چینی سکینڈ ل میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی منظوری

چینی سکینڈ ل میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی منظوری

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی سکینڈل میں ملوث افراد کیخلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کردی ہے جبکہ وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ عمران خان ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگانے والوں کے احتساب کیلئے اقتدار میں آئے ہیں،وزیر اعظم چینی سکینڈل معاملہ پر بہت سنجیدہ تھے،کئی لوگوں کا خیال تھا معاملہ رفع دفع ہو جائیگا،ہمارا احتساب اور اس ملک کو آگے لے جانے کا عزم اور عوام کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اتوار کو وزیر اطلاعات شبلی فراز نے معاون خصوص برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں بھی یہ فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ہم تمام ان لوگوں کا احتساب کریں گے جنہوں نے اس ملک کے عوام کو، اس ملک کے اداروں کو اور اس ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب چینی کا بحران آیا تو وزیر اعظم عمران خان نے فوراً ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا، روایت تو ہمیشہ یہی رہی ہے کہ فوراً انکوائری کمیشن بن جاتا ہے لیکن اس کی سفارشات پر کوئی عمل نہیں کیا جاتا اور وقت کے ساتھ لوگ اسے بھول جاتے ہیں،وزیر اعظم اس بارے میں بہت سنجیدہ تھے لہٰذا انہوں اس کمیشن کی رپورٹ کو بھی پبلک کیا، کئی لوگوں کا خیال تھا کہ اسے عوام کے سامنے نہیں لایا جائیگا، اس کے بعد فورنزک آڈٹ ہوا اور اس پر بھی لوگوں کے شکوک تھے کہ بات شاید اس سے آگے نہیں بڑھے گی کیونکہ شوگر کے شعبے میں بڑے بڑے طاقتور لوگ بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ناصرف مقررہ وقت پر فارنزک آڈٹ ہوا بلکہ اس کی تفصیلات بھی عوام کو بتائی گئیں۔شبلی فراز نے کہا کہ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ معاملہ یہیں رفع دفع ہو جائے گا لیکن ہمارا احتساب اور اس ملک کو آگے لے جانے کا عزم اور عوام کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ رپورٹ گزشتہ پانچ سال کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ شوگر کی صنعت میں اہم کھلاڑی اور افراد بے ضابطگی سے مافیا کے انداز میں کام کرتے ہیں اور سیاسی اثرورسوخ کے حامل ہے۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ شوگر انڈسٹری کے لوگ من چاہی زیادتیاں کر رہے تھے، یہ مافیا کی طرح کام کر رہے تھے اور اس میں موجود تمام ہی اہم اور بڑے افراد کسی نہ کسی طرح کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جس کی وجہ سے فیصلہ سازی بالواسطہ یا بلاواسطہ اثرانداز ہورہے تھے اور اس کا نتیجہ غریب عوام کی جیب سے پیسہ نکالنا تھا چاہے وہ قیمت بڑھا کر ہو، ٹیکس چوری سے ہو یا سبسڈی لے کر اپنی تجوریاں بھرنا تھا۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کے دور میں جب چینی کی قیمتیں بڑھیں تو انہوں نے پاکستانی عوام سے وعدہ کیا کہ میں اس معاملے کی تحقیق کراؤں گا، اس معاملے کو منظر عام پر بھی لاؤں گا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لیا جائے گا چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ وزیر اعظم صاحب کا فیصلہ ہے کہ چاہے کوئی شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو، وہ مالی طور پر یا باقی کسی طریقے سے کتنا ہی زورآور کیوں نہ ہو، اسے جواب دہی کرنی پڑے، یہی پاکستان تحریک انصاف کا منشور ہے اور یہی وہ مینڈیٹ ہے جو پاکستان کے عوام نے انہیں دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کمیشن اور وفاقی کابینہ کی ہدایات کی روشنی میں اپنی سفارشات میں نے وزیر اعظم کو جمع کرائی جس پر آج سینئر قیادت کے ساتھ بنی گالا میں تفصیلی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو عمل کیا جائے گا اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جس میں پہلا حصہ پینل ایکشن ہے یعنی ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا جنہوں نے پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کی اور کسی بھی پینل ایکشن کی ضمن میں آتے ہیں جس میں سزا کے ساتھ ساتھ وصولی کا عمل بھی شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرے حصے کے تحت انضباطی فریم ورک میں جو تبدیلیاں شامل ہیں جس میں انڈسٹری اور کمیشن کی رپورٹ کو یکجا کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تیسرا اور سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ شوگر کی قیمتوں کو لے کر کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ قیمتیں اس معیار پر واپس آ جائیں جو چینی کی پیداواری قیمت ہے، پہلی مرتبہ کمیشن نے چینی کی قیمت معلوم کی ہے کیونکہ اس سے پہلے شوگر مل ایسوسی ایشن والے ہی بتاتے تھے کہ چینی کتنے میں بتاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان سفارشات کو لے کر میں گیا تھا جنہیں وزیر اعظم نے منظور کر لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہوفاقی حکومت نے چینی پر 29 ار ب روپے کی سبسڈی کا معاملہ نیب کو دینے کا فیصلہ کرلیا۔ شہزاد اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ سبسڈی کی مد میں کس نے کیا فائدہ اٹھایا اس کی پوری چھان بین کی جائے گی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس بچانے اور بے نامی ٹرانزیکشن ایف بی آر کو بھیجے جارہے ہیں، قرضوں کی معافی اور برآمد ات میں سبسڈی لینے والوں کے خلاف اسٹیٹ بینک ایکشن لے گا۔انہوں نے کہا کہ مسابقتی کمیشن گٹھ جوڑ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ شوگرکمیشن کی رپورٹ میں شواہدملے کہ چینی افغانستان ایکسپورٹ کی گئی، اس کی تحقیقات ایف آئی اے کرے گا۔معاون خصوصی نے کہا کہ اضافی کرشنگ کا معاملہ اینٹی کرپشن کو بھیجا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور کے پی میں اینٹی کرپشن کا ادارہ 90 دن میں کارروائی کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے چینی سکینڈل معاملے پر20سے 25سال کی سبسڈی کی تحقیقات کیلئے ریفرنس دائر کر نے کا فیصلہ کرلیا۔ شہزاد اکبر نے بتایاکہ حماد اظہرکی سربراہی میں کمیٹی چینی کی قیمت کم کرنے کے اقدامات کرے گی، 20 سے 25 سال کی سبسڈی کی تحقیقات کیلئے ریفرنس دائرکرنیکا فیصلہ کیا ہے۔معاون خصوصی احتساب نے کہا کہ 1985 سے جنہوں نے چوری کی نیب ان معاملات کی تحقیقات کرے اور ایف بی آر ریکوریزکرے اور90 دن میں وفاق کو رپورٹ پیش کرے جبکہ کمیشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ شوگرانڈسٹری کے لوگ من چاہی زیادتیاں کررہے تھے، چینی بحران میں سیاسی لوگ بھی فائدے کے لیے ملوث ہیں۔دریں اثناوزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں گندم اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اتوار کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں گندم کی ضروریات کو پورا کرنیا ور آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول کو یقینی بنانے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں آٹے اور گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے فیصلہ کیا گیا کہ گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت کے حوالے سے تمام پابندیاں فوری طور پر اٹھا لی جائیں گی اور چیک پوسٹیں ختم کر دی جائیں گی۔اجلا س میں فیصلہ کیا گیا کہ گندم کی درآمد کی اجازت دی جائے گی اور اس حوالے سے درآمد کی مقدار پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ یہ درآمد نجی شعبے کے ذریعے کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گندم کی درآمد پر عائد ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ (واضح رہے کہ اس وقت گندم کی درآمد پر چھ فیصد اور اضافی دو فیصد ڈیوٹی عائد ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گندم اور آٹے کی بیرون

ملک اسمگلنگ کی روک تھام یقینی بنائی جائے گی۔ اجلاس میں گندم اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں گندم کی پیداوار، صوبائی حکومتوں کی جانب سے گندم کی خرید، موجود اسٹاک اور ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔زیر اعظم عمرا ن خان نے ہدایت کی ہے کہ وفاق کی طرز پر صوبائی حکومتیں بھی غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کمی لانے پر خصوصی توجہ دیں، صوبائی حکومتیں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صحت کے شعبے کی اپ گریڈیشن پر بھی خصوصی توجہ دیں،غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی جائے اور ترقیاتی اخراجات بڑھائے جائیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نجی شعبے کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ہفتہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاق اور صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے مجوزہ بجٹ برائے مالی سال 21-2020 کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیر برائے صنعت محمد حماد اظہر، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، مشیران ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داود، ڈاکٹر عشرت حسین، سید زوالفقار عباس بخاری، لیفٹننٹ جنرل(ر)عاصم سلیم باجوہ، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر اعلی خیبر پختون خوا محمود خان، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت، وزیر خزانہ خیبر پختونخواہ تیمور سلیم جھگڑا اورسینئر افسران شریک تھے۔اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیر اعلی خیبر پختون خواہ محمود خان کی معاشی ٹیم نے اپنے اپنے صوبوں کے آئندہ مالی سال 2020-21 کے بجٹ کے محصولات، اخراجات اور بجٹ کے حوالے سے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے صوباء حکومت کی ترجیحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت کے حوالے سے غیر معمولی حالات ہیں۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ غیر معمولی حالات میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی جائے اور ترقیاتی اخراجات بڑھائے جائیں۔ وزیراعظم نے خصوصی طور پر ان منصوبوں کے حوالے سے ترجیحات مرتب کرنے اور ان ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کی ہدایت کی جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معیشت کا پہیہ بھی تیزی سے چلے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جن بڑے شہری علاقوں میں کورونا وائرس کی وبا نے برے اثرات ڈالے ہیں، ان علاقوں میں روزگار کے بھرپور مواقع پیدا کئے جائیں۔ملکی اور صوبائی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبوں کی شراکت کو یقینی بنانے کے لئے وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نجی شعبے کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ صنعتی شعبے اور زراعت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم کو خصوصی اقتصادی زونز اور زراعت کے شعبے کے فروغ کے لئے بجٹ میں ترجیحات پر بھی خصوصی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ وفاق کی طرز پر صوبائی حکومتیں بھی غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کمی لانے پر خصوصی توجہ دیں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صحت کے شعبے کی اپ گریڈیشن پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات میسر آ سکیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احتسابی عمل ہر صورت جاری رہے گا،کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی،عوام کے ٹیکسوں پر ڈاکہ ڈالنے والے محب وطن نہیں ہو سکتے،کرپٹ لوگوں کی پاکستان میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ان کو ہر صورت کیفر دار تک پہنچایا جائیگا۔ وزیراعظم عمران خان سے وزرائے اعلیٰ عثمان بزدار،محمود خان اورمعاون خصوصی شہزاد نے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور ملکی کی مجموعی سیاسی،معاشی اور اقتصادی سمیت ملک میں جاری احتسابی عمل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔، وزیراعظم عمران خان سے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی اور پنجاب کی سیاسی صورتحال اور کورونا کی روک تھام کے اقدامات پر وزیر اعظم کو تفصیلی آگاہ کیا اور اس حوالے سے کئے جانے والے فیصلوں سے متعلق بھی اعتماد میں لیا،عثمان بزدار نے پنجاب کے انتظامی امور بارے بھی آگاہ کیا جبکہ پنجاب کے نئے بجٹ میں عوام کی بہتری کے اقدامات سے متعلق کئے جانے والے فیصلوں سے آگاہ کیا۔وزیر اعلی پنجاب نے صوبے میں کورونا وائرس کی موجود ہ صورتحال،لاک ڈاؤن اور ایس او پییز پر عمل درآمد بارے آگاہ کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں گورننس میں بہتری اور میرٹ پر فیصلوں کو یقینی بنایا جائے، پورا ملک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا عوام حفاظتی تدابیر اختیار کریں، کورونا کے مسلسل بڑھتے کیسز میں صحت کے نظام پر بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی ملاقات کی جس میں صوبے کی صورت حال اور کورونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیر اعلی نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں،امن و امان اور بجٹ سے متعلق امور پر پر وزیر اعظم کو اعتماد میں لیا۔قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان سے معاون خصوصی برائے احتساب وبیرسٹر شہزاد اکبر نے بھی ملاقات کی، بیرسٹر شہزاد اکبر نے وزیر اعظم کو شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے بارے تفصیلی بریف دی،وزیراعظم نے کہا کہ احتسابی عمل ہر صورت جاری رہے گا،کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی،عوام کے ٹیکسوں پر ڈاکہ ڈالنے والے محب وطن نہیں ہو سکتے،شوگر مافیا سے عوام کی ایک ایک پائی وصول کی جائے گی،شوگرسکینڈل کی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے لا کر حکومت نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے،کمیشن کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کیا جائیگا،کرپٹ لوگوں کی پاکستان میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ان کو ہر صورت کیفر دار تک پہنچایا جائیگا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -