چارسدہ، تہرے قتل کا کیس 1ملزم گرفتار، 30سہولت کاربھی گرفتار

چارسدہ، تہرے قتل کا کیس 1ملزم گرفتار، 30سہولت کاربھی گرفتار

  



چارسدہ (بیو رو رپورٹ) خیبر پختون خوا پولیس کی بڑی کامیابی۔ عمر زئی میں با اثر جاگیردار کے ہاتھوں قتل ہونے والے تین سگے بھائیوں کے بہیمانہ قتل میں نامزد ایک ملزم گرفتار۔تہرے قتل کیس میں اب تک 30سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت اور آئی جی پی کی ہدایت پر بااثر دیگر دو ملزمان کی گرفتار ی کے لئے تمام تر ریاستی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ڈی پی او چارسدہ کا ایم این اے فضل محمد خان اور دیگر پولیس افسران کے ہمرہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق 25مئی کو تھانہ عمر زئی کے حدود علی جان کلی میں بااثر جاگیر دار نادر خان کے حجرے میں قتل ہونے والے تین سگے بھائیوں کے بہیمانہ قتل کیس کے حوالے سے صوبائی حکومت اور آئی جی خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم کے واضح احکامات کے تناطر میں چارسدہ پولیس نے تہرے قتل کیس میں نامزد ایک ملزم پیر محمد ولد شیر محمد کو علاقہ کلا ڈھنڈ سے ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا۔ اس حوالے سے ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان نے ایم این اے فضل محمد خان، ایس پی نذیر خان، ڈی ایس پی تنگی محمد آیاز اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ تھانہ عمر زئی میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ 25مئی کو علی جان کلی میں رونماہونے والے تہرے قتل کیس کے اندوھناک واقعہ کے حوالے سے آئی خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم نے واضح احکامات جاری کئے تھے کہ وہ پورے صوبے کے آئی جی ہیں اور ملزمان حوا ہ کتنے بااثر ہو ں ان کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔ ڈی پی او عرفان اللہ خان نے مزید کہا کہ آئی جی کے حکم پر پولیس تمام تر ریاستی وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور دیگر دو ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنائینگی۔انہوں نے کہا کہ آئی جی ڈاکٹر محمد نعیم خان نے واشگاف الفاظ میں ہدایات جاری کئے تھے کہ غم زدہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائیگااور ملزمان سے کوئی رعایت نہیں کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزم پیر محمد کو خفیہ اطلاع پر کلاڈھنڈ کے علاقے سے گرفتا رکیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں نامزد ایک ملزم نادر خان ملایشیاء اور دوسرا ملزم ناصر جمال افغانستان فرار ہو چکا ہے۔ بیرون ملک فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کیلئے وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو مراسلے ارسال کئے گئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر تہرے قتل کیس میں 30سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر لواحقین نے آئی جی خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم خان، ڈی آئی جی محمد علی خان، ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان، ایس پی نذیر خان اور تہرے قتل کیس کے اپریشنل اور انوسٹی گیشن ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ دیگر دو ملزمان کو بھی جلد از جلد گرفتار کیا جا ئیگا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ایم این اے فضل محمد خان نے پولیس کی کار کر دگی پر اعتماد کا اظہار کیا اور تہرے قتل کیس میں نامزد ایک ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے قتل ہونے والے تین بھائیوں کے آٹھ یتیم بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے اور ان کی بہتر تعلیم و تربیت کی یقین دہانی کرادی اور کہا کہ اس حوالے سے وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...