اشفاق احمد خاں پروفیشنل ازم کی خوبی دوبارہ تعیناتی کی وجہ بنی!

اشفاق احمد خاں پروفیشنل ازم کی خوبی دوبارہ تعیناتی کی وجہ بنی!
اشفاق احمد خاں پروفیشنل ازم کی خوبی دوبارہ تعیناتی کی وجہ بنی!

  

یہ بات طے ہے کہ بیوروکریسی کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ ریاست کی ماتحت ہوتی ہے۔ جو بیوروکریٹ اپنے حلف کی پاسداری کریں اور اپنے فرائض ایمانداری سے سر انجام دیں انہیں ہر دور میں اہم ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں کیونکہ ہر حکومت بہتر نتائج کے لئے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ یہ پریکٹس قیام پاکستان کے بعد سے جاری ہے۔ ہر دور میں ان افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جاتا رہا ہے جنہیں نتائج حاصل کرنے میں ملکہ ہو۔ حال ہی میں لاہورمیں انتظامی عہدوں پر تبادلے کئے گئے ہیں۔ ان تبادلوں سے ان تمام افواہوں کا خاتمہ ہو گیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ حکومت اب ان افسران کو دوبارہ نہیں لگائے گی جو موجودہ آء جی پولیس کی لابی کا حصہ نہیں یا پچھلے دور حکومت میں بہتر نتائج کے حوالے سے جانے جاتے ہیں یا اعلی عہدوں پر کمانڈ کرتے رہے ہیں۔ایک سرکاری افسر اپنی سروس کے دوران کم از کم پانچ سے چھ حکومتیں بدلتے دیکھتا ہے۔ مختلف وزرا کے ماتحت کام کرتا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندوں کے ساتھ محکمہ کی بہتر کارکردگی کے لئے محنت کرتا ہے۔ یہ بیوروکریٹس نہ تو کسی فرد واحد کے ماتحت ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی حکومت کے کارخاص سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ وقتی مفادات کے لئے کسی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ ذاتی حیثیت میں منسلک ہو جائیں لیکن اس کا خمیازہ بھی وہی بھگتتے ہیں۔ اس وقت بھی ایسے کئی افسران کو نیب کا سامنا ہے۔ جو افسران اپنی پروفیشنل پہچان اور محکمانہ شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں انہیں نہ تو حکومتیں بدلنے سے فرق پڑتا ہے اور نہ ہی کوئی حکومت انہیں انتقام کی بھینٹ چڑھاتی ہے۔

پروفیشنل، محنتی اور ایماندار افسران کو ہر دور حکومت میں پسند کیا جاتا ہے کیونکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں اور اپنے کام کو اپنی پہچان بناتے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خاں انہیں دوسری بارڈی آئی جی آپریشن لاہورکے عہدے کی کمان سونپی گئی ہے جو کہ ان کی پروفیشنل قابلیت کا اعتراف بھی ہے۔اشفاق احمدخان چھ ماہ قبل بھی لاہورکے ڈی آئی جی آپریشن تھے۔تقریباًچھ ماہ قبل پنجاب میں اعلی سطحی تبادلوں کے دوران آئی جی پولیس، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کئی سینئرپولیس افسران کے تبادلے کیے گئے تو اس دوران اشفاق احمد خاں کو بھی تبدیل کیا گیا اور اب ایک بار پھر اشفاق احمد خاں کو پنجاب کے سب سے بڑے اہم صوبائی دارالخلافہ میں آپریشنل پولیس فورس کی کمانڈ سونپی گئی ہے۔ اشفاق احمد خاں کی تعیناتی کی ایک اہم وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ان کی لیڈر شپ کی خصوصیات کرائم کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے قبل جب وہ ڈی آئی جی لاہور کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے تو وہ لاہورکے تمام ایس پیز، ایس ڈی پی اوز،ایس ایچ اوز اور تمام طبقہ کی اہم شخصیات بالخصوص میڈیاسے مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔

انہیں عوام اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مسائل حل کرنے اورخصوصا پولیس ویلفیئر اور شہدا کے خاندانوں کی ویلفئر کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر محکمہ پولیس میں شہرت حاصل ہے جبکہ پولیس میں ایماندار، محنتی اور اپنے پیشے سے مخلص آفیسران کی ہمیشہ قدروقیمت اور عزت ہوتی ہے۔ اشفاق احمد خان سے اکثر ملاقات کے دوران میں نے ان کی باڈی لینگویج سے دیکھا ہے کہ وہ جس اعتماد کے ساتھ گفتگو کر تے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پولیس کے کمانڈ ر کے طور پر صرف عہدے سے لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ بھرپور انداز میں نتائج حاصل کرنا ان کا اولین مقصد ہے وہ جہاں بھی جاتے ہیں فورس کا مورال بلند کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ آء جی آفس میں اپنی تعیناتی کے دوران انھوں نے ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر کی نگرانی میں پرموشن کے دیرینہ لٹکے معمالات کو اس طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے کہ سفارش نہ رکھنے والوں کو بھی میرٹ پر انصاف دے کر ادارے کے معیار کو بلند کیا ہے اورکسی کومیرٹ چیلنج کرنے کی ہمت نہیں ہوء حالانکہ تاریخ گواہ ہے جب بھی پرموشن کا عمل دہرایا جاتا ہے میرٹ کی خلاف ورزی پر بہت سارے افسران انصاف کی غرض سے عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں سب انسپکٹرز سے انسپکٹرز،انسپکٹر سے ڈی ایس پیزاور ڈی ایس پیز سے ایس پیز تک کے افسران کو ترقی ملنے سے وہ عمر بھر ایسے افسران کی سلامتی اور ان کے بچوں کے لیے دعا گو رہتے ہیں، اشفاق احمد خاں نے اسٹیبلشمنٹ سمیت لاہور میں جتنی بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کامیابیوں کا زیادہ تر سہراایڈیشنل آء جی بی اے ناصر کے سر ہے اشفاق احمد خاں میں بھی یہ خوبی شامل ہے کہ وہ اپنے سینئر کمانڈر کو ہمیشہ بہت زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان کی دوبارہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعیناتی سے امید قائم ہوئی ہے کہ لاہورمیں نہ صرف کرائم کنٹرول ہو گا بلکہ شہری سکون کی نیند بھی سو سکیں گے۔اشفاق احمد خاں کمیونٹی پولیسنگ کے نہ صرف حامی ہیں بلکہ اس سلسلے میں اہم اقدامات بھی کرتے رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ عوام دوست پولیسنگ یعنی کمیونٹی پولیسنگ کے لئے وہ اب پہلے سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں گے اور پولیس کا کھویا ہوا مقام بھی اسے ضرور دلوائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -