کورونا وائر س سے بچائو سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں

کورونا وائر س سے بچائو سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں

  

اسپیشل رپورٹ شیخوپورہ

(محمد ارشد شیخ بیوروچیف)

جو ماہرین صحت عوام کو کورونا وائرس سے بچاؤکی حفاظتی تدابیر اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے آگاہی دے رہے ہیں وہ یقینا حقیقی مسیحا ہیں ان کا یہ اقدام اس نظریہ سے بھی نہایت ناگزیر اور اہم ہے کہ اس آگاہی سے کورونا کے بارے میں عوام کے خیالات کی سمت درست رہے اور بروقت معلومات حاصل ہونے سے کورونا سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے میں سنجیدہ اقدامات اٹھائے جاسکیں جبکہ یہ کہنا بھی سراسر غلط ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا فقط حکومتی یعنی ادارتی جاتی ذ مہ داری ہے یہ سوچ قطعی مثبت نہیں بلکہ اتنی غیر حقیقی اور خطرناک ہے کہ اس سوچ کے مزید پروان چڑھنے سے کورونا کی وباء سے چھٹکارا ممکن نہیں رہے گا اور اسی خدشہ کے تحت حکومت نہ صرف عوام کو احتیاط کرنے کی بار بار تلقین کررہی ہے بلکہ اپنے انتظامی اداروں کے تحت مختلف نوعیت کے اقدامات اٹھانے سمیت ایسے افراد کے خلاف کاروائیاں بھی کررہی ہے جو کورونا وائرس کی حفاظتی تدابیر کی دھجیاں اڑا رہے ہیں مگر یہ اقدامات اور کاروائیاں یقینا ناکافی ہیں بلکہ انہیں فقط کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی سنجیدگی کے زاویہ سے دیکھنا چاہئے ایسا ہرگز ممکن نہیں کہ عوام کا تعاون شامل حال نہ ہو اور حکومت کورونا وائر س جیسی خطرناک وباء کا خاتمہ اپنی تائیں ممکن بناسکے اس کیلئے حقیقی کردار عوام کا ہے جنہیں حفاظتی تدابیر پر عمل کرکے نہ صرف اپنی صحت اور زندگی کو محفوظ بنانا ہے بلکہ اپنی لاپرواہی سے دوسروں کی صحت اور زندگیاں بھی خطرے میں ڈالنے سے مکمل گریز برتنا ہے جبکہ عوام کی ابتک کی غیر سنجیدگی ہی کا نتیجہ ہے کہ بعض ماہرین صحت یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہمیں ممکنہ طور پر کورونا کے ساتھ مہینوں یا سالوں تک رہنا ہی ہوگااوراس حقیقت کو مان کر زندگی گذارنا سیکھنا ہوگا اور خداناخواستہ یہ کہ کورونا وائرس کسی فرد کے خلیوں میں داخل ہواور وہ بالٹیاں بھر بھر کر گرم پانی بھی پی لے مگر ماسوائے بار بار پیشاب کیلئے دوڑنے سے کچھ آفاقہ نہ ہو بہتر ہے کہ 24گھنٹوں میں وقفے وقفے سے ہاتھ دھوئے جائیں اورایک دوسرے سے دو میٹر کا فاصلہ رکھا جائے جو پہلا بنیادی اور بہترین بچاؤ ہے دوسرا یہ کہ اگر آپ کا کوئی اہل خانہ یا ہمسایہ کورونا وائر سے متاثر نہیں تو گھر کا فرش روزانہ دھو کر ڈس انفیکٹ کرنے کی کسی حد تک ضرورت نہیں اور اگر اسے بھی روزانہ معمول بنالیا جائے تو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ کم سے کم ہونے سمیت مختلف صحت دشمن کیڑے مکوڑوں سے بھی چھٹکارا حاصل ہونا یقینی ہے،اسی طرح ڈیلیوری کے باکس، پیٹرول پمپس، شاپنگ کی ٹرالیاں اور اے ٹی ایم مشینز کے حوالے سے بعض ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ان سے کورونا کی انفیکشن نہیں ہوتی مگر ہر ممکن احتیاط ضرور برتی جائے جس کیلئے بنیادی عمل مذکورہ چیزوں کو ہاتھ لگانے یا استعمال کے فوری بعد ہاتھوں کو کم از کم 20سیکنڈز تک دھونا ہے جبکہ کورونا خوراک سے پھیلنے والی بیماری بھی نہیں ہے یہ فلو کے قطروں سے پھیلنے جیسی بیماری ہے ابھی تک ہوم ڈیلیوری کھانا آرڈر کرنے سے کورونا پھیلنے کا کوئی خطرہ ثابت نہیں ہواپھر بھی یہ کھانے پینے کی اشیاء کی پیکنگ کھولنے میں احتیاط برتیں اور ایسی کمپنیز کی اشیاء منگوائیں جن کی پیکنگ مناسب اور احتیاط پر مبنی ہو،زیادہ مسئلہ ہو تو مائکروویو میں گرم کر لیں، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کی سونگھنے کی حس کسی بھی الرجی یا وائرل انفکیشن سے متاثر ہو سکتی ہے یہ صرف کورونا کی علامت نہیں ہے اسی طرح کہا جارہا ہے کہ جب کوئی فرد گھر پہنچے تو اسے فوری طور پر کپڑے بدلنے یا شاور لینے کی بھی ضرورت نہیں مگر یہ دونوں موقف اکثریتی طور پر تسلیم شدہ نہیں اکثریتی ماہرین نے اسے اندازوں پر مبنی خیالات قرار دیا ہے البتہ اس بات پر ماہرین کی اکثریت ہم خیال ہوتی نظر آرہی ہے کہ کورونا وائرس ہوا میں معلق نہیں رہ سکتا یہ سانس سے نکلنے والی رطوبت سے لگنے والی بیماری ہے جس کے لیے مریض کے قریب ہونا ضروری ہے، ہوا بالکل صاف ہے، آپ باغ یا پارک میں سیر کر سکتے ہیں البتہ دوسروں سے فاصلہ رکھنے کی احتیاط جاری رکھیں، عام صابن کا استعمال بھی کافی ہے البتہ اس کے لیے اینٹی بیکٹریل صابن کا ہونا نہایت موذوں ہے، اپنے جوتوں کے ساتھ کورونا وائرس کا گھر میں آنے کے خدشہ کو ختم کرنے کیلئے گھر میں داخل ہوتے ہی جوتے تبدیل کریں اور اتارے گئے جوتوں کو اچھی طرح صاف کرلیں، سرکہ، گنے کے جوس یا ادرک کا پانی استعمال کرنے سے امیونٹی بڑھتی ہے، مسلسل ماسک کا استعمال آپ کے سانس لینے کے نظام اور جسم میں آکسیجن کی مقدار پر تھوڑا بہت اثر یقینا ڈالتا ہے لہذاٰ جب تنہا ہوں تو ماسک اتار دیں، دستانوں کا استعمال موثر آئیڈیا ہے مگر یہ بھی جان لیں کہ اکثر وائرس دستانوں کی سطح پر جمع ہو جاتے ہیں اور اگر غلطی سے ہاتھ منہ کو لگ جائے تو بیماری پھیلنے کا زیادہ امکان ہو جاتا ہے بہتر ہے کہ ہاتھ دھونے والی احتیاط کو معمول بنائیں اور جب دستانے اتاریں تو اس طرح یہ عمل انجام دیں کہ وائرس کے آپ کو متاثر کرنے کا خدشہ ختم ہوسکے جبکہ ماسک اور دستانے اتارنے یا تبدیل کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف انداز عوام کی آگاہی کیلئے بتائے گئے ہیں، بعض ماہرین طب نے نئی تھیوری پیش کی ہے کہ آپکے جسم کا مدافعتی نظام یعنی امیونٹی کمزور ہو جاتی ہے اگر آپ مسلسل ایسے ماحول میں رہیں جہاں آپ کے جسم کو کسی قسم کے وائرس کا خطرہ نہ ہو(امیونٹی تب ہی بڑھتی ہے جب انسانی جسم ہوا سے مختلف جراثیم لیتا رہتا ہے اور اسکا مدافعتی نظام ان جراثیم کو مارتا رہتا ہے) تاہم یہ تجزیہ اور سوچ قطعی کسی طرح کے ثبوت پیش نہیں کرتی اور لگتا ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے یہ بات فقط اندازوں پر مبنی ہے مگر یہ بات طے ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر پر عملدر آمد نہ ہونا نہایت خطرناک ہے اور ہیں اپنی اور دیگر افراد کی صحت اور زندگیوں کے تحفظ کی خاطر کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر ہر حال میں عملدر آمد یقینی بنا کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا ہوگاواضح رہے کہ انتظامی افسران خصوصاً اضلا ع کی پولیس سے مکمل تعاون برتا جائیں کیونکہ کورونا کے ایس او پیز پر عملدر آمد کی ذمہ داری حقیقی معنوں میں پولیس ہی کے سر پر آن پڑی ہے جس طرح ڈی پی او شیخوپور ہ غازی صلاح الدین، ڈی ایس پی سٹی میاں خالد محمود اور ڈی ایس پی صدر غلام عباس کی سربراہی میں تمام تھانوں کی پولیس اس سلسلہ میں اپنا مثبت و جاندار کردار ادا کررہی ہے اور دن رات کورونا ایس او پیز پر عملدر آمد کیلئے کوشاں ہے اسی طرح دیگر اضلاع کی پولیس بھی کی کاوشیں بھی سراہے جانے لائق ہیں جنہیں ہرگز نظر اندازنہ کیا جائے اور پولیس کو بے جاتنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے شہری اپنا بھرپور تعاون شامل حال رکھیں کیونکہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے حکومتی ایس او پیز جن پر پولیس عملدر آمد کروارہی ہے وہ براہ راست تمام شہریوں کی صحت کے تحفظ کی ضمانت ہیں لہذاٰ پولیس سے تعاون کرنا کوئی گھاٹے کا سودہ نہیں بلکہ شہریوں کی اپنی صحت کی حفاظت کی ضمانت ہے اس لئے ڈاکٹرز کی طرح پولیس کو سراہئے اورسلوٹ پیش کیجئے کیونکہ پولیس بھی کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سولجر کا کردار ادا کررہی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -