مہمند،سینکڑوں یتیم بچے اور بچیاں تعلیم کی سہولت سے محروم

  مہمند،سینکڑوں یتیم بچے اور بچیاں تعلیم کی سہولت سے محروم

  

مہمند (نمائندہ پاکستان)ضلع مہمند کے سینکڑوں یتیم بچے اور بچیاں غربت اور لاچارگی کی وجہ سے تعلیم کی سہولت سے محروم۔بیشتر یتیم بچے بازاروں میں مزدوری کرنے پر مجبور۔ سرکاری سطح پر سرپرستی نہ ہونے کی وجہ یہ بچے مستقبل میں منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا خدشہ ہے۔ ضلع مہمند کے اپر اور دور افتاً پسماندہ علاقوں خویزئی،بائزئی اور امبار وپنڈیالئی تحصیل میں اس وقت سینکڑوں ایسے یتیم بچے موجود ہے جو کہ انتہائی غربت اور گھر میں سرپرست نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم جیسے بنیادی سہولت محروم ہے اور مجبوراً بازاروں میں مزدوری و مشقت کرتے ہیں جس کی وجہ یہ یتیم بچے تعلیم محروم ہورہے ہیں اپنے دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے بعض ایسے یتیم بچے بھی ہے جو پہاڑوں سے گھاس اور لکڑیاں لاکر بھیج دیتے ہیں۔سرکاری سطح پر ان علاقوں میں یتیم خانہ اور سکول نہ ہونے کی وجہ سے یہ یتیم بچے اور بچیاں مستقبل میں منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بھی خدشہ ہے اگر چہ ضلع مہمند کے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں چائلڈ لیبر کیلئے صرف ایک سکول قائم ہے مگر اپر سب ڈویژن، تحصیل پنڈیالئی اور تحصیل امبار کے بے سہارا اور یتیم بچوں کو اس سکول تک راسائی ممکن نہیں ان یتیموں میں ایسے بچے بھی ہے جو یتیم ہونے کے ساتھ ساتھ معذور بھی ہے اور دو وقت کی روٹی کیلئے دوسرے افراد کے سہارے پر ہوتے ہیں۔ان یتیموں کو عیدین جیسے خوشی کے موقع پر سرکاری اور فلاحی اداروں کی طرف سے ابھی تک نہ کوئی امداد فراہم کی گئی ہے اور نہ ان کو رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں امدادی سامان تقسیم کردی گئی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -