امیروں کی حکومت اور غریبوں کا درد

امیروں کی حکومت اور غریبوں کا درد
امیروں کی حکومت اور غریبوں کا درد

  

کورونا کی وبا شروع ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے اپنی عادت کے مطابق فیصلہ سازی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا مریض 26 فروری کو منظر عام پر آیا اور پہلی ہلاکت 19 مارچ کو ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب کورونا کے ابتدائی مریض بیرونی ممالک سے پاکستان آئے تھے، ایران سے زائرین، سعودی عرب میں عمرہ یا یورپی ممالک سے واپس آنے والے۔ اس وقت تک مریضوں کی تعداد محض چند سو تک محدود تھی۔ اس وقت کرونا کے باہر سے آنے والے کیسوں کو قرنطینہ اور ان سے میل جول والوں کو ٹریس کرکے مرض کو پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان اس وقت گومگو کی کیفیت کا شکار تھے اور انہوں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ کرونا کچھ بھی نہیں ہے، صرف فلو کی ایک قسم ہے جو چند دنوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ باہر سے آنے والے مریضوں کو علیحدہ نہ کیا گیا اور وہ کمیونٹی میں پھیلتے گئے اور لوگوں کو کرونا کا مرض بانٹتے گئے۔ اس وقت بھی وزیر اعظم عمران خان نے ایک خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان میں کرونا نہیں پھیلے گا کیونکہ موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی اس کا وائرس مر جائے گا(حالانکہ کرونا کا موسمیاتی ٹمپریچر سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ انسانی جسم کا ٹمریچر 37 سنٹی گریڈ مستقل رہتا ہے اور کرونا کا وائرس فضا میں نہیں بلکہ انسانی جسم میں پلتا ہے)۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں دو تہائی آبادی نوجوان ہے اس لئے اسے کوئی خطرہ نہیں ہے اور ہمارے ملک میں یورپ اور امریکہ کے برعکس لوگوں کا مدافعتی نظام بہت کارگر ہے اس لئے کرونا یہاں نہیں پھیلے گا۔ جب کرونا کمیونٹی میں پھیلنا شروع ہو گیا اور لاک ڈاؤن کا مطالبہ زور پکڑتا گیا تو بھی بدستور عمران خان گومگو میں رہے اور کہتے رہے کہ ان کے دل میں غریبوں کے لئے بہت درد ہے اور لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں دیہاڑی دارمزدور اور غریب مارا جائے گا۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے بروقت اقدامات شروع کئے تو وفاقی وزیروں کی ایک ٹیم کو ان کے خلاف پراپیگنڈے پر لگا دیا گیا اور جس مصیبت کا مقابلہ یگانگت کے ساتھ مل جل کر کرنا چاہئے تھا اسے وفاق اور سندھ کی لڑائی میں تبدیل کر دیا گیا۔ سندھ کی پالیسیاں بہتر جا رہی تھیں لیکن چیف جسٹس پاکستان کی مداخلت کی وجہ سے لاک ڈاؤن ختم کرکے مارکیٹیں، شاپنگ پلازے اور بازار کھولنے پڑے اور اس کے بعد کرونا تیزی سے کمیونٹی میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ملک میں کیسوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ اور ہلاکتیں دو ہزار سے بڑھ چکی ہیں جن کا 95 فیصد پھیلاؤ مقامی طور پر ہوا۔ کرونا کا مرض بے قابو ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور مریضوں کا علاج کرنے والے 20 فیصد سے زائد ڈاکٹر اور ہیلتھ سٹاف اب خود کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔

جب سے کرونا کا مرض شروع ہوا ہے، وزیر اعظم عمران خان کے دل میں غریبوں کا درد جاگ گیا ہے، حالانکہ کرونا آنے سے پہلے ہی ان کی حکومت میں غریب اور مزدور معاشی طور پر زندہ درگور ہو چکے تھے۔ ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح 5.8 فیصد سے کم ہو کر 1.9 فیصد، روپیہ کی قدر 40 فیصد کم اور سٹاک مارکیٹ کی سطح 54 ہزار سے گر کر 28 ہزار پر آچکی تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے ڈیڑھ سال میں 25 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے تھے اور مہنگائی 20 سال میں سب سے زیادہ اونچی سطح پر پہنچ چکی تھی۔ بجلی 18 ماہ میں 18 مرتبہ اور گیس کئی گنا مہنگی ہوچکی تھی۔ پی ٹی آئی حکومت اپنے پہلے ڈیڑھ سال میں 12 ہزار ارب روپے قرضے لے چکی تھی جو پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور سے دوگنے اور مسلم لیگ (ن) کے پانچ سال کے تقریباً برابر تھے۔ بینکوں کی شرح سود 6 فیصد سے دوگنی سے بھی زیادہ 13.25 فیصد اور بجٹ کا خسارہ 4.5 فیصد سے دوگنا تقریباً 9 فیصد پر پہنچ چکا تھا۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھنے کے بعد جب میں وزیر اعظم عمران خان کی باتوں میں غریبوں کا درد سنتا تو مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی رابن ہڈ یاد آنے لگتا تھا (حالانکہ وہ ایک برعکس کردار تھا)۔

رابن ہڈ ایک افسانوی کردار تھا جس کا تعلق برطانیہ کے علاقہ ناٹنگھم سے تھا۔ پچھلے چھ سات سو سال میں رابن ہڈ پر لا تعداد نظمیں، کہانیاں اور ڈرامے لکھے گئے۔ وہ امیروں کو لوٹ کر مال غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتا تھا۔ اس لئے لٹیرا ہونے کے باوجود لوگ اس سے عشق کرتے تھے اور آج بھی اس کردار سے عشق کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ ہمارے سامنے بھارت میں ایک جیتا جاگتا کردار پھولن دیوی کا تھا جو ڈاکو ہونے کے باوجود لوگوں میں غریبوں کی مدد کرنے کی وجہ سے مقبول تھی۔ اسی مقبولیت کی وجہ سے وہ دو مرتبہ 1996ء اور 1999ء میں بھارتی قومی اسمبلی لوک سبھا میں الیکشن جیت کر منتخب ہوئی۔ اسے 2001ء میں نامعلوم افراد نے گولیوں سے بھون دیا لیکن آج بھی لوگوں کی بڑی تعداد پھولن دیوی کا نام ڈاکو ہونے کے باوجود احترام سے لیتی ہے۔ پاکستان میں ایسی بڑی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ساری عمر لوگوں کی بے لوث خدمت کی اور وہ بلا شبہ پاکستان کے معزز ترین لوگ مانے جاتے ہیں۔ بھلا عبدالستار ایدھی سے زیادہ پاکستان میں کس شخص نے عزت کمائی ہوگی۔ اسی طرح حکیم محمد سعید اور دوسرے کئی لوگوں کابھی اپنی بے پناہ عوامی خدمت کی وجہ سے پاکستان میں انتہائی قابل عزت اور قابل محبت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ ان بڑی شخصیات کا نام ہمیشہ عزت و احترام اور عقیدت سے لیا جاتا رہے گا۔

پاکستان میں ہر حکومت نام غریبوں کا لیتی ہے لیکن پالیسیاں صرف امیروں کے مفاد کی بناتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگایا اور عوامی منشورپر الیکشن لڑا اور مغربی پاکستان میں کامیابی حاصل کی لیکن حکومت ملنے کے بعد ان کا طرزِ حکمرانی عوامی سے زیادہ آمرانہ رہا، اس لئے ان سے رکھی گئی توقعات بھی زیادہ تر پوری نہ ہو سکیں۔ سرد جنگ ختم ہو نے سے دنیا میں سوشلزم کا بوریا بستر بھی گول ہوا اور ان کی پیپلز پارٹی بھی مشرف بہ سرمایہ دارانہ نظام ہو گئی۔ نئی نسل تو خیر’ایشیا سرخ ہے‘ یا’ایشیا سبز ہے‘ سے واقف ہی نہیں ۔ جمہوری منتخب حکومتوں میں عوام کے بارے میں زیادہ سوچا گیا اور پالیسیاں بنانے کی کوشش کی گئی کیونکہ انہوں نے دوبارہ منتخب ہونے کے لئے بہر حال عوام کے پاس ہی جانا ہوتا تھا۔

اس کے مقابلہ میں جتنی فوجی حکومتیں آئیں ان کا عوام سے زیادہ لینا دینا نہیں ہوتا تھا اس لئے وہ صرف بڑے کاروباری ٹائکونز کے مفاد میں پالیسیاں بناتے تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل یحی خان کی مارشل لاء حکومتوں میں 22صنعتی خاندانوں کا غلغلہ تھا، (جو بعد میں مزید شارٹ لسٹ ہو کر 7 تک رہ گئے یعنی امراء کا کلب اور زیادہ مخصوص ہو گیا)۔ صنعتی ترقی کے نام پر صرف بڑے صنعتی خاندانوں کے مفاد میں پالیسیاں بنائی جاتی تھیں۔ یہی صورت حال جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاؤں میں بھی رہی اور تمام پالیسیاں امیروں، صنعت کاروں اور بڑے ٹائیکونوں کے لئے ہی بنیں۔ جنرل مشرف کے دور میں امپورٹڈ وزیر اعظم شوکت عزیز عام طور پر trickle down کی اصطلاح استعمال کیا کرتے تھے کہ جب امیروں کی بالٹی لبا لب بھر جائے گی تو اس میں کچھ قطرے چھلک کر غریبوں تک بھی پہنچ جائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو بنے دو سال پورے ہونے والے ہیں اور اب آہستہ آہستہ یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اس حکومت میں عوام کی بجائے صرف بڑے صنعتی اداروں، بزنس ٹائیکونوں اور چند مخصوص لوگوں کے مفادات کے لئے سوچا جاتا ہے۔ سنیچر کی شام بلاول بھٹو زرداری کا لہجہ پریس کانفرنس میں تلخ ضرور تھا لیکن ان کے اٹھائے نکات کا جھٹلانا آسان نہیں۔ کیا یہ درست نہیں کہ عمران خان حکومت نے عوام کی جانیں بچانے کی بجائے معیشت کو بچانے کا بہانہ بنایا۔ ماہرین بتا چکے ہیں کہ معیشت میں 1.5 فیصد گراوٹ (4 فیصد موجودہ حکومت کے پہلے 18 ماہ میں کرونا سے پہلے ہی گر چکی تھی)کو بچانے کے لئے ملک کی 2.2 فیصد آبادی کی جانوں کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے اور خطرہ ہے کہ کئی لاکھ لوگ پاکستان میں کرونا سے لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ کروناکی عین وبا کے دوران پاکستان سٹیل کے تقریباً دس ہزار ملازمین کو نکالنا غریبوں سے کون سی ہمدردی ہے؟ٹڈی دل کے حملوں میں لاکھوں کسانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے جن کی لاکھوں ایکڑ فصل چٹ ہو گئی ہے اور اس سال پاکستان میں شدید غذائی بحران بھی متوقع ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ یہ امیروں کی حکومت ہے جو صرف نمائشی طور پر غریبوں کا نام لیتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، انہوں نے کبھی کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں یا غریبوں کے کسی نمائندے سے ملاقات نہیں کی۔ کرونا کی وبا میں بھی انہوں نے طبی ماہرین سے ایک دفعہ بھی مشورہ نہیں کیا۔ ان کی ملاقاتیں صرف موٹے موٹے سیٹھوں سے روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں جس میں کرونا سے لے کر غریبوں تک کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ امیروں کی حکومت میں غریبوں کا درد ہو بھی کیسے سکتا ہے؟

مزید :

رائے -کالم -