پاکستانی بچوں سے بداخلاقی، قتل کے واقعات: اجتماعی ضمیر کہاں ہے؟

پاکستانی بچوں سے بداخلاقی، قتل کے واقعات: اجتماعی ضمیر کہاں ہے؟

  

رپورٹ: یونس باٹھ

پاکستان میں اوسطاً روزانہ تقریباً سات بچے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنتے ہیں۔ اکثر اوقات ایسے بچے بچیوں کو قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ مگر قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں آج بھی اس موضوع پر کھل کر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح کا ایک افسوس ناک واقعہ عید الفطر کے روز پنجاب کے ضلع قصور میں پیش آیا جہاں پولیس اہلکار سے دوستی نہ کرنے کے جرم میں نوجوان کو قتل کر دیا گیا۔قصور کے علاقے کھڈیاں میں قاری خلیل الرحمن کے حافظ قرآن بیٹے کو عید کے دن ہی پولیس کانسٹیبل نے بری نیت سے دوستی اور برائی نہ کرنے پر قتل کر دیا،واقعہ کا مقدمہ حافظ قرآن کے والد قاری خلیل الرحمان کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، والد کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم معصوم علی نے میرے بیٹے سمیع الرحمان کو عید کے روز صبح مسجد جاتے ہوئے گلی میں روکا اور کہا کہ عید کے دن بھی میری بات نہ مانی تو اچھا نہیں ہو گا، میرے بیٹے نے انکار کیا تو ملزم نے فائرنگ کر دی جس سے میرا بیٹا زخمی ہو گیا، اسے علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسکی موت ہو گئی ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ملزم عیاش قسم کا آدمی ہے اور میرے بیٹے کو ہراساں کرتا رہتا تھا، اسکے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل ہونے والے حافظ سمیع الرحمن نے اس مرتبہ رمضان المبارک میں پہلی دفعہ تراویح میں قرآن مجید سنایا تھا،شہریوں کا کہنا ہے کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے پورے پاکستان کے مذہبی طبقہ کو ہم آہنگ ہونا چاہیے ورنہ سانحہ ساہیوال اور قصور میں سینکڑوں بچوں کے ویڈیو سکینڈل کے اقراری مجرم اس نا انصافی کے دور میں رہا ہو چکے ہیں،ملزم کو سزا دلوانے کے لئے تمام مذہبی جماعتوں کو ایک ہونا ہو گا.۔''اگر میں اپنے بچے کے ساتھ بداخلاقی کی نیت سے قتل کرنے والے مجرم کو جلا کر اس کا جسم خاک بھی بنا ڈالوں، تو بھی میری روح کو سکون نہیں ملے گا۔ میں اسے کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی،“ یہ کہنا تھا مقتول حافظ قران سمیع الرحمن نو عمر بچے کی والدہ کا۔ کسی بچے کی موت اس کے والدین کے لیے یقینی طور پر بہت بڑا المیہ ہوتا ہے لیکن ان والدین کو کیسے سکون آئے جن کے معصوم سے بیٹے بیٹیوں کے ساتھ مجرم پہلے جنسی بداخلاقی کرتے ہیں اور پھر انہیں قتل بھی کر دیتے ہیں۔اسی طرح نوعمر حافظ قران سمیع الرحمن کے نانا ابو کا کہنا ہے کہ افسوس افسوس مظلوم و مقتول حافظ قرآن تھا،ان کا والد بھی عالم دین اور گھرانہ دینی تھا.عید کی صبح حافظ سمیع الرحمان کو قصور میں پولیس کانسٹیبل نے ناجائز تعلقات اور بری دوستی نہ رکھنے پر قتل کر ڈالا ہے،ایک حافظ قرآن کا قتل!ایک ایسے جوان کا قتل جس نے امسال پہلی بار تراویح میں قرآن سنایا تھا،ایک امام کا قتل!فرض کریں یہ قاتل اور بد اخلاقی کرنے والا شخص کانسٹیبل کی بجائے مدرسے کا کوئی مولوی ہوتا،میڈیا اپنے کیمرے لیکر مسجد کے حجرے میں پہنچا ہوتا.نوجوان بچہ ہمارے گھر کی رونق اور والدین کے بڑھاپے کا سہارا تھا والد نے مختلف ٹی وی چینلوں پر بیٹھے اینکرز سے ملزمان کوقرار واقعی سزا دلوانے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے مقتول کے چھوٹے بھائی نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ.ایف آئی آر ہوگئی ہے،چند دنوں میں با اثر لوگ دباؤ ڈالیں گے اور ہمیں جبری صلح کرنے پر بھی مجبور کیا جائے گا بات ختم.یہ واقعہ ملتان شریف یا شرق پور شریف میں نہیں ہوا ہے یہ قصور کا واقعہ ہے جہاں سینکڑوں بچوں کے ساتھ سال پہلے جنسی بداخلاقی کے کیسز ہوئے مگر وہ ملزمان آج بھی دند ناتے پھر رہے ہیں.ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عید کے دوسرے دن کانسٹیبل کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جاتا اور عبرت بنادیا جاتا۔واضح رہے2018ء میں پاکستانی شہر قصور کی کم عمر زینب کی تصویر نے سب کے دل دہلا دیے تھے۔ اس بچی کو بداخلاقی اور قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت دے بھی دی گئی لیکن پاکستانی معاشرے میں ایسے جرائم کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ زینب کے قتل کے بعد بھی قصور میں اس نوعیت کے مزید جرائم کا تدارک نہیں کیا گیا۔ایسے متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کی مشاورت کے لیے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں والدین، اسکول، مدرسے، اساتذہ اور وہ تمام ادارے اور افراد جو بچوں سے رابطے میں ہوتے ہیں، اپنا کردار ادا کریں انہیں بتایا جائے کہ بچوں کے حقوق کیا ہیں اور یہ کہ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری سب کا مشترکہ فرض ہے۔ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تو والدین کو پتا ہونا چاہیے کہ انہیں بچے کو نہلانا نہیں ہے، اس کا لباس دھونا نہیں چاہیے، تا کہ پولیس کارروائی کے دوران کپڑے بھی ثبوت کے طور پر استعمال ہو سکیں۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا موقف ہے کہ'' پاکستان میں بہت ہولناک صورت میں بچوں کے ساتھ جنسی بداخلاقی کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ سال کے پہلے چھ ماہ میں تیرہ سو سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی بداخلاقی کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔“ اس تعداد میں وہ بہت سے جرائم شامل ہی نہیں ہیں، جن کی متاثرہ بچوں کے والدین پولیس کو رپورٹ نہیں کرتے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایسے زیادہ تر جرائم میں متاثرہ بچے کا کوئی نہ کوئی قریبی رشتہ دار، پڑوسی یا جاننے والا ملوث ہوتا ہے اور یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ ایسے کیسز پولیس کو رپورٹ نہیں کیے جاتے۔ایک سابق وفاقی محتسب کے مطابق دوہزار سترہ میں ملک بھر میں ایسے چار ہزار ایک سو انتتالیس واقعات سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں رونما ہوئے، جہاں ایک ہزار نواسی بچے جنسی بداخلاقی کا شکار بنے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قصور میں گزشتہ دس برسوں میں 272 واقعات ہوئے، جس میں با اثر لوگ ملوث تھے۔سابق وفاقی محتسب کی اس رپورٹ پر انسانی اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی رکن انیس ہارون نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”حالیہ برسوں میں بچوں کے ساتھ جنسی بداخلاقی کے واقعات روکنے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے، جیسا کہ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی یا چائلد پروٹیکشن سیل کی طرز کے ادارے تقریباً تمام صوبوں میں ہیں۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین بھی ہیں لیکن ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہو رہا۔“بچوں سے بد اخلاقی کے واقعات پر مبنی محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ جو ایک سال قبل پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی، رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ستمبر2019 تک بچوں سے بداخلاقی کے کل 1024 مقدمات رجسٹر ہوئے،1024 میں سے 856 مقدمات کی تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں جمع کرائے جاچکے ہیں،لاہورمیں ستمبر 2018 سے مارچ 2019 تک بچوں سے بداخلاقی کے 152 مقدمات رجسٹرہوئے.پنجاب میں 905 بچے اور 411 بچیاں بداخلاقی کا نشانہ بنیں۔ ان میں سے 11 بچے اور 10 بچیوں کوبداخلاقی کے بعد قتل کر دیا گیا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ضلع لاہور میں 105 بچوں سے بداخلاقی 94 بچیوں سے بداخلاقی کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ جبکہ 2 بچے اور 1 بچی کو قتل کر دیا گیا۔گوجرانوالہ میں 72 بچوں سے بداخلاقی، 50 بچیوں سے بداخلاقی کے کیسز رپورٹ ہوئے، ایک بچی قتل ہوئی۔ فیصل آباد ریجن میں 60 بچوں سے بداخلاقی 15 بچیوں سے بداخلاقی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ ایک بچی قتل ہوئی۔ ملتان ریجن میں 36 بچوں سے بداخلاقی اور 13 بچیوں کے ساتھ بداخلاقی کے کیسز رپورٹ ہوئے۔ بہاولپور ریجن میں 38 بچوں سے بداخلاقی 20 بچیوں کے ساتھ بداخلاقی کے واقعات ہوئے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ایک ہزار انتالیس کیسز کو حل کر دیا گیا۔ جبکہ لاہور ضلع کے بچوں سے زیادتی کے کئی کیسز تا حال حل نہ ہو سکے۔ پولیس حکام کے مطابق زیادہ کیسز سامنے آنے والے علاقوں میں پولیس پیٹرولنگ بڑھا دی گئی۔ قصور اور چونیاں سمیت دیگر علاقوں میں ڈالفن فورس تعینات کی گئی ہے جس خوفناک تعداد میں بچوں سے بداخلاقی کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، لگتا ہے جیسے ہمارا معاشرہ بچوں کی پرورش کیلئے سب سے بھیانک معاشرہ بن چکا ہے۔کوئی دن ایسا نہیں گذر رہا کہ جب کوئی واقعہ میڈیا پر رپورٹ نہ ہو۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھے مہینوں میں بچوں سے جنسی بداخلاقی کے 1300 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ بہت بڑی تعداد ان کیسز کی بھی ہے جن کی رپورٹ درج نہیں کروائی گئی.اسی برس ماہ جنوری میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں سے بداخلاقی میں پنجاب پہلے نمبر پر ہے۔ صرف قصور میں گذشتہ دس برس کے دوران واقعات کی شرح 6 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد سے زائد ہوگئی۔ نظام کی خرابیوں کے باعث 97 فیصد سے زائد مجرم سزا سے بچ نکلے ہیں۔اب حالیہ واقع میں پولیس کانسٹیبل کے ہاتھوں قتل ہونیوالے حافظ قران سمیع الرحمان کے واقعہ کا وزیراعلی پنجاب نے بھی نوٹس لے رکھا ہے جرورت اس امرکی ہے کہ ملزم کو قرار واقع سزا ملنی چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -