آئین کی بالا دستی اور جمہوریت کا تسلس ہر صورت قائم رہنا چاہیے: لیاقت بلوچ

آئین کی بالا دستی اور جمہوریت کا تسلس ہر صورت قائم رہنا چاہیے: لیاقت بلوچ

  



حیدرآباد(بیورورپورٹ)جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جب پارلیمنٹ میں عوام کے ریلیف کے لئے کوئی قانون سازی نہ ہو رہی ہو، صوبائی اسمبلیوں کی کوئی کارکردگی نہ ہو، آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر ملک میں بدترین مہنگائی اور بیروزگاری مسلط کر دی جائے تو اپوزیشن کا یہ حق ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلے، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل ہر صورت قائم رہنا چاہیے، پورا معاشی نظام آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے اور آئندہ بجٹ آئی ایم ایف کا تیارکردہ اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہو گا، زرداری اور نوازشریف کی ناکامی اور کرپشن کے بعد عمران خان سے عوام کو بڑی توقعات تھی مگر مدینے کی ریاست کا نعرہ لگا کر وہ سودی معاشی نظام قائم رکھے ہوئے ہیں، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی وکالت کی جا رہی ہے اور قادیانیت کی سرپرستی کی جا رہی ہے، تبدیلی کا نعرہ مذاق اور بدنامی کا سبب بن گیا ہے، جماعت اسلامی اپنی قوت سے 16 جون سے حکومت کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔وہ جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کے زیراہتمام لطیف آباد میں عید ملن پارٹی سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے، اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی، امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید نے بھی خطاب کیا جبکہ جماعت اسلامی کے ہنماء عبدالوحید قریشی، مشتاق احمد خان، شیخ شوکت علی اور دیگر بھی موجود تھے۔نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قومی وحدت اور اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ آئین پاکستان کی مکمل بالادستی قائم کی جائے جس میں قرآن و سنت کے نفاذ کا نظام بھی شامل ہو اسی کے نتیجے میں عوام کو ریلیف مل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ زرداری اور شریف خاندان عوام کو کچھ نہیں دے سکے اور ان پر کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات لگتے آ رہے ہیں جس کے بعد عمران خان سے عوام کو بڑی توقعات تھیں مگر بہت کم وقت میں لوگوں کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں اور حکومت کے بارے میں بڑی مایوسی پیدا ہوئی ہے، مہنگائی بیروزگاری میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے، آئی ایم ایف کی غلامی میں اضافہ ہوا ہے، ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا گیا مگر اسلامی معاشی نظام کی طرف کوئی پیش رفت نہیں کی گئی، سودی نظام پوری طرح نافذ ہے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں شدید مہنگائی بیروزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف 16 جون کو لاہور سے احتجاج کا آغاز کر رہی ہے،  انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نگران حکومت کا ہی تسلسل ہے اس کی ایک سال کی کارکردگی مایوس کن ہے اور تبدیلی کا نعرہ مذاق اور بدنامی کا سبب بن گیا ہے، عوام کی توقعات دم توڑ رہی ہیں، آئندہ بجٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک سمیت ہر جگہ آئی ایم ایف کے نمائندے بٹھا دیئے گئے ہیں، عمران خان نے حالات کی بہتری کے لئے پہلے 100 دن اور پھر 6 ماہ قوم سے مانگیں تھے مگر اب آئی ایم ایف کے نمائندے مشیر خزانہ نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ لامحدود مدت تک قوم کو بھاری ٹیکسوں اور سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس وقت بھی آئی ایم ایف کے نمائندے ہی معیشت کو چلا رہے ہیں اور جو بجٹ پیش کیا جائے گا وہ انہی کا تیارکردہ اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہو گا، انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ناکامیوں کے نتیجے میں ہی عوام کو بڑی توقع تھی کہ عمران خان آئیں گے تو حالات بدل دیں گے مگر پی ٹی آئی نے ایک سال کے دوران عوام کو کچھ نہیں دیا، عمران خان نے ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر قادیانیت کی سرپرستی کی اور پارلیمنٹ میں اور مختلف پر اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لئے وکالت کی، آئی ایم ایف کے قرضوں کی لعنت کو فروغ دیا ہے اور معاشی تباہی میں اضافہ کیا ہے، یوں اس حکومت کے بلندبانگ دعوے اور نعرے بہت کم مدت میں دم توڑ گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ نیب کے بارے میں پہلے بھی بہت تحفظات رہے ہیں لیکن پانامہ کیس کے 436 افراد اربوں کھربوں کے قرضے معاف کرانے والوں 175 میگا اسکینڈلز اور 400 ارب ڈالر لوٹ کر باہر لے جانے والوں کے خلاف اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا کیونکہ ان جعلی اکاؤنٹ ہولڈرز میں اسٹیبلشمنٹ فوج مسلم لیگ،پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی سب جماعتوں کے لوگ ہیں، ان کو تحفظ دینے کی وجہ سے احتساب پر سیاسی انتقام کا دھبہ لگ رہا ہے اور یہ متنازعہ ہو گیا ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کے جموں و کشمیر میں مظالم بے نقاب کرنے کے لئے حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے،  انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ عمران خان کی پارٹی پارلیمنٹ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی وکالت کرتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ خانہ کعبہ مسلمانوں کا ہے اس لئے بیت المقدس یہودیوں کا دے دینا چاہیے، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے او آئی سی میں امت مسلمہ اور کشمیر فلسطین کے لئے اچھے نکات پیش کئے مگر مارشل لاء اور ماضی کی دیگر حکومتوں کی طرح اس کی پشت پر کوئی عملی قدم اور کارکردگی نظر نہیں آ رہی، انہوں نے کہا کہ افغان مجاہدین اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دے کر سوویت یونین کے بعد امریکا جیسی سپر پاور کو شکست سے دوچار کر دیا ہے اور وہ اپنے شیطانی ایجنڈے کو اس خطے میں نافذ کرنے میں ناکام ہو رہی ہے ضرورت اس بات کی تھی کہ پوری امت اور مسلم ممالک کی قیادت ان کی پشت پر کھڑی ہوتی اور اتحاد امت کا مظاہرہ کیا جاتا تاکہ عالمی سطح پر امریکا بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے فلسطین کشمیر عراق شام اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں کے خون کی جو ندیاں بہائی جا رہی ہیں اس کا مستقل سدباب کیا جا سکے اور مسلمان آزادی کی زندگی بسر کر سکیں، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے انتخابی نشان "ترازو"اور جھنڈے پر سیاسی میدان میں ہو گی اور اسلام کی بالادستی کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بننے والی تمام مافیاؤں کا مقابلہ کیا جائے گا، کارکن عزم و حوصلے سے میدان میں نکلیں اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں اور ملک کے مستقبل کے لئے ساتھ دیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر