پنجاب میرج ہال ایسوسی ایشن کا اسی او پیز کے تحت شادی ہالز کھولنے کا مطالبہ

پنجاب میرج ہال ایسوسی ایشن کا اسی او پیز کے تحت شادی ہالز کھولنے کا مطالبہ

  

فیصل آباد (سپیشل رپورٹر) پنجاب میرج ہال ایسوسی ایشن نے ملک میں جاری کرونا وائرس کے پھیلاؤ اوراس کی روک تھام کیلئے جاری لاک ڈاؤن کومسترداورشادی ہال ملازمین اورمالکان کا معاشی قتل قراردے دیا یہ بات ایسوسی ایشن کے چیئرمین قمر جاوید باؤ، صدر خالد ادریس بھٹی اورجنرل سیکرٹری راؤطارق اسلام ودیگرعہدیدران نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ شادی ہال جو کہ مکمل لاک ڈاؤن سے پہلے 13مارچ کو یک جنبش قلم سے اچانک بندکردئیے گے اس بندش کی وجہ سے شادی ہال جو کہ عوام میں خوشایاں بانٹنے کی وجہ تھے اچانک غم کی تصویربن گئے۔اس بندش نے نہ صرف مالکان کوبہت بری مشکل میں ڈال دیا بلکہ لاکھوں کی تعدادمیں شادی ہال ملازمین جن کا کوئی اورذریعہ معاش نہیں اوریہ کوئی اورکام بھی نہیں کرسکتے کوبھوک افلاس کی صورت حال میں مبتلا کردیا ہے۔یہ بندش نہ صرف شادی ہالزبلکہ اس سے منسلک دوسرے کاروبار گوشت، سبزی، لائیوسٹاک، کریانہ،گراسری،فرنیچر،کراکری وغیرہ بھی بری طرح متاثرہوئی ہیں۔عوام جن کی زندگی میں صرف ایک خوشی کا موقع ان کے بچوں کی شادی کی صورت میں آتا ہے غم زدہ ہیں۔جبکہ یہ بندش انکی اس مذہبی فریضہ کی ادائیگی میں بھی رکاوٹ ہے جوکہ سراسرعوام کے ساتھ انکی مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔شادی ہالزجوکہ تمام کے تمام کرایہ داری کے تحت بنائے گئے ہیں اب تک کرایہ کی ادائیگی میں کہیں سے بھی کوئی سہولت نہ دی گئی۔اب تک تمام زمین مالکان بشمول سرکاری،نیم سرکاری،پرائیویٹ نے شادی ہالزمالکان کوکرایہ ادائیگی میں کسی قسم کی کوئی سہولت نہ دی۔بغیرکام کے تین ماہ سے زائدلاکھوں روپے میں کرایہ کی مدمیں مالکان کی رہی سہی کسربھی پوری ہوگئی۔اس سلسلہ میں وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے نہ کوئی ریلیف دیا نہ ہی کوئی رابطہ کیا بلکہ ہرنوٹیفیکیشن میں سپیشل ان کی بندش کا ذکرکرکے انکے زخموں پرنمک پاشی کی گئی اوراس امڈسٹری سے منسلک لاکھوں ملازمین کے ساتھ کھلا تضادرکھا۔اس کے علاوہ گورنمنٹ کے اعلان کردہ کرونا ریلیف میں کبھی بھی،کہیں بھی شادی ہالزاوراس سے منسلک کاروباری افراد،ملازمین کی ریلیف کا ذکرتک نہیں کیا گیا۔بجلی کے بلوں میں بھی کوئی ریلیف نہیں دیا گیاجیسے یہ انڈسٹری ملک کا حصہ ہی نہیں جبکہ ہم اربوں کا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ کہ شادی ہال مالکان وزیراعظم عمران خان،چیف جسٹس آف پاکستان،چیف آف آرمی سٹاف،وزیراعلی پنجاب اوروزیرانڈسٹری سے فوری ریلیف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہمارے مسائل کے حل کے لئے فوری طورپرہم سے رابطہ کیا جائے ورنہ15جون سے ہم اپنے لاکھوں بھوکے اورافلاس کے مارے مزدوروں کے ساتھ معاشی قتل کے خلاف سڑکوں پے آنے پرمجبورہوں گے۔اگرپنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوٹل میں ہوسکتا ہے توشادی کی تقریب کیوں نہیں۔انہوں نے اپنی شرائط میں بتایا کہ ہالزکوماہانہ کرایہ کی ادائیگی سے مستثنٰی قراردیا جائے،شادی ہالزمالکان کو بلا سودقرضے دئیے جائیں جوکہ کم ازکم دس سال کے عرصہ کے لئے ہوں اورادائیگی تین سال سے شروع ہو،ہالز کے تمام بجلی کے بل معاف ہوں،ہالز کو ہرطرح کے ٹیکس سے کم ازکم دوسال کے لئے مستثنٰی قراردیا جائے اورہالزکو فوری کھولا جائے جس کے لئے مالکان گورنمنٹ کی تعین کردہ تمام ایس اوپیزپرعمل درآمدکرنے یقین دہانی کراتے ہیں

شادی ہالز

مزید :

صفحہ آخر -