مراد علی شاہ چالاک خاتون کی طرح میکے میں کچھ اور سسرالیوں میں اور باتیں کرتے ہیں: فیاض الحسن

مراد علی شاہ چالاک خاتون کی طرح میکے میں کچھ اور سسرالیوں میں اور باتیں کرتے ...

  

لاہور (آئی این پی) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ ای سی سی اور قومی رابطہ کمیٹی میٹنگز میں حکومت کے ساتھ کچھ اور طے کر کے جاتے ہیں، بلاول زرداری کے حضور جاتے ہی ان کا رویہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کواب کورونا وبا کے چار مہینے بعد وفاق اور وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرنے اور اے پی سی بلانے کا خیال آیا ہے۔اپنے ایک بیان میں فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ کی مثال اس خاتون جیسی ہے جو ایک ہی ایشو پر سسرال میں ایک، میکے میں چالاکی اور ہوشیاری سے دوسری بات کرتی ہے۔ گزشتہ دس سال سے مراد علی شاہ، آصف اور بلاول زرداری کی اٹھارویں ترمیم کے حق میں غزلیں سنتے عوام کے کان پک گئے۔ مراد علی شاہ کے بقول اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے تعلیم، صحت، صنعت و تجارت کے فیصلوں میں خود مختار ہیں۔ اب کورونا کے حوالے سے کرپشن سامنے آنے پر وفاق کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی منظرنامے سے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھے۔ اب کرونا وبا کے چار مہینے بعد انہیں وفاق اور وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرنے اور اے پی سی بلانے کا خیال آیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے پی کے اور بلوچستان کے سادہ لوح لوگوں کو سہانے خواب دکھا کے ووٹ لیتے رہے۔ مولانا فضل الرحمان نے قوم سے لوٹے اربوں روپے سے ایک آنا کورونا مخالف اقدامات پر نہیں لگایا۔ مولانا بتائیں، اپنی ذاتی جیب اور پارٹی کے ذریعے کورونا کے خلاف اب تک کیا حصہ ڈالا ہے۔دریں اثناء فیاض الحسن چوہان نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے چینی سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ کے فرانزک آڈٹ اور اس کی سفارشات پر ملوث شخصیات اور ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کی ہدایات پر وزیراعظم عمران خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کوئی حکومت اپنے دورِ اقتدار کے مالی سکینڈل کے لیے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر باقاعدہ کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر 2014سے 2019تک چینی پر دی گئی 29 ارب کی سبسڈی کا معاملہ نیب کو بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تحریکِ انصاف کے ایک سالہ دورِ اقتدار سمیت گزشتہ 20سے 25سال میں دی گئی سبسڈیز پر بھی نیب کو ریفرنس بھیجا جائے گا۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی جانب سے خود احتسابی کی اس سے اعلی مثال نہیں ملتی۔ سیلز و انکم ٹیکس کی مد میں کارپوریٹ فراڈ اور بے نامی ٹرانزیکشنز کا معاملہ ایف بی آر جبکہ فیک ایکسپورٹس دکھا کر سبسڈی بٹورنا اور بیرون ملک سے رقوم منگوا کر حلال کرنے کی تحقیقات اسٹیٹ بنک کرے گا۔ تمام حکومتی ادارے 90دن میں اپنی تحقیقات اور کاروائیاں کریں گے۔ حکومت ریاست کے اندر کسی قسم کے گروہ، مافیا اور کارٹیل بنائے جانے کی اجازت نہیں دے گی۔

فیاض الحسن

مزید :

صفحہ اول -