والدین کی عدم توجہ !نو عمر بچے :جرائم پیشہ افراد کا شکار

والدین کی عدم توجہ !نو عمر بچے :جرائم پیشہ افراد کا شکار

  

پاکستانی مسلم معاشرے میں جس تیزی کے ساتھ نوجوانوں او رکمسن بچوں میں جرائم فروغ پا رہا ہے اسکی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملتی جس کی بنیادی وجہ والدین کی غفلت اور تدریسی نظام میں بے پناہ حامیوں کو بیان کیا جاتا ہے والدین اگر اپنے بچوں کو اپنی بے پناہ مصروفیات سے چند لمحے نکال کر تربیت کرنا شروع کر دیں تو حالات میں بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں ورنہ پاکستانی مسلم معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے سارا دن کام کاج کر کے گھر واپس لوٹنے والے والدین یا والد‘ تھک ہار کر چار پائی پر لیٹنے کو ترجیح دیتے ہیں اور بچے اپنے اپنے موبائل ہاتھ میں تھامے جرائم پیشہ گروہ کا کسی نہ کسی حوالے سے شکار بن جاتے ہیں اگر والدین یہ ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم پرائمری کلاس سے تدریسی نظام میں قانون‘ اور اس پر عمل درآمد کا کوئی ایسا مضمون شامل کیا جانا اشد ضروری ہے جس سے بچوں کی ذہنی نشوونما کی جا سکے اور انہیں یہ پتہ ہو کہ اس برے راستے کا انجام برا اور اچھائی کے عمل کا نتیجہ اچھا نکلتا ہے حکومت تدریسی نظام میں مذکورہ مضمون کو شامل کر کے ایک ایسا قابل تحسین کام کر سکتی ہے جس کا والدین کو مصروفیات سے وقت نکال کر ادا کرنا چاہیے مساجد ہوں یا سکول اب والدین اپنے کمسن بچوں کو ان مقامات پر بھیجنے سے بھی ڈرتے ہیں یونیورسٹیوں کا ماحول تو پہلے ہی یورپین ممالک سے بھی جدت پسند ہو چکا ہے نوجوان لڑکیاں‘ لڑکوں کی اکثریت بڑی تیزی کے ساتھ تباہی کے گڑھے میں گر رہے ہیں گلی محلوں میں بھی نئی نسل کو وہ ماحو ل دستیاب نہیں جسے مثالی قر ار دیا جا سکے سوشل میڈیا نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ‘اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت“ گجرات ان اضلاع میں سر فہرست ہے جہاں سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کر کے نوجوان اور کمسن نسل جرائم میں بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہو رہی ہے۔ گجرات میں سوشل میڈیا کا طرز عمل بھی بڑا عجیب سا ہے بدمعاش‘ بدکردار‘ اور اجرتی قاتل بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی خدمات پیش کرتے رہتے ہیں پی آر او برانچ جس کے سربراہ چوہدری اسد گجر ایڈووکیٹ ہیں میں ایک خصوصی سیل چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے لوگوں کی فیس بک مختلف ٹوئیٹر اکاؤنٹس‘ وائٹس ایپ کالیں اور دیگر مواد کا باریک بینی سے جائزہ لیتا رہتا ہے مشکوک حرکات پر یا قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے پر یہ فوری طور پر حرکت میں آتا ہے اور متعلقہ تھانے کو انتہائی رازداری کے ساتھ ان افراد کی گرفتاری کا ٹاسک دے دیتا ہے گجرا ت سے تعلق رکھنے والے یہ سوشل میڈیا پہلوان کی اگر ان کی مختلف ایپیلی کیشنز پر تصاویر دیکھی جائیں تو بڑے بڑے بدمعاش اور مونچھوں والے غنڈے لگتے ہیں مگر جب گرفتار ہو کر سامنے آتے ہیں تو لگتا ہے ان سے زیادہ مسکین اور شریف شاید ہی کوئی اور ہو‘ یہ سوشل میڈیا پہلوان نوجوان طبقے کو گمراہ کرنے کے لئے سب سے آسان ترین طریقہ استعمال کرتے ہیں قتل وغارت گری سے لیکر دشمن کی ٹانگ‘ بازو‘ ناک‘ سر پھاڑنے‘ کے مختلف ریٹ مقرر کیے ہوئے ہیں حسب خواہش مذکورہ نوجوان اپنے دشمنوں کو ناکوں چنے چبوانے والوں سے ڈیل کرتے ہیں پھر وہ رقم مختلف ذرائع سے کسی اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی ہے دس سے بیس فیصد کام تو ہو جاتا ہے باقی 80فیصد اپنے کام کا انتظار کرتے کرتے بوڑھے ہو گئے ہیں نہ وہ اکاؤنٹ رہے نہ وہ وائٹس ایپ پر کال وصول کرتے ہیں بعض اوقات یہی سوشل میڈیا پہلوان اس قدر خطرناک ثابت ہوتے ہیں کہ وہ مختلف طریقوں سے معاشرے میں اس قدر گند مچا دیتے ہیں جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہوں گے ویسے تو جلالپور جٹاں کو گجرات ضلع کا سب سے پسماندہ اور کم تعلیم یافتہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے، مگر اس علاقے سے تعلق رکھنے والے موجودہ نوجوانوں کی اکثریت سوشل میڈیا کے ذریعے کرائم میں کمر تک دھنسی ہوئی ہے سوشل میڈیا پر لڑکی بن کر دوستی کے بعد ملاقات کے لئے بلا کر نو عمر لڑکوں سے جنسی زیادتی کر نے والے گینگ کے دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ جلالپور جٹاں کے رہائشی نوعمر جو کہ فرسٹ ائیر کا سٹوڈینٹ ہے نے تھانہ صدر جلالپور جٹاں میں درخواست دی کے اسکی کچھ عرصہ قبل وٹس ایپ پر ایک لڑکی سے دوستی ہوئی جس نے کچھ دن بعد مجھے ملنے کے لئے بلایا ملاقات کے طے شدہ مقام پر پہنچا اسی دوران 5کس ملزمان جن میں احتشام انصر ولد محمد انصر‘ محمد غفار ولد شفقت حیات‘زاہد ارشد ولد محمد ارشد ساکنائے لکھنوال خورد اور دو نامعلوم ملزمان آگئے اور مجھے زبردستی ڈیرہ پر لے جا کر احتشام، غفار اور زاہد نے باری باری بد فعلی کا نشانہ بنایاجبکہ ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے بعد ازاں ملزمان نے میری برہنہ ویڈیو بجھوائی اور ڈیلیٹ کر وانے کے لئے دوبارہ ڈیرے پر آنے کو کہا میں ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کے لئے دوبارہ ڈیرہ پر گیا تو ملزمان نے دوبارہ میرے ساتھ باری باری بد فعلی کی جس کے بعد ملزمان مجھے بلیک میل کر تے رہے ایس ایچ او تھانہ صدر جلالپور جٹاں راجہ احسان اللہ نے مقدمہ کا اندراج کر کے تفتیش کا آغاز کیا یاد رہے کے اس سے قبل مذکور ہ ملزمان نے محلہ کشمیر نگر کے رہائشی 17سالہ نوجوان کے ساتھ بھی اسی طریقہ واردات کے ساتھ بد فعلی کی تھی جس کا مقدمہ تھانہ سٹی جلالپور جٹاں میں مقدمہ درج ہوا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات توصیف حیدر نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے ڈی ایس پی صدر سرکل سعید خاں کی سربراہی میں ایس ایچ اور تھانہ سٹی جلالپور ایس آئی عدنا ن احمداور ایس ایچ او تھانہ صدرجلالپور جٹاں الطاف گوہرپر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دیکر انہیں ہدائیت جاری کی کہ ایسے گھناونے فعل میں ملوث تمام ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے جس پرایس ایچ او سٹی جلالپور او اور ایس ایچ او صدر جلالپور جٹاں نے مشترکہ ریڈنگ پارٹی تشکیل دیکر مختلف جگہوں پر چھاپے مارنے کے بعد گینگ کے دو مرکزی ملزمان جن میں غفار ولد شفقت اور نعمان انصر شامل ہیں کو گرفتار کر لیادیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس کے چھاپے جاری ہیں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملزمان نے دوران تفتیش یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ چونکہ ایڈز کے مریض ہیں اور انہیں اس بات کا پورا علم ہے کہ وہ دنیا میں کچھ عرصہ تک زندہ رہیں گے، کیونکہ اس مرض کا شکار ایک نہ ایک دن جلد یا دیر سے دنیا سے ضرور رخصت ہو جاتا ہے ہم تو ایک طویل عرصہ سے ایڈز کا شکار ہیں ہم نے اس معاشرے سے بدلہ لینے کے لیے لڑکیوں کی آوازیں نکال کر لڑکوں کو پھنسانے کا سلسلہ شروع کیا اور اس کام میں ہم اس قدر ماہر ہو چکے تھے کہ جسے جی چاہتا اسے اپنے جال میں پھنسا لیتے ہم دراصل معاشرہ سے بدلہ لے رہے تھے اور ہماری زیادہ سے زیادہ کوشش رہی ہے کہ جس طرح کورونا وائرس ایک شخص سے کئی درجن افراد تک منٹوں اور سکینڈوں میں پھیلتا ہے اسی طرح ہم ایڈز کا مرض بھی اپنے علاقے کے نوجوانوں میں اس قدر بری طرح پھیلا دیں کہ ہمارے دل کو تسکین اور وہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر جان دیتے رہیں اس ساری خوفناک اور ہولناک تفتیش سے پی آر او اسد گجر نے ڈی پی او سید توصیف حیدر کو مطلع کیا اور بتایا کہ ملزمان بدفعلی کا مقصد صرف اور صرف ایڈز وائرس دوسرے انسان میں منتقل کرنا ہے اور وہ اپنی محرومیوں اور بیماریوں کا بدلہ موجودہ معاشرے کے سلجھے ہوئے نوجوانوں سے لے رہے ہیں ڈی پی او سید توصیف حیدر نے اس سنگین ترین مقدمہ کے بارے میں آر پی او گوجرانوالہ ریاض نذیر گاڑا کو بھی مطلع کیا اور بتایا کہ معاشرے سے اپنی محرومیوں اور بیماریوں کا انتقام لینے کے لیے بعض ذہنی مریض نوجوان جو ایڈز کا شکار ہیں بدفعلی کا ارتکاب کر کے جلالپور جٹاں جسے پہلے ہی پنجاب کا ایڈز کے حوالے سے نمبر ون ضلع قرار دیا جا چکا ہے میں ایڈزکے پھیلاؤ میں مصروف ہیں گجرات ضلع کے تمام تھانہ جات میں ان دنوں ایسے ہی مقدمات کا اندراج ہو رہا ہے جو والدین کی غفلت کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار نوجوان نسل کی تباہی کا ذمہ دار ہے ایک ایسے ہی اور واقعہ میں لالہ موسیٰ کی رہائشی لڑکی سے زبردستی جنسی زیادتی اور ویڈیو بنانے والا شیطان صفت ملزم بھی گرفتار کرلیا گیا لالہ موسیٰ کے علاقہ قاضی کرم شاہ کی رہائشی لڑکی نے پولیس تھانہ صدر جلالپورجٹاں کو اطلاع دی کہ ملزم حسن عسکر ی ولد سید قلب جعفر ساکن کوٹلی شہانی اسے گاڑی میں بٹھا کر اپنے چچا کے گھر لے گیا اور وہاں پر اس نے نشہ آور مشروب پلا کر زبردستی جنسی زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنا لی بعد ازاں ملزم مجھے بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، جس سے میں حاملہ ہوگئی ملزم نے دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو وہ ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پراپ لوڈ کرکے پوری دنیا میں ذلیل و خوار کردے گا ملزم حسن عسکری نے دھمکی دی کہ اگر حمل نہ گرایا تو وہ مجھے جان سے ماردے گا ایس ایچ او تھانہ صدر جلالپورجٹاں الطاف گوہرنے متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں نامزد ملزم کے خلاف فوری مقدمہ درج کرکے شیطان صفت ملزم کی گرفتار ی کے لئے مختلف چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دیں جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت سے انتہائی کم وقت میں ملزم حسن عسکری کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -