آئی سی سی کے روکنے کے باوجود اگر دھونی نے فوجی نشان والے دستانے پہنے تو کیا سزا مل سکتی ہے ؟ جان کر آپ کو بھی مایوسی ہوگی

آئی سی سی کے روکنے کے باوجود اگر دھونی نے فوجی نشان والے دستانے پہنے تو کیا ...
آئی سی سی کے روکنے کے باوجود اگر دھونی نے فوجی نشان والے دستانے پہنے تو کیا سزا مل سکتی ہے ؟ جان کر آپ کو بھی مایوسی ہوگی

  



لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز اس وقت عالمی میڈیا کی نظروں میں آگئے جب انہوں نے ورلڈ کپ میچ کے دوران فوجی نشان ’ بلی دان‘ والے دستانے پہن کر میچ میں شرکت کی۔ آئی سی سی کی جانب سے انہیں دوبارہ ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے تاہم اگر وہ پھر بھی باز نہیں آتے تو انہیں انتہائی کم سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بھارتی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ 2019 کے دوران اب تک صرف ایک ہی میچ کھیلا ہے جس میں وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی فوجی نشان والے دستانے پہن کر شریک ہوئے تھے۔ دھونی کے دستانوں کی تصاویر سامنے آئیں تو عالمی میڈیا پر خوب ہنگامہ برپا ہوا جس کے بعد آئی سی سی نے انہیں دوبارہ یہ دستانے پہننے سے باز رہنے کا حکم دیا۔ آئی سی سی نے واضح کیا کہ آئی سی سی ایونٹ کے قوانین کسی ذاتی پیغام یا لوگو کو کسی بھی سامان یا کپڑے پر دکھانے کی اجازت نہیں دیتے ، یہ لوگو وکٹ کیپر کے دستانوں کے قوانین کے بھی خلاف ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے روکے جانے کے باوجود اگر مہندر سنگھ دھونی نے بلی دان والے دستانے دوبارہ پہنے تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ اگر آپ بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ آئی سی سی ان پر کچھ میچز کی پابندی عائد کردے گی تو آپ غلطی پر ہیں کیونکہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔

مہندر سنگھ دھونی کی جانب سے اگر دوبارہ دستانے پہنے گئے تو آئی سی سی انہیں وارننگ جاری کرے گی ، واضح رہے کہ پہلی بار یہ دستانے پہننے پر سابق کپتان کو باضابطہ وارننگ نہیں دی گئی۔ اس کے بعد اگر اگلے میچ میں تیسری بار بھی مہندر سنگھ دھونی بلی دان والے دستانے پہنیں گے تو انہیں میچ فیس کا 25 فیصد، اگلی بار 50 فیصد اور اگلی بار 75 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اگر آئی سی سی کی اس نرمی کو دیکھا جائے تو کسی ایسے شخص کیلئے جو 130 کروڑ سے زائد لوگوں کا ہیرو بننے کے چکر میں ہو ، یہ سزا کچھ بھی نہیں ہے۔

مزید : کھیل


loading...