بابائے قرائت

بابائے قرائت
بابائے قرائت

  

قرآن مجید، فرقان حمید اللہ رب العزت کی وہ آخری اور مکمل کتاب ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ پر نازل فرمایا۔ یہ وہ مقدس کتاب ہے جس نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرمائی۔ یہی وہ صحیفہ آسمانی ہے جس کے دنیا بھر میں کروڑوں انسان حفاظ ہیں جو اس کتاب کے سچے ہونے کی ایک عالمگیر دلیل ہے۔ قرآنِ مجید ہی وہ کتاب ہے جو ہر قسم کے تغیر و تبدل، تحریف وترمیم کے بغیر موجود ہے۔ اس کی تعلیمات پر عمل کرنادونوں جہان میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے اور انسانیت کیلے رشد وہدایت کا پیغام ہے قرآن مجید کو ترتیل وخوبصورتی کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سورہ مزمل میں فرماتے ہیں کہ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔خوبصورت اور اچھی آواز میں قرآن مجید پڑھنے سے اللہ تعالی بھی خوش ہوتے ہیں۔انزل القرآن علی سبعۃ احرف”اللہ تعالی نے قرآن مجید کو سات لہجوں، سات حرفوں میں نازل کیا ہے۔پوری دنیا میں قران پاک کی ان سات لہجوں میں تلاوت کی جاتی ہے۔اسے لہجات کا علم بھی کہتے ہیں۔ دنیا میں سبعۃ عشرہ کے دس مشہور آئمہ ہیں جنہوں نے مختلف قرائتوں کو پڑھا اور متعارف کروایا.امام نافع،ابن کثیر،عمربصری، ابن عامر شامی، عاصم کوفی،حمزہ کوفی، کسائی،امام ابو جعفر، امام یعقوب اور حلف العاشر ہیں. برصغیر پاک و ہند میں روایت حفص پڑھی جاتی ہے،کئی ممالک ایسے ہیں جہاں روایت حفص کے علاوہ باقی مختلف قرائتیں پڑھی جاتی ہیں مراکش سمیت دنیا کے تیس ممالک میں ورش،افریقا میں قالون،اردن میں نافع وغیرہ وغیرہ اوران ممالک میں قرآن مجید کی پرنٹنگ بھی مختلف قراء توں میں ہے۔

پاکستان میں تجوید وقرائت، سبعۃ عشرہ کو متعارف کروانے والے دو قراء قاری اظہار احمد تھانوی اور بابائے قراء ت قاری محمد یحییٰ رسولنگری ہیں اس سے قبل پاکستان کے لوگ اور حفاظ سبعۃ عشرہ سے واقف ہی نہیں تھے۔آج پاکستان میں سبعۃ عشرہ کے قراء کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہے اور تقریباً پاکستان کے تمام مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔پاکستان میں تقریباً قراء بالواسطہ یا بلا واسطہ قاری اظہار احمد تھانوی اور قاری یحییٰ رسولنگری کے شاگرد ہیں۔قاری یحییٰ رسول نگری وہ شخصیت ہیں کہ ایک بار مصر کے مشہور قاری عبدالباسط پاکستان تشریف لائے اور ایک محفل میں جہاں قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کیا گیا۔قاری عبدالباسط نے وہاں قرآن پاک کی تلاوت کی تو اس محفل میں قاری یحییٰ رسول نگری بھی تشریف فرما تھے،جب قاری عبدالباسط نے تلات قرآن پاک مکمل کی تو قاری یحییٰ رسول نگری نے انہیں بتلایا کہ آپ نے تلاوت کے دوران پانچ غلطیاں وقف اور مد کی کی ہیں قاری عبدالباسط نے تسلیم کیا کہ واقعی میں نے یہ غلطیا ں کی ہیں،کسی عام قاری کیلئے جن کی نشاندہی کرنا ناممکن تھا۔اسی طرح ایک بار آپ امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے تو نماز کے بعد آپ نے امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السدیس کو بتلایا کہ آپ نے تلاوت کے دوران یہ غلطی کی ہے جس پر امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السدیس نے ان کا ماتھا چوما کہ واقعی میں نے تلاوت کے دوران ایک غلطی کی تھی۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ اتنے بڑے قاری قرآن اور فن تجوید وقرائت کے ماہر تھے کہ جن کی عظمت کا اعتراف دنیا کے بڑے بڑے قراء اور امام کرتے رہے ہیں۔

یہ پاکستان کیلئے بھی ایک اعزاز کی بات ہے کہ قاری یحییٰ رسول نگری کا تعلق پاکستان سے تھا۔ان ہی عظیم استاذالقراء محمد یحییٰ رسول نگری کا کچھ روز قبل انتقال ہو گیا ہے آپ بابائے قراء ت کے نام سے مشہور تھے۔آپ عرصہ پچاس سال سے تجویدوقرائت کے علوم کی تدریس سے وابستہ رہے۔آپ کی مشہور تصانیف میں تحفۃالقاری، رحمانی قاعدہ، اسھل التجویداس کتاب کو امام کعبہ الشیخ سعود بن ابراہیم الشریم نے عربی میں ترجمہ کرواکر پرنٹ کروائی ہے اور آج کل علم الوقف پر کام جاری تھا۔آپ امام کعبہ الشیخ سعود بن ابراہیم الشریم کے بھی استاد تھے آپ کی وفات کے بعد آپ کے شاگرد آپ کے مشن کو آگے بڑھائیں گے ان میں سر فہرست قاری محمد ابراہیم میر محمدی ہیں جو گزشتہ 35 سال سے قراء ت کی تدریس واشاعت کا کام کر رہے ہیں، کراچی سے خیبر تک اس فن کا جال بچھارہے ہیں۔ اب ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔قاری ابراہیم میر محمدی کے شاگرد ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی کے متعلق علماء ومشائخ کی ایک تقریب میں بابائے قراء ت نے یہ الفاظ کہے کہ اتنے بڑے قاری کہ عرب کے جید قراء بھی مان گئے ہیں۔

بابائے قرائت نے پاکستان میں جو قرائت کا پودا لگایا تھا اب الحمد للہ ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اورالشیخ ابراہیم میر محمدی اور قاری حمزہ مدنی کی صورت میں یہ وہ پھل ہیں جو ان کے لگائے ہوئے پودوں نے دیئے ہیں۔قران کو پڑھنا اور پڑھانا ایک نیکی کا کام ہے جہاں ہم اپنے بچوں کو دیگر علوم میں مہارت کیلئے ترغیب دیتے ہیں وہیں قرآن کے ان لہجوں اور قرآن کی اچھی آواز میں قرائت پر بھی بچوں کو ابھارنا چاہئے اور ان کی تربیت کرنی چاہئے تا کہ ہمارے بچے قاری قرآن بن کر دنیا و آخرت میں کامیابی کی کنجی کو پا سکیں۔قرآن نہ تو ہمیں جدید علوم کو حاصل کرنے سے روکتا ہے اور نہ ہی قرآن کسی اعلی عہدے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اس لئے جتنا ممکن ہو اپنے بچوں کو قرانی لہجات کے علم کا حصول بھی دلائیں۔فرمان نبوی ﷺ ہے کہ بے شک اللہ تعالی قرآن مجید کو تھام لینے کی وجہ سے بعض قوموں کو رفعت و بلندی عطاء کر دیتے ہیں اور قرآن مجید کو چھوڑ دینے کی وجہ سے بعض قوموں کو ذلیل و رسواء کر دیتے ہیں یعنی کہ پیمانہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو بنا رکھا ہے جو لوگ قرآن کے قریب آئیں گے اتنے ہی وہ بلند تر کامیاب ہوتے چلے جائیں گے اور جو لوگ قرآن کو چھوڑیں گے وہ دنیا ذلیل و رسواء و نا کامی ان کا مقدر بن جا ئے گی۔”خَیْرُ کُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہ“۔ترجمہ:تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو قران سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔

مزید :

رائے -کالم -