امریکہ،احتجاج شدت اختیار کر گیا، ہنگاموں میں 17افراد ہلاک، لندن، پیرس، برلن اور سڈنی میں بھی مظاہرے

    امریکہ،احتجاج شدت اختیار کر گیا، ہنگاموں میں 17افراد ہلاک، لندن، پیرس، ...

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مریکا میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ زور پکڑ گیا، وائٹ ہاؤس کے سامنے پارک میں ہزاروں مظاہرین سے بھر گیا۔ سان فرانسسکو کے تاریخی پل پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، واشنگٹن کے میئر نے بھی فوجی کی تعیناتی کی مخالفت کر دی، دنیا بھر میں بھی نسل پرستی کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔امریکا میں سیاہ فارم شہری کی ہلاکت کے خلاف احتجاج 12ویں روز میں داخل ہو گیا، وائٹ ہاؤس کے سامنے پارک میں ہزاروں افراد جمع ہیں، مظاہرین نے "بلیک لیوز میٹر" کے نام سے بڑا بینر اٹھا کر احتجا ج کیا،ان کا کہنا تھا عالمی برادری نسل پرستی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے امریکہ کے کئی اہم شہروں مین ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے جلوس نکالے اور اجتماعات میں شرکت کی ہے۔ اپنی تقاریر میں مظاہرین نے جارج فلائیڈ کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر احتجاج کیا اور پولیس اصلاحات پر زور دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق نارتھ کیرولینا میں بیشمار لوگوں نے فلائیڈ کی میت کے تابوت کو دیکھنے کے لیے گھنٹوں تک انتظار کیا۔یہاں واشنگٹن کے قدیم علاقے میں فوجی گاڑیاں کھڑی تھیں اور فوجی اہل کاروں نے علاقے کے کافی حصے کو ٹریفک کے لیے بند رکھا، جس کے بعد بڑی تعداد میں مظاہرین وہاں سے گزرے۔اطلاعات کے مطابق امریکہ کے کئی اہم شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جب کہ بیرون ملک لندن، پیرس، برلن اور سڈنی میں بھی مظاہرے کیے گئے۔امریکہ کے کئی اہم شہروں میں درجنوں مظاہرے ہوئے، جب کہ اس سے قبل ہفتے بھر کئی مقامات پر احتجاج کیا جاتا رہا۔جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے فوری بعد امریکہ میں کئی مقامات پر مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے،لیکن حالیہ دنوں میں مظاہرین نے احتجاج میں پر امن ماحول برقرار رکھا۔فلاڈلفیا اور شکاگو میں مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن میں احتجاجی نعرے اور مطالبات درج تھے،اور مظاہرین نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ دونوں مقامات پر احتجاج کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ادھر میناپولس میں اہل کاروں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ گرفتاری کے ضوابط کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور اب پولیس کی جانب سے گردن پر گھٹنا رکھنے کے ضابطے کی ممانعت ہو گی۔دریں اثنا سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف امریکا میں گزشتہ کئی روز سے جاری مظاہرے ایک تحریک میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔۔امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف فوج تعینات نہیں کی جائے گی لیکن اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کے اطراف ڈیڑھ کلومیٹر کا احاطہ رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا اور فوج کی بکتر بند گاڑیاں اور سیکڑوں فوجی تعینات کر دیے گئے۔ایک امریکی نشریاتی ادارے نے دعوی کیا ہے کہ امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جاری مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ دس ہزار فوجی تعینات کرنا چاہتی تھی۔ سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور توڑپھوڑ کے واقعات کے دوران اب تک کم از کم 17 امریکی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔امریکی ویب سائٹ کے مطابق متاثرین کی فہرست میں سابقہ اور موجودہ سکیورٹی اہلکار اور بے گناہ مسافر شامل ہیں۔ جو اپنے گھر واپس جانے یا اپنے ڈیوٹی اسٹیشنوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں بلوائیوں کے حملوں کا نشانہ بننا پڑا۔امریکا میں پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 17 افراد میں سے 13کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ان میں سابق پولیس افسر 77 سالہ ڈیوڈ ڈورن، 29 سالہ پیری پرکنز،53سالہ ڈیوڈ مکاٹی،18 سالہ ڈوریان مورل،22 سالہ اٹالیا کیلی، 23 سالہ مارکیس ٹوکسن،43 سالہ کیلون ہارٹن جونیر، 22 سالہ جیمز اسکورلاک، 27 سالہ وکوٹر کازاریز،53 سالہ پیٹرک انڈر ووڈ، جارج گومز،38 سالہ کریس پیٹی،50 سالہ مارون فرانکوئس شامل ہیں جب کہ پانچ مقتولین کی شناخت نہیں کی جاسکی ہے۔

امرکہ احتجاج

مزید :

صفحہ اول -