کرپشن اور جرائم ملک بھر میں روکنا،اشد تقاضا

کرپشن اور جرائم ملک بھر میں روکنا،اشد تقاضا

  

ملک میں کرپشن کا روکنا یا سد باب، کرنا بلاشبہ ایک مثبت اقدام ہے۔ اس جرم میں ملوث افراد سے اکثر اوقات یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ حکومت کی اپوزیشن کرنے والی کوئی بڑی جماعت یا ان کے اتحادی راہنما اور کارکن افراد ہی اس غیر قانونی روش یا دھندے کی وارداتوں کے ارتکاب میں ملوث ہیں۔ یہ الزام یا تصور کسی حدتک تو درست ہو سکتا ہے۔ لیکن ملک بھر کے مختلف مقامات،مضافات،علاقوں،محلوں اور بستیوں میں ہونے والے جرائم کے معمول کے واقعات میں تو مذکورہ بالا افراد کو ذمہ دار اور قصور وار قرار نہیں دیا جا سکتا۔وطن عزیز میں 22کروڑ افراد کی کثیر آبادی کی تعداد پر مشتمل علاقوں میں آئے دن ڈکیتی اور فراڈ بازی سمیت جرائم کے جو متعدد اور مختلف واقعات رونما ہوتے ہیں۔کیا ان کی اکثریت میں محض اپوزیشن راہنما اور کارکن ہی زیادہ تر ملوث ہو کر غیر انسانی کارروائیوں کے بد نام زمانہ جرائم پر مبنی،ظالمانہ اور گھناؤنی وارداتیں کرتے ہیں۔؟اگر غیر جانبداری اور انصاف پسندی سے اس معاملہ پر غور کیا جائے تو جلد ہی جواب نفی میں ملے گا۔ کیونکہ اپوزیشن کے محض چند راہنما اور دیگر کارکن بد نیتی سے مجرمانہ ذہنیت اور عادات و حرکات میں ملوث سابقہ یا موجودہ دور میں ہوسکتے ہیں جبکہ ملک بھر میں شب و روز رونما ہونے والے ایسے سیکڑوں اور ہزاروں واقعاوت میں بلاشبہ عادی اور پختہ کار مجرمانہ عزائم کے حامل اور منفی حرکات میں ڈوبے اور دھنسے ہوئے لوگ ہی اس غلط کاری کے رجحان کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کو ترجیح دیتے اور واحد اور قابل عمل ذریعہ خیال کرتے ہیں۔وہ کوئی اور ذریعہ معاش کسی ذاتی نااہلی،مجبوری یا بے بسی سے حاصل نہ کرپانے کی بنا پر بالآخر جرائم کی دنیا میں ہی قدم رکھنے اور جمانے پر اکتفاء کر لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے وسائل اور حالات ساز گار سمجھ کر یا بنا کر سیاہ کاری کے اس میدان میں اتر آنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔اگر وہ ابتدائی چند وارداتوں میں اپنے عزائم یاجرائم کاری میں کامیاب ہو جائیں تو ان کے حوصلے بلند اور ارادے قدرے مضبوط ہو نے لگتے ہیں۔ پھر وہ جرائم کاری کے واقعات میں اپنے جلد مالدار اور با اثر ہونے کی کاروائیوں کی کہانیاں اور داستانیں اپنے دوست احباب کو سنا کر اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

اس طرح ملک کے مزید علاقوں اور گلی محلوں میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کو خطرات لاحق ہو جا تے ہیں۔ یہاں معاشی بدحالی،ایسے حالات کی ایک بڑی وجہ قرار دی جاتی ہے۔ بیروزگاری بھی ہرجگہ دیکھنے میں آتی ہے۔ اس میں بھی وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ روزگار کے ذرائع باقاعدگی سے مختلف صوبوں اور اضلاع میں پیدا کرے اور لوگوں کو اہلیت اور قابلیت کے مروجہ اصولوں اور قوانین کے تحت ملازمت اور اجرت پر لگایا جاے۔ وہاں سفارش،رشوت خوری اور اقرباء پروری کی خرابیوں سے گریز کیا جائے۔ آج کل حکومت وفاقی اور صوبائی سطحوں پر لوگوں کی جو مالی امدا د کر رہی ہے۔ اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ تا کہ سرکاری اداروں میں کروڑوں اور اربوں روپے کی کسی طور خورد برد اور بدعنوانی نہ ہو سکے۔ یہ امرافسوس ناک ہے کہ بعض سرکاری ملازمین اور ان کے تعلق دار یا قریبی رشتہ دار متعدد خواتین بھی اس لوٹ مار میں ملوث رہی ہیں۔ یہ متعلقہ مقتدر سیاست کاروں اور افسران کی اقربا پروری لگتی ہے۔ ایسے واقعات سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ اور جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ افزائی جو اپنے سنگین جرائم کو مجبوری کے تحت اپنانے کو جائز قرار دے کر ایسے تعلیم یافتہ لیکن مجرم طبع افراد کے حوالے دے کر اپنی وارداتوں کی پردہ پوشی کا سہارا لیتے ہیں۔

حصول تعلیم سے انسان مثبت اوصاف و کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں کا حامل گردانا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے سرکاری اداروں میں جو روزانہ اربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ کیا ان اداروں میں ملوث سینئر افسران اور ماتحت ملازمین حصول تعلیم کی اعلیٰ اقدار سے نابلد اور بے بہرہ مخلوق ہیں؟ وہ لوگ ملازم ہونے کی حیثیت سے خدا کا شکر ادا کریں کہ وہ یہاں چار یا پانچ فیصد ایسے لوگوں میں شامل ہیں جو سرکاری اداروں میں باقاعدہ ملازم ہوتے ہوئے روزگار رکھتے ہیں جبکہ ملک بھر میں دیگر لاکھوں اور کروڑوں لوگ ان کے برابر یا بہتر تعلیمی قابلیت رکھنے کے باوجود بے روزگار ہیں اور عمر بھر اپنی سر توڑ کوششوں سے بھی وہ یہاں کوئی سرکاری عہدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لحاظ سے سرکاری افسران اور ملازمین کو جرائم اور قومی دولت کی خیانت کاری کی منفی کارروائیوں سے قبل سو بار سوچنے اور غور کرنے پر توجہ لازمی امر ہے کیونکہ ان غلط کاریوں کو ترک کرنے سے ملک کی معاشی حالت میں جلد قابل ذکر حد تک بہتری واقع ہو سکتی ہے۔اس طرح غیر ملکی مالیاتی اداروں کے قرضوں کا بوجھ کم کیا جائے۔

اب راقم دوبارہ قارئین کی ابتدائی چند سطور کے موضوع کی طر ف توجہ چاہتا ہے۔ یہاں محض چند مخصوص اور حریف لوگوں کی کرپشن کے خاتمہ کی کوشش کے ساتھ ملک بھر میں بلا تفریق ذاتی تعلق اور سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر جرائم پیشہ افراد کی غیر قانونی سر گرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ تا کہ متعلقہ حکمران،وزراء،اعلیٰ حکام اور پولیس افسران مختلف علاقوں شہروں اور دیہات میں روز بروز بڑھتے جرائم اور کرپشن کے واقعات پر قابو پانے کے مؤثر اقدامات کریں۔اس طرح عام لوگوں کو اپنے جان و مال کے تحفظ اور بہتر معیار کی زندگی گزارنے کے مواقع دستیاب ہو سکیں گے۔

کرپشن کے الزامات لگانے والے افراد کو علم ہو گا کہ اس طرح حریف لوگ مجرم نہیں بن جاتے لیکن وہ شائد اپنی ملازمت اور وفاداری بہتر دکھانے کیلئے اس کارروائی کو بار بار دہراتے ہیں۔ تا کہ اپنے باس کی نظروں میں رہیں۔ ان الزامات کو متعلقہ عدالتوں میں ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ثابت کرنا لازم ہے۔ اس عرصہ کے دوران زیرسماعت مقدمات کی کارروائی ذرائع ابلاغ میں زیر بحث لانا کوئی مثبت کارکردگی نہیں بلکہ اس اقدام سے عدالتی کارروائی پر مناسب طور پر اثر انداز ہونے کا تاثر عیاں ہوتا ہے۔ اگر کسی فریق کا مقدمہ درست اور مضبوط شہادت پر مبنی ہے تو اسے ذرائع ابلاغ میں تشہیر پر تر جیح دینے کی بجائے متعلقہ عدالتوں میں جا کر اپنے ثبوت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے واضح رہے کہ مروجہ قوانین میں گاہے بگاہے ترامیم ہوتی ہیں۔ عین ممکن ہے جو بات آج کل درست ہے وہ آئندہ چند ہفتوں میں تبدیل ہو کر درست اور قابل تسلیم نہ رہے۔ جبکہ ذرائع ابلاغ میں الزام تراشی کی مذکورہ انداز کی کارروائی جاری رکھنا تعلیم یافتہ لوگوں کو ہرگز زیب نہیں دیتا بلکہ اس بارے میں اصرار کرنے سے حریف لوگوں کو بد نام کرنے کی ان کی بد نیتی اور جانبداری ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں پر فاضل عدالتیں متعلقہ قوانین اور اصولوں کی پابندی کر کے آگے بڑھتی ہیں لیکن آزاد پیشہ افراد زیادہ تر اپنی خواہش اور مرضی کے نتائج کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔ کرپشن کے سد باب کے مثبت اور وسیع اثرات کیلئے ملک کے تمام سرکاری اداروں اور دیگر شعبوں پر کڑی نظر رکھ کر متعلقہ وفاقی اور صوبائی قوانین کا نفاذ کرنے والے متعلقہ اعلیٰ حکام کو دیانتداری سے اپنے فرائض کی انجام دہی کرنا ہوگی۔ جرائم کی سازشوں اور وارداتوں پر قابو پانے سے امن و امان کے حالات بہتر ہوتے ہیں۔ یوں معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں کافی مدد ملتی ہے جو ہر حکومت کی خواہش اور ضرورت بن جاتی ہے۔

اطلاعا ٹائیگر فورس کے 64ہزار نوجوانوں کو مختلف امور ادا کرنے کی ذمہ درای تفویض کی جا چکی ہے۔ ان کے نام عہدوں اور تعیناتی کے مقامات سے عوام کو جلد آگاہ کیا جائے تا کہ ان کی کارکردگی کا پتہ چل سکے۔ عوامی کارکردگی کے اداروں میں متعلقہ حقائق ذرائع ابلاغ میں اکثر اوقات ظاہر کیے جاتے ہیں۔ تو اس معاملہ میں اخفا کا مظاہرہ کیوں کیا جا رہا ہے؟اس پردہ داری سے حکومت کی کارکردگی پر شکوک و شبہات کا عندیہ ظاہر ہوتا ہے۔ میرٹ کے متعلقہ اصولوں کی پاسداری کے بارے میں بھی ملک کے عوام کو با خبر رکھا جائے۔ آج ایک تازہ خبر کے مطابق سیالکوت شہر کے 40ہزارسے زائد ٹائیگر فورس ارکان کو 5,5ہزار روپے عید سے قبل ادا کر دئیے جائیں گے۔ اس اطلاع سے اب تک کی خفیہ کارروائی کے راز سے کچھ انکشاف منظر عام پر آگئے۔تاہم اس فورس کی تعداد ملک بھر میں تا حال 10لاکھ افراد بتائی گئی ہے۔ کیا اپنی سیاسی جماعت کے حامی افراد کو پبلک فنڈز سے کروڑوں /اربوں روپے ادا کرنا قانونی طور پر درست اقدام ہے؟

مزید :

ایڈیشن 1 -