انڈو۔چائنا ملٹری ڈائیلاگ

انڈو۔چائنا ملٹری ڈائیلاگ
انڈو۔چائنا ملٹری ڈائیلاگ

  

آج کل ہفتے میں پانچ کالم لکھ رہا ہوں جو سوموار تا جمعہ آپ کو پڑھنے کو ملتے ہیں۔ دو دن (ہفتہ، اتوار) ناغہ ہوتا ہے۔ ان ایام میں سنڈے میگزین کے دو صفحات لکھتا ہوں۔ چونکہ دفاع میرا خصوصی موضوع ہے اس لئے اس ضمن میں جو ڈویلپمنٹ اس ریجن میں ہوتی ہے، ان کی آگہی قارئین کو دینا میری پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ ان دنوں ویسے بھی انڈو چائنا سٹینڈ آف چل رہا ہے اور چونکہ پاکستان بھی اس سے براہِ راست متاثر ہونے کا میلان رکھتا ہے اس لئے اس تنازعہ کی ٹیکٹیکل تفصیلات بھی پڑھنے والوں کا تقاضا بنتا ہے…… اردو زبان میں دفاعی معاملات قارئین تک پہنچانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ عسکری ہتھیاروں اور ساز و سامان (Equipment) کی اصطلاحات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ نئے نئے آلاتِ جنگ کے متعارف ہونے کی وجہ سے ان کے لسانی استعمالات بھی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ اہلِ مغرب نے ان کا حل یہ نکالا ہے کہ ایک ایسی اصطلاح (Term) جو پہلے کسی خاص پیشے کے ساتھ وابستہ سمجھی جاتی تھی اس کو وسعت دے کر اسے عسکری مفہوم کا حامل بھی بنا دیا گیا ہے۔ میں ایک مثال سے اپنی بات واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔

طب کے پیشے میں شریانوں، دریدوں اور رگوں کی اصطلاحات سے اردو کے قارئین آگاہ ہیں۔ انگریزی زبان میں Artery کا مفہوم شریان یا ایک بڑی رگ ہے۔ لیکن اب اس کا استعمال غیر طبی مضامین و موضوعات میں بھی کیا جا رہا ہے۔مثال کے طور پر اگر یہ کہنا ہو کہ فلاں خطہ ء جنگ میں مواصلاتی شاہراہوں کا جال بچھا دیا گیا ہے تو یہ Artery یعنی شریان کا لفظ شاہراہ یا بڑی سڑک کے معانی میں بھی عام مستعمل ہے۔ اردو زبان کے جو قارئین Artery کو صرف ایک میڈیکل اصطلاح کے طور پر جانتے ہیں ان کے علم میں اس وقت تک یہ بات نہیں آتی جب تک کسی عسکری آپریشن کو بیان کرتے ہوئے کسی جگہ اس لفظ کو سڑک یا شاہراہ کے معانی میں بھی نہ پڑھیں اور اس کے مفہوم کو عسکری نقطہ ء نظر سے سمجھنے کی کوشش نہ کریں …… جسم کی کوئی شریان اگر کسی حصہ ء جسم سے کٹ جائے تو اس حصے میں خون کی گردش رک جاتی ہے اور بسا اوقات انسانی زندگی کو خطرہ بھی لاحق ہو جاتا ہے…… اسی طرح کسی علاقہ ء جنگ میں اگر کوئی بڑی شاہراہ (Artery) بلاک کر دی جائے تو پورا آپریشن فیل ہو جاتا ہے۔

جمعہ 5جون کو اسی اخبار میں میرا جو آرٹیکل شائع ہوا اس کا عنوان تھا: ”آگ سے مت کھیلو“…… اس کا ایک حصہ یہ تھا: ”قراقرم ہائی وے اور سی پیک چین کے سٹرٹیجک اہمیت کے راستے ہیں۔ اگر چین، بیجنگ یا شنگھائی سے اپنی بحریہ کو بحرہند میں لانا چاہے تو آبنائے ملاکا کو استعمال کرے گا۔ لیکن یہ آبنائے، انڈیا کی طرف سے کسی بھی لمحے بلاک کی جا سکتی ہے“…… اس کے بعد لکھا گیا تھا کہ اگر آبنائے ملاکا بند ہو گئی تو چین: ”قراقرم ہائی وے یا سی پیک کی متبادل آرٹلری استعمال میں لائے گا“۔

آج کل کورونا کی وجہ سے دفتر نہیں جاتا۔ آرٹیکل واٹس آپ پر بھیج دیتا ہوں اور کمپوزنگ کے بعد پروف ریڈنگ کرکے واپس واٹس آپ (WhatsApp) ہی کے ذریعے فائنل بھی کر دیتا ہوں۔ لیکن ادارتی صفحے کے ایڈیٹر صاحب پھر بھی ایک سرسری نظر ڈال کر چیک کر لیتے ہیں کہ کہیں کوئی کمپوزنگ کی غلطی تو نہیں رہ گئی۔ انہوں نے جب اس کالم میں یہ فقرہ دیکھا: ”قراقرم یا سی پیک کی متبادل آرٹری استعمال میں لائے گا“ تو ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آ سکی کہ آرٹری (Artery) کا معنی بڑی سڑک یا شاہراہ بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے آرٹری کو آرٹلری بنا کر ”تصحیح“ کر دی۔ ان کے عسکری ذخیرۂ لغت میں ”آرٹلری“ ایک معروف عسکری اصطلاح ہو گی لیکن ”آرٹری“ چونکہ ایک جدید عسکری اصطلاح تھی اور اس کا استعمال ہائی پروفائل ملٹری تحاریر و مضامین میں کیا جاتا ہے اس لئے ان کی دانست میں کالم نگار کی طرف سے ”غلطی“ ہو گئی جس کی ”اصلاح“ کرکے اس فقرے کو یوں بنا دیا گیا: ”تب چائنا، قراقرم ہائی وے اور سی پیک کی متبادل ”آر ٹلر ی“ استعمال میں لائے گا۔“…… اللہ اللہ خیر سلا!

میں نے یہ تفصیل اس لئے قارئین کے سامنے رکھی ہے کہ جدید عسکری تحریریں ایسی اصطلاحوں کا عام استعمال کر رہی ہیں جن کے معانی اور مفاہیم ایک دوسرے حوالے سے قارئین کے اذہان میں نقش ہوتے ہیں۔ ان کو ایک بالکل جدا مفہوم میں سمجھنا وقت کا تقاضا ہے……

آج بروز ہفتہ صبح دس بجے یہ سطور لکھی جا رہی ہیں اور آج ہی انڈو۔ چائنا سٹینڈ آف پر دونوں ملکوں کے درمیان لیفٹیننٹ جنرل رینک کی سطح پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔ آج تک سرحدی تنازعات پر جتنی فلیگ میٹنگ یا ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ زیادہ سے زیادہ میجر جنرل کے رینک تک ہوتی رہی ہیں۔ اب فریقین نے رینک بڑھا کر اس ملاقات کو زیادہ وقیع اور زیادہ سنجیدہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ انڈیا کی طرف سے 14کور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ 14کور کا ہیڈکوارٹر لداخ کے دارالحکومت لیہ (Leh) میں ہے اور لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اس کور کے GOC ہیں۔(پاکستان آرمی میں GOC کا منصب میجر جنرل رینک کا منصب ہے جو ڈویژن کی کمانڈ کرتا ہے، کور کی نہیں۔ ہمارے ہاں کور کمانڈر کو GOC نہیں، کور کمانڈر کہہ کر بولتے اور لکھتے ہیں) اور چین کی طرف سے تبت کے ملٹری ڈسٹرکٹ کمانڈر شرکت کریں گے۔ PLA(پیپلزلبریشن آرمی) میں کور کی جگہ ”ملٹری ڈسٹرکٹ“ کی ٹرم استعمال کی جاتی ہے۔ یہ اجلاس مالڈو (Maldo) میں ہو گا جو LAC پر واقع ایک معروف گاؤں ہے۔ اس اجلاس سے پہلے بھی طرفین کے درمیان مذاکرات کے بارہ دور ہو چکے ہیں جن میں بریگیڈیئر اور میجر جنرل رینک کے آفیسرز شریک ہوتے رہے ہیں لیکن ان درجن بھر ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس لئے لیول اونچا کر دیا گیا ہے۔

انڈین میڈیا اس ہائی لیول اجلاس کو بڑی اہمیت دے رہا ہے اور توقع کر رہا ہے کہ چین 5مئی سے پہلے والی صورتِ حال بحال کرنے پر رضا مند ہو جائے گا اور جھیل پانگونگ (Pongong) اور وادی ء گالوان میں جاری کشیدگی کی فضا معمول پر آجائے گی اور چین نے LAC کے اندر 5کلومیٹر کے رقبے پر جو خیمے گاڑ رکھے ہیں، وہ اٹھا لئے جائیں گے!

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

شری مودی اوراس کے کمانڈروں کو کون سمجھائے کہ اگر چین نے واپس ہی جانا تھا تو مہینہ بھر کی چخ چخ کا کیا فائدہ تھا اور طرفین کے جو ٹروپس زخمی ہوئے (اور بعض حوالوں کے مطابق) مارے گئے، ان کی قربانی کی کیا ضرورت تھی؟

چین کی صورتِ حال اس تنازعے میں ایک غالب عسکری فریق کی ہے اور انڈیا کی حیثیت ایک مغلوب اور کمزور فریق کی سی ہے۔ سوال ہے کہ اتنے اونچے لیول پر آج (ہفتہ 6جون) جو مذاکرات ہو رہے ہیں کیا وہ برابری کی سطح پر ہو رہے ہیں؟ کیا چین اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹ جائے گا؟ کیا اس نے گزشتہ برس اگست میں لداخ کا سٹیٹس تبدیل کرنے پر انڈیا کو یہ چتاؤنی (وارننگ) نہیں دی تھی کہ اس کے نتائج انڈیا کے لئے ناقابلِ برداشت ہوں گے؟…… لیکن انڈیا نے اس سے کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ اصل جھگڑا دولت بیگ اولدی اور لیہ کے درمیان ان سڑکوں کی تعمیر کا ہے جو انڈیا بنا چکا ہے اور 2022ء تک (باقی ماندہ کو) بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔(74سڑکیں بنا چکا ہے اور باقی 20آئندہ دو برسوں میں مکمل کرنا چاہتا ہے) مزید برآں دولت بیگ کا ائر سٹرپ بھی چائنا کی آنکھ کا بڑا کانٹا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کسی بھی جنگ کی صورت میں دولت بیگ کے ائرسٹرپ سے قراقرم ہائی وے اور سی پیک کو بلاک کر سکتا ہے اور دیامر بھاشا ڈیم کو براہ راست زیرِ خطر لا سکتا ہے۔ یہ بات چین کو منظور نہیں اور یہی فساد کی اصل جڑ ہے۔

چین کا اصرار ہے کہ دولت بیگ کے ائرسٹرپ کو نان فنکشنل بنایا جائے اور وہاں انڈیا نے ایک بریگیڈ کی جو نفری مقیم کر رکھی ہے یا مقیم کرنے کا پروگرام رکھتا ہے، اسے ختم کیا جائے۔ لیفٹیننٹ جنرل لیول کی اس میٹنگ میں انڈیا کو بتا دیا جائے گا کہ وہ اس انتہائی اہم علاقے (دولت بیگ، جھیل پانگونگ اور ڈوبچک وغیرہ) سے بوریا بستر سمیٹے اور واپس لیہ تک چلا جائے۔ لیہ کا ہوائی اڈہ اتنا بڑا نہیں کہ وہاں سے کسی لارج سکیل پر ٹروپس کی نقل و حرکت کا اہتمام کیا جا سکے۔ یہ دولت بیگ اولدی کا ائرسٹرپ اور جھیل کے آس پاس بنائی گئی سڑکیں انڈین فوج کی آئندہ ڈیپلائے منٹ کے لئے بہت کارآمد تصور کی جا رہی ہیں۔ اور چین کے علاقوں (اقصائے چین، سنکیانگ اور تبت کے جنوب مغربی حصے) کو مغلوب کرتی ہیں۔

اب تازہ اطلاعات یہ بھی آ رہی ہیں کہ انڈیا دولت بیگ اولدی سے پیک اپ کرنے کی فکر کر رہا ہے اور سری نگر کے آس پاس ایک ایسا اور بڑا ہنگامی ائرسٹرپ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو چند برس پہلے ترک کر دیا گیا تھا۔یہ ائرسٹرپ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں بیج بہارا (Bij Behara) کے مقام پر بنایا جا رہا ہے اور جموں۔ سری نگر ہائی وے کے نواح میں ہے۔ اس کی لمبائی 3.5 کلومیٹر ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک پرانا منصوبہ ہے جس کو اب ہنگامی بنیادوں پر 8ماہ کے اندر اندر مکمل کرنے کے احکام جاری کر دیئے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ نومبر کے اوائل میں اس علاقے میں برف باری سے پہلے پہلے یہ ہنگامی ائرسٹرپ مکمل کر لیا جائے گا اور دولت بیگ اولدی ائرسٹرپ کی عدم دستیابی کی صورت میں کام میں لایا جا سکے گا۔(نقشہ دیکھئے)

مزید :

رائے -کالم -