کھیل تماشا نہیں، سنجیدہ روّیہ

کھیل تماشا نہیں، سنجیدہ روّیہ

  

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت کی کورونا کے پھیلاؤ میں کمی اولین ترجیح ہے،لیکن مہینوں اور برسوں کے لئے قوموں کو بند نہیں کیا جا سکتا، ہمیں وبا کے پھیلاؤ کو کم کرنا ہے، کیونکہ اسے روکا نہیں جا سکتا اور اس میں اتنی کمی کرنی ہے کہ نظام صحت مفلوج نہ ہو،قوم سے اپیل ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے جتنا ابتدائی دِنوں میں کیا گیا،کئی ہفتوں تک ڈسپلن کا مظاہرہ ہوا،لیکن عید پر ڈسپلن نہیں دیکھا گیا، کورونا سے بچنے کے لئے اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لائیں۔دوسری جانب عالمی ادارہئ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اوہانوم نے کہا ہے کہ صرف ماسک پہننے سے کورونا وائرس سے بچا نہیں جا سکتا، ساٹھ برس سے زائد اور بیمار افراد میڈیکل ماسک پہنیں، کپڑے کے ماسک ایسے تیار کئے جائیں جن کی تین تہیں ہوں،کاٹن، پولی پروپلین اور پولی اسٹر کے ماسک بنائے جائیں۔ ڈبلیو ایچ او کے صحت ایمرجنسی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا ہے کہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک میں جہاں بڑی گنجان آبادی ہے یہ بیماری بڑے پیمانے پر نہیں پھیلی، لیکن ایسا ہونے کا خطرہ ہمیشہ سے موجود ہے۔

اس سے قبل ڈبلیو ایچ او جو ہیلتھ ایڈوائزری جاری کرتا رہا ہے اس میں کہا گیا تھا کہ صحت مند افراد کے لئے ماسک پہننا لازمی نہیں ہے،ایسی ہی ہدایت پاکستان میں بھی کی جاتی رہی، لیکن تازہ ایڈوائزری میں نہ صرف ماسک پہننے پر زور دیا گیا ہے، بلکہ زیادہ عمر کے افراد کے لئے میڈیکل ماسک تجویز کئے گئے ہیں، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے،چند دِنوں سے ماسک نہ پہننے والوں کو جرمانے کئے جا رہے ہیں تاہم اب بھی پبلک مقامات پر بغیر ماسک کے افراد دیکھے جا سکتے ہیں، محدود آمدنی والوں کے لئے 30روپے والا سستا اور معمولی ماسک خریدنا بھی مشکل تھا، اب اُن کے لئے مہنگا میڈیکل ماسک تجویز کیا گیا ہے۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کے لئے جو بمشکل دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر پاتا ہے، مہنگے ماسک خریدنا شاید ممکن نہ ہو، اس لئے آنے والے خطرناک دِنوں کے پیش ِ نظر حکومت کو مفت ماسک فراہم کرنے کا بندوبست کرنا چاہئے،دُنیا کے بہت سے مُلک اپنے شہریوں کو یہ سہولت دے رہے ہیں۔ ماسک پہننے کے ساتھ ساتھ دوسری احتیاطی تدابیر کا خیال بھی رکھنا ہو گا،پاکستان میں اب روزانہ اموات سو کے ہندسے کو چھو چکی ہیں اور کئی دِنوں سے ہزاروں نئے مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے، مریضوں کی تعداد پہلے ہی ایک لاکھ ہو گئی، ایسے میں اگر عوام نے ہدایات پر عمل نہ کیا اور کورونا کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مسائل گھمبیر ہو جائیں گے۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں وسائل کی کمی نہیں،لیکن تقسیم میں بد انتظامی ہے، وسائل کا غیرمعقول استعمال ہو رہا ہے، حفاظتی کٹس کے غیر معیاری ہونے کی شکایات بھی مل رہی ہیں، ہمیں رویئے تبدیل کرنے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ہسپتال نے بتایا کہ انہیں حفاظتی کٹس اور این95 ماسک نہیں مل رہے،لیکن جب وہ اجلاس کے بعد ہسپتال سے باہر نکلے تو گارڈ نے این95 ماسک پہنا ہوا تھا،جبکہ ڈاکٹر اندر شور مچا رہے تھے۔ ظفر مرزا نے جس واقعے کی مثال دی وہ اپنی جگہ درست ہے،لیکن بدانتظامی اِس سے زیادہ ہے جو انہوں نے دیکھی۔ ہسپتالوں سے ادویات بھی چوری ہوتی ہیں، آج ہی کی ایک اطلاع ہے کہ لاہور کے ایک ہسپتال سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔یہ ایک کوشش تو ناکام ہو گئی،معلوم نہیں چوری کا یہ سلسلہ کب سے جاری تھا۔ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق اگر وسائل موجود ہیں اور وہ بہتر طور پر تقسیم نہیں ہو رہے تو پھر انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے اور یہ ہسپتالوں کی انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ تقسیم کا بہتر انتظام کریں،ڈاکٹر غیر معیاری حفاظتی کٹس کی جو شکایات کر رہے ہیں اس کا جائزہ بھی سنجیدگی سے لینا چاہئے،کیونکہ پچھلے دِنوں ڈاکٹر اور طبی عملہ بڑی تعداد میں وائرس کا شکار ہوا ہے،عین ممکن ہے غیر معیاری حفاظتی کٹس کی وجہ سے بھی ایسا ہوا ہو۔ کورونا وبا کے آغاز کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں جعلی سینی ٹائزر مارکیٹ میں آ گئے تھے محکمہ صحت نے ان کی نشاندہی بھی کی،لیکن کون جانے یہ غیر معیاری اور جعلی سینی ٹائزر اب تک مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہوں،سادہ لوح عوام تو کم قیمت ہونے کی وجہ سے یہ سینی ٹائزر خریدتے ہوں گے، ان کے استعمال کے باوجود اگر کورونا کنٹرول نہیں ہو رہا تو خدشہ ہے کہ ایسے عوامل بھی پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہے ہوں گے۔بینکوں نے اے ٹی ایم مشینوں سے رقم نکلوانے والوں کی سہولت کے لئے سینی ٹائزر رکھے تھے،لیکن چند ہی دِن میں یہ سلسلہ رُک گیا،وجہ یہ بتائی گئی کہ ایک دن میں کئی کئی مرتبہ سینی ٹائزر کی بوتلیں چوری ہو گئیں اور یہ سلسلہ رکنے میں نہ آیا تو مجبوراً اسے بند کرنا پڑا، سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر موجود ہیں جن میں اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے والے صارفین جاتے ہوئے کرنسی نوٹوں کے ساتھ سینی ٹائزر کی بوتل بھی لے گئے، اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے تازہ انتباہ کے بعد کہ جنوبی ایشیا میں کرونا زیادہ پھیلنے کے خدشات موجود ہیں،حکومت اپنی حکمت ِ عملی تبدیل کرے اور عوام الناس بھی اس ایڈوائزری کو سنجیدگی سے لیں اور وائرس روکنے کے لئے متعلقہ ادارے جو اقدامات کر رہے ہیں ان کی کامیابی میں کردار ادا کریں اور ایسی حرکتیں نہ کریں جن کی وجہ سے سارے حفاظتی انتظامات ہی درہم برہم ہو جائیں۔

کورونا وبا کے آغاز میں عالمی ادارہئ صحت نے جو ایڈوائزری جاری کی اُن میں وقت اور تجربے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں ناگزیر ہوتی چلی گئیں، شروع میں یہ خیال تھا کہ تندرست لوگوں کو جو کورونا کا شکار نہیں ہیں، حفاظتی ماسک پہننے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں،اس کی روشنی میں تندرست لوگ مطمئن ہو گئے تھے لیکن تازہ ہدایت نامے سے مترشح ہو گیا کہ تجربے نے نئے باتیں سکھا دی ہیں،اِس لئے اب صحت مند اور تندرست افراد کو بھی ماسک پہننے کی ہدایت کی گئی ہے،لیکن پاکستان میں یہ تجربہ ہوا کہ بوڑھوں کی نسبت جوان،بلکہ نوجوان بھی زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، ایسے میں نوجوانوں کو بھی اس مرض کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے،لیکن بدقسمتی سے یہی طبقہ ہے جو سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا، اِس لئے پھیلاؤ کا دائرہ وسیع تر ہونے کے خدشات کا تقاضا ہے کہ عوام ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور جو ہدایات عالمی اداروں اور پاکستان کے ذمہ دار حکام کی جانب سے جاری کی جاتی ہیں اُن پر عمل کر کے اپنی، اپنے خاندانوں اور اہل ِ وطن کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کریں، کھیل تماشے کے انداز کا رویہ خطرناک ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -