مہنگائی اور بڑھ گئی، آٹے کی اونچی اڑان!

مہنگائی اور بڑھ گئی، آٹے کی اونچی اڑان!

  

ادارہ شماریات پاکستان کی ہفتہ وار رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ آٹا، چاول، چینی، انڈے، گوشت اور چکن مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ ہوا، جبکہ بارہ اشیاء ضرورت کے نرخوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جو.04فیصد ہے۔ یہ ادارہ اب ہر ہفتے مارکیٹ سروے پر رپورٹ جاری کرتا ہے، تاہم اب تک کے اعداد و شمار یہی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ رپورٹ اعداد و شمار ہی پر مبنی ہوتی ہیں،جبکہ مارکیٹ میں اصل قیمتوں میں تفاوت رہتا ہے، اس بار صرف آٹا مہنگا ہونے کا ذکر ہی کیا گیا، تفصیل نہیں، اگرچہ آٹے کے نرخوں میں دس روز کے اندر95 روپے فی20 کلو کا اضافہ ہوا،جو تھیلا دس روز قبل805 روپے(20کلو) میں بک رہا تھا وہ اب ایک ہزار روپے تک چلا گیا، فلور ملز مالکان کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے گندم بازار سے خریدی، جو1600روپے فی چالیس کلو سے بھی زیادہ قیمت پر خریدی گئی اور یوں آٹا سستا نہیں بیچا جا سکتا، ادھر ہماری انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی طرف سے اس پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا، البتہ صوبائی سینئر وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے گندم کی ریکارڈ خریداری کی اور ہمارے پاس وسیع ذخائر موجود ہیں،اس سے قبل یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ آٹے کا بحران آئے گا اور اب ایسا ہو رہا ہے کہ آٹا805 روپے سے ایک ہزار روپے کا 20 کلو ہو گیا،اسی تناسب سے میدے کی بوری کے نرخ بھی بڑھ گئے، نانبائی ایسوسی ایشن نے10جون سے نان15 روپے اور روٹی10روپے کی بیچنے کا اعلان کیا، لیکن اکثر تنور والوں نے ابھی سے قیمت بڑھا دی ہے، جبکہ سبزیوں اور پھلوں کے نرخوں میں بھی کمی کے آثار نہیں ہیں،حالانکہ عیدالفطر کے بعد خریداری میں نمایاں کمی ہوئی ہے، ادھر مسافروں کی طرف سے یہ شکایات مل رہی ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت دو بار کم ہوئی،نہ تو کرایوں میں کوئی رعایت ہوئی اور نہ ہی اشیاء خوردنی اور ضرورت کے نرخ کم ہوئے، اب تو صارفین مہنگی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چلانے پر مجبور ہیں اور ابتدائی طور پر چکن کی خریداری سے منع کیا جا ہا ہے، ابتدا ہو چکی اس میں اضافہ ہو رہا ہے، شاید لوگ اب اسی طریقے سے ردعمل ظاہر کریں گے۔ بہرحال کورونا، بے روزگاری اور اشیا ضرورت کی مہنگائی سے عوام پریشان اور خوفزدہ ہیں، منتظمین کو دعوؤں نہیں، عمل سے اپنے اعلانات پر عمل کرانا ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -