لاک ڈاؤن، لڑائی جھگڑے 30فیصد، وومن ہرسمنٹ کیسز کی شرح میں 180فیصد اضافہ ہوا

    لاک ڈاؤن، لڑائی جھگڑے 30فیصد، وومن ہرسمنٹ کیسز کی شرح میں 180فیصد اضافہ ہوا

  

لاہور(کرائم رپورٹر)لاک ڈاؤن شروع ہونے سے اب تک گھریلو لڑائی جھگڑوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، سیف سٹی کے مطابق ون فائیو پر لاک ڈاؤن سے بعد گھریلولڑائی جھگڑوں کے واقعات کی تعداداوسطا دوہزار سے بڑھ 3ہزار ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مہلک وباکی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیاہے۔ اس کااندازہ لاک ڈاؤن کے عرصے کے دوران سیف سٹیز اتھارٹی کوشہریوں کی جانب سے کی گئی کالز کے ریکارڈکے مطابق جنوری اور فروری کی نسبت گھریلو تشدد کے واقعات میں لاک ڈاؤن کے دوران تیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ریکارڈ کے مطابق جنوری میں گھریلوتشدد کے واقعات کی تعداد دو ہزار چھیانوے توفروری میں دوہزارتین سو ساٹھ تھی اور لاک ڈاون کے بعدمارچ کے دوران گھریلوتشدد کے واقعات بڑھ کردوہزار آٹھ سوترپن ہوگئے۔ اپریل میں گھریلوتشدد کے واقعات تین ہزاراناسی تھے تومئی میں یہ تعداد بڑھ کر تین ہزارنوے ہوگئی ہے جبکہ رواں برس اب تک 13ہزار4سوسے زائدکالزموصول ہوئی ہیں۔

گھریلو تشدد

اسلام آباد (آئی این پی) عالمگیر وبا کورونا وائرس سے نا صرف ملک کی معیشت اور صحت کا نظام متاثر ہوا ہے بلکہ اس وبا کے دوران متعدد سماجی و دیگر مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ کورونا وائرس کے دوران پاکستان میں گزشتہ دو ماہ میں آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات میں 189 فیصد اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔ یہ ڈیٹا سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن کے ذریعے سے اکھٹا کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مارچ اور اپریل کے مہینے میں آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات میں 189 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ڈیٹا کے مطابق ان آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات 74 فیصد خواتین کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ہے جب کہ 19 فیصد مردوں نے کیسز رپورٹ کیے ہیں۔سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن پر رپورٹ کیے جانے والے ان واقعات میں تصاویر، ویڈیوز اور دیگر ذاتی معلومات کے ذریعے بلیک میل کرنے کی شکایات شامل ہیں۔

انٹر نیٹ ہراساں

مزید :

صفحہ اول -