بیوروکریسی سے مذاق بند ہونا چاہئے

بیوروکریسی سے مذاق بند ہونا چاہئے
بیوروکریسی سے مذاق بند ہونا چاہئے

  

پنجاب حکومت کے کار پرداز اس مشکل وقت میں بھی کرونا سے بچاو اور عوام کی صحت و زندگی میں بہتری کی بجائے سیاست سیاست کھیل رہے ہیں،کس وزیر،ایم پی اے اور افسر کو کہاں رکھنا ہے؟ اسکی وفاداری کس کے ساتھ ہے؟ انکی سفارشات کو کہاں لکھنا ہے؟اسی پر غور ہوتا رہتا ہے۔

رموز مملکت خویش خسرواں دانند

وزیر اعلیٰ آج بھی اسی چکر میں ہیں کہ بیوروکریسی کو اپنا غلام کس طرح بنانا ہے اور اپنی پسند کی پوسٹنگ ٹرانسفر کس طرح کرانی ہے۔پچھلے دنوں ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ پنجاب کے چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔یہ ڈس انفرمیشن خود ہی مختلف جگہ پر فیڈ کی گئی۔اس کا مقصد پنجاب کے نئے اور نیک نام چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک کو دباو میں لانے کیلئے کیا گیا تھا۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں پہلے یہ خبر پھیلائی گئی،پھر تردید کی گئی اور آخر میں چیف سیکرٹری اور چیف منسٹر کی ملاقات کرا دی گئی،جسے پورے میڈیا میں پھر سے نشر اور پرنٹ کیاگیا۔اب چیف سیکرٹری کو روزانہ کی ایسی میٹنگز میں بھی بٹھا کر مصروف کر دیا گیا ہے جس میں ان کا جانا ہی ضروری نہیں۔جواد رفیق ملک سمجھ تو گئے ہی ہوں گے،انکے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ چیف سیکرٹری ہیں اور صوبے میں اس سے بڑا کوئی عہدہ بھی نہیں ہے۔

جواد رفیق کے سامنے اپنے عہدے کو چلانے کیلئے دو مثالیں ہیں،ایک یوسف نسیم کھو کھر اور دوسرے میجر اعظم سلیمان کی۔دونوں ان سے پہلے اس حکومت کے چیف سیکرٹری تھے،دونوں ہی اعلیٰ پائے کے منجھے ہوئے افسر ہیں،بطور چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر کو ایک سال جبکہ میجر اعظم سلیمان کو چھ ماہ بھی پورے نہ کرنے دئے گئے۔دعا ہے جواد رفیق ملک کوئی درمیانی راستہ نکال لیں۔وہ ایک محنتی اور کمپیٹینٹ افسر ہیں مگر انہیں شریف افسر قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف بیوروکریسی میں ردوبدل کا جھکڑ چلانے کی ایک مرتبہ پھر سے تیاری ہو رہی ہے،تحریک انصاف حکومت نے دو سال کے عرصہ میں بیوروکریسی کو فٹبال بنائے رکھااور عہدوں پر سرکاری افسروں کی تعیناتی کو میوزیکل گیم میں بنا ڈالا، تبادلہ کے بعد سرکاری افسر ابھی اپنی نئے پوسٹ پرکام کی نوعیت ماتحتوں سے متعلق معلومات حاصل کر کے یہ بھی نہیں جان پاتا کہ کام کی ابتداء کہاں سے کرے کہ تبدیلی کا پروانہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا جاتا ہے،ایسے میں کوئی افسر کارکردگی کیا اور کیسے دکھا سکتا ہے؟ جب اسے کچھ کرنے کی مہلت ہی نہ دی جائے،جب کام شروع کرنے کا وقت آتا تو تبادلے کا حکمنامہ جاری کردیا جاتا ہے،یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ حکومت بیوروکریسی کیساتھ کھیل تماشا کر رہی ہے یا اپنا مذاق اڑانے کا سامان کر رہی ہے،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر حکومت کو امور مملکت چلانے کیلئے اپنی ٹیم سیلیکٹ کرنا ہوتی ہے لیکن حکومتی مدت کا نصف اگر ٹیم کی سیلیکشن پر لگا دیا جائے تو ایسی حکومت اپنی آئینی مدت میں ملک و قوم کی کیا خدمت کر سکے گی۔یادش بخیر اس وقت پنجاب میں چوتھا چیف سیکرٹری ہے،یہی حال پنجاب کے باقی اہم انتظامی عہدوں کا ہے۔

بیوروکریسی کسی بھی نظام کو چلانے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہو تی ہے،ہر حکمران کھیتی کی طرح اس کی حفاظت کرتا ہے،جیسے کسان زمین کو نرم اور ہموار کرنے کے ساتھ بوائی بروقت اور مناسب مقدار میں پانی دیتا اور ہر لمحہ اس کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح ہر حکومت ملک و قوم کی بہتر خدمت اور اپنے منشور پر عملدرآمد کیلئے بیوروکریسی کو سہولیات اور کام کرنے کیلئے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے،وقت بوقت ان کی ضروریات کا خیال کرتی ہے،افسروں کو ٹاسک دیا جاتا ہے مگر یہاں تو شائد ٹاسک دینے کا کوئی تصور ہی نہیں،بیوروکریسی کو ریاستی ملازم کے بجائے ذاتی ملازم بنا یا جا رہا ہے،جب جی چاہا پوسٹنگ کر دی جب دل چاہا تبادلہ کر دیا،ان حالات میں سرکاری افسر بے چینی اور بے یقینی بلکہ عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں اور چاہ کر بھی کارکردگی نہیں دکھا پاتے،مملکت خدادا میں یہ المیہ رہا کہ جب بھی منتخب حکومت بر سر اقتدار آئی سرکاری افسر بے وقعت کر دئیے گئے،شہباز شریف افسروں کو رات گئے تک اپنے گھر کے باہر اکٹھا رکھتے اور پھر علی الصبح حاضری کا حکم دیکر چلتا کرتے،مرضی کے کام لیتے،زبانی حکم دیکر سارا مدعا افسروں پر ڈال دیتے کئی افسر آج بھی ان کی من مانی کی سزا بھگت رہے ہیں، چودھری پرویز الہٰی نے اپنے دور میں افسروں کو کام کرنے کیلئے فری ہینڈ،اعتماد دیا مگر اس کیساتھ ان پر چیک بھی رھا جس کی وجہ سے بیوروکریسی نے حکومت کا دست و بازو بن کر ملک و قوم کی خدمت کی،تحریک انصاف دور میں تو بیوروکریسی لاوارث ہو کر رہ گئی ہے،کوئی والی وارث ہی نہیں،صبح کہیں اور شام کو کہیں تبادلہ۔

آئین کے مطابق منتخب نمائندوں کا کام قانون سازی ہے اور منتخب حکومت کا کام بیوروکریسی کو ملک و قوم کی خدمت کیلئے حکمت عملی دینا،اگر بلدیاتی، اقتصادی، تجارتی، صنعتی، زرعی،امن و امان،عوامی مسائل کے حل،ترقیاتی کام سب منتخب نمائندوں نے انجام دینا ہیں تو پھر اتنی بڑی انتظامی مشینری رکھنے کی کوئی تک ہی نہیں،سب افسروں کو گھر بھیج دیا جائے اور انتظام و انصرام ریاست منتخب نمائندے سنبھال لیں،وہ نمائندے جن کی اکثریت محکمانہ قوانین تو کیا ملکی آئین سے بھی واقف نہیں کیا ملک کا انتظام چلائیں گے؟یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں، جن نمائندوں کو ملکی آئین کی شدھ بدھ نہیں وہ بائی لاز کو کیسے سمجھ سکتے ہیں جبکہ یہ سب انگریزی میں ہوں اور نمائندوں کی بڑی تعداد اردو بھی پڑھنا نہ جانتی ہو،ایسے میں ضروری ہے کہ بیوروکریسی کے علم،تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ ملک کو بحرانوں سے جلد سے جلد نکالا جا سکے،وہ افسر جو کام نہیں کرتے میرٹ پر پورا نہیں اترتے،حکومتی ٹاسک کو عملی جامہ نہیں پہناتے ان کے خلاف کارروائی حکومت کا حق ہے مگر خدارا ان افسروں کو کچھ کرنے تو دیں،اس وقت ملک کورونا کیساتھ ٹڈی دل کے بحران سے دوچار ہے اور حکومت ان دونوں بلاؤں کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہے،ورثے میں ملنے والے بحران پھن پھیلائے اپنی جگہ کھڑے ہیں اور حکومت ان سے نبرد آزما ہونے کی کوئی حکمت عملی اب تک اختیار نہیں کر پائی،نیابلدیاتی نظام،پنچائت سسٹم اب بھی خواب ہیں،عام انصاف،صحت تعلیم کی سہولیات کیلئے اب بھی محتاج ہیں سفارش اور رشوت کا ناسور اب بھی موجود ہے اور اس کی واحد وجہ بیورو کریسی کی خدمات سے استفادہ نہ کرنا ہے۔

حکومت اگر چاہتی ہے کہ اس کو ملنے والی آئینی مدت یونہی بے ثمر نہ گزرے اور وہ قوم سے انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے،عوام کو دہلیز پر انصاف ملے،ظلم زیادتی کا خاتمہ ہو،ہر کام میرٹ کی بنیاد پر بروقت انجام پائے تو اس کیلئے بیوروکریسی کو متحرک اور فعال کرنا ہو گا،سالہ سال جن افسروں نے اپنے اپنے شعبوں میں خدمات انجام دیکر جو تجربہ حاصل کیا ہے اسے

سیاسی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے،ورنہ بیوروکریسی بھی عضو معطل ہو جائے گی اور ملکی انتظام جاہلوں کے ہاتھ چلا جائیگا جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہ ہو گا اس تباہی سے بچنے کا کام آج سے ہی شروع نہ ہواء تو یہ تعلیم یافتہ لوگوں کی کھیپ ملک کی خدمت انجام نہ دے سکے گی۔

مزید :

رائے -کالم -