شادی ہالز مالکان نے شادی ہالز اور بینکویٹس کھولنے کا مطالبہ کردیا

شادی ہالز مالکان نے شادی ہالز اور بینکویٹس کھولنے کا مطالبہ کردیا

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے شادی ہالز مالکان نے حفاظتی انتظامات کے ساتھ شادی ہالز اور بینکویٹس کھولنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ کراچی میرج ہالز ایسوسی ایشن نے اتوار کو روپ بینکوئیٹ میں شادی ہالز کے لیے حفاظتی تدابیر کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے میرج ہالز ایسوسی ایشن کے صدر رانا رئیس احمد نے کہا کہ کرونا وائرس کے بعد لاک ڈاؤن شادی ہال مالکان پریشان ہیں۔ تقاریب کی پابندی کے باعث شادی ہال مالکان کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے شادی بیاہ کی تقاریب سے منسلک کیٹرنگ سروس، رینٹ اے کار، پھولوں کی سجاوٹ کرنے والوں، عروسی ملبوسات بنانے والوں، اور دیگر پچاس سے زائد متعلقہ شعبوں کا روزگار بھی بند پڑا ہے۔ شادی ہالز میں کام کرنے والے ویٹر اور دیگر ہزاروں کی تعداد میں یومیہ اجرت کمانے والے بھی بے روزگارہیں دوسری جانب شہر میں گھروں میں چھپ چھپ کر تقاریب منعقد کی جارہی ہیں جس سے کرونا پھیلنے کا خدشہ ہے انہوں نے کہا کہ شادی ہالز مالکان نے از خود حفاظتی تدابیر کا ایس او پی تیار کیا ہے اور سندھ حکومت کے ساتھ مشاورت کے زریعے بھی مکمل حفاظتی اقدامات اختیار کیے جایں گے۔اس موقع پر شادی ہال مالکان نے حکومت کی بنائی ہوئی ایس او پی کے تحت ہال کھولنیکا فارمولہ پیش کیا جس میں ماڈل بینکوئٹ تیار کیا گیا تھا۔ شادی ہال میں فاصلے سے کرسیاں رکھ کر ڈیمو پیش کیا گیا۔ شادی ہال کے مرکزی گیٹ پر ڈس انفیکشن گیٹ بھی نصب کیا گیاتھا۔ ماڈل شادی میں مہمانوں کو ٹیبل پر کھانا پیش کیاگیا ایک ٹیبل پر 10 سے 12 افراد کے بجائے 5 سے 6 افراد کی کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ اس موقع پررانا رئیس نے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ شادی ہال کھولنے کی اجازت دی جائے ایس او پی کی خلاف ورزی کرنے والے ہالز کے خلاف حکومت سخت ایکشن لے سکتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -