپی ڈیہڑ اور سالا ماہی وال ڈیہڑ ملوث تھا۔ وقوعہ کے بعد پولیس کی ٹیمیں بستی جعفریں پہنچی اور تحقیقات کا آغاز کیا جبکہ زخمیوں اور لاشوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جلالپور پیروالہ منتقل کیا گیا‘ حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے ملتان‘ شجاع آباد‘ لودھراں‘ مظفر گڑھ اور دیگر قریبی علاقوں سے بھی پولیس کی بھاری نفری بلا کر تعنیات کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب کے نوٹس لینے پر اور اعلیٰ قیادت کی جانب سے ملے گئے احکامات کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر ملزمان کی گرفتاری کیلئے سبک رفتاری سے کام کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد ملزمان میں سے 8 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق پولیس نے کچھ خواتین اور دیگر افراد کو بھی تفتیش کیلئے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے جو بقیہ نامزد ملزمان کی گرفتاری میں پولیس کی مدد کریں گے۔ وقوعہ کے کچھ ہی دیر بعد آر پی او ملتان ریجن‘ سی پی او ملتان‘ ایس پی صدر ملتان اور دیگر پولیس افسران نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ ملک ممتاز عرف کالا جعفر کے رشتہ داروں نے ملزمان کی گرفتاری تک احتجاجاََ پوسٹ مارٹم سے انکار کر دیا تھا تاہم انتظامیہ نے ایم این اے رانا قاسم نون کی معاونت سے لواحقین کو پوسٹ مارٹم پر راضی کیا جس کے بعد عید کے دوسرے روز جمعرات کی صبح مقتولین کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کی گئی جس میں پوری تحصیل سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق ملک ممتاز عرف کالاجعفر ایم این اے رانا قاسم نون کے گروپ سے وابستہ تھا جبکہ ملک غلام نازک جعفر کا شمار سابق ایم این اے دیوان عاشق حسین بخاری کے متحرک سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے۔ 8 ملزمان کی گرفتاری کے بعد پولیس نے سرچ آپریشن کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے دریائے ستلج اور دریائے چناب کے کناروں کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور ان کے تمام پتن بھی بند کر دیے ہیں جس سے دریا پار آمد ورفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے جبکہ مختلف مقامات پر عارضی چوکیاں بھی قائم کر لی ہیں۔ آئی جی پنجاب عارف نواز کے احکامات پر ڈی آئی جی پنجاب انویسٹیگیشن احسن یونس بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ جلالپور پیروالہ میں موجود ہیں جن میں 7 ایس پی ایز بھی شامل ہیں۔ سانحہ کے تیسرے روز بھی علاقہ کی فضا سوگورا رہی جبکہ پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔

مزید : صفحہ اول