کورونا سے مزید 7 6جاں بحق،ہلاکتیں 2ہزار سے متاثرین ایک لاکھ سے تجاو ز کر گئے 24گھنٹوں میں 4900نئے کیس، ایس ا و پیر پر عملدرآمد کیلئے فوج، رینجرز طلب کر نے کی تجویز

کورونا سے مزید 7 6جاں بحق،ہلاکتیں 2ہزار سے متاثرین ایک لاکھ سے تجاو ز کر گئے ...

  

اسلام آباد، کراچی، پشاور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک میں کورونا سے ہلاکتیں 2000 اور مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی اتوار کو ملک بھر سے کورونا کے مزید 4900کیسز اور 67 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ملک میں کورونا سے مزید 67افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2032 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 101173 تک پہنچ گئی ہے۔اب تک پنجاب میں کورونا سے 683 اور سندھ میں 650 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 575 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 54، اسلام آباد 49، گلگت بلتستان میں 13 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 8 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اتوار کو سندھ میں 16 ہلاکتیں اور 1744 کیسز، خیبرپختونخوا میں 14 ہلاکتیں اور 486 کیسز جب کہ اسلام آباد سے 656 کیسز اور 4 ہلاکتیں سامنے آئیں۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے 30، 30 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سے آج کورونا وائرس کے مزید 656 کیسز اور 4 ہلاکتیں سامنے آئیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 4979 جب کہ 49 افراد انتقال بھی کر چکے ہیں۔اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 629 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر میں آج کورونا کے مزید 30 کیسز کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق علاقے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 361 ہوگئی ہے جب کہ علاقے میں اب تک وائرس سے 8 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 182 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔گلگت بلتستان سے بھی آج کورونا کے 30 نئے کیسز سامنے آئے جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق علاقے میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 927 ہو گئی ہے جب کہ 13 افراد اب تک انتقال کر چکے ہیں، 541 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔پنجاب میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 37090 اور ہلاکتیں 683 ہیں جب کہ صوبے میں اب تک کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 8109 ہے۔اتوار کو سندھ میں کورونا سے مزید 16 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 650 ہوگئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 1744 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 38108 تک جا پہنچی ہے۔انھوں نے بتایا کہ صوبے میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 18 ہزار 776 ہو گئی ہے۔اتوار کو خیبر پختونخوا میں کورونا کے باعث مزید 14 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 575 ہوگئی۔ صوبائی محکمہ صحت کے مطابق پشاور میں 7، باجوڑ میں 2 جبکہ نوشہرہ، مردان، لوئر دیر، مالاکنڈ اور کوہاٹ میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔صوبائی محکمہ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 486 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ میضوں کی تعداد 13487 ہوگئی ہے۔ صوبے میں اب تک 3542 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔بلوچستان میں بھی گزشتہ روز کورونا وائرس کے مزید 445 کیسز سامنے ا?ئے جس کے بعد صوبے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 6221 ہوگئی جب کہ اب تک صوبے میں 54 افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 2175 ہے

پاکستان ہلاکتیں

لاہور، اسلام آباد،فیصل آباد(کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) فیصل آباد میں پولیس اہکاروں کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے شہریوں پر الیکٹرک شاک اسٹک کا استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فیصل آباد میں ایس او پیز کی خلاف پر پولیس اہلکاروں نے شہریوں کے خلاف الیکٹرک شاک اسٹک کا استعمال کیا۔پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کو ماسک استعمال نہ کرنے پر بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور سزا کے طور پر دیوار کی طرف مْنہ کر کے کھڑا کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اہل کاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی مخالفت کے باوجود کورونا وائرس سے متعلق معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پنجاب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے الیکٹرک لاٹھیاں استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کام حکومت کی رضامندی کے ساتھ ہورہا ہے جس کا کام قانون نافذ کرنے والوں کو ان تکلیف دہ ہتھیاروں کو فراہم کرنا ہے۔اسٹن گنز اور اسٹن لاٹھیاں ایسے آلات ہیں جو متاثرہ شخص کو بجلی کا جھٹکا دیتے ہیں اور یہ کچھ سیکنڈز کے لیے کسی کو شخص کو دیا جائے تو اس سے توازن اور پٹھوں پر قابو برقرار نہیں رہتا جس کے ساتھ ساتھ متاثرہ شخص کو ذہنی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اسٹن لاٹھی جیسے آلات ریاستی عہدیداروں کے لئے کام آتے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی پائیدار جسمانی نشانات کو چھوڑے ہوئے ہدف بنائے گئے افراد کو تکلیف دہ بجلی کے جھٹکے دیں۔دریں اثنافیصل آباد میں ایس او پیز کی خلاف پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کے خلاف الیکٹرک شاک اسٹک استعمال کرنے پر ڈپٹی کمشنر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔۔ڈپٹی کمشنر محمد علی نے کہاکہ شہریوں کو بجلی کے جھٹکے دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔و۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر نے تمام اہلکاروں کو شہریوں سے بدسلوکی کرنے سے منع کیا ہے۔دریں اثناایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکام نے سخت ایکشن لیتے ہوئے سینکڑوں دکانیں سیل اور جرمانے کئے گئے۔ این سی او سی کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں بلوچستان میں ایس او پیز کی 705 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔این سی او سی کے مطابق بلوچستان میں 628 دکانیں، تین انڈسٹریز اور پندرہ گاڑیوں کو جرمانے عائد کرتے ہوئے بند کر دیا گیا، پنجاب میں ایس او پیز 4641 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، پنجاب میں 965 دکانیں، 2 انڈسٹریز اور 715 گاڑیاں بند، جرمانے بھی عائد کر دیئے گئے،سندھ بھر میں چوبیس گھنٹوں میں ایس او پیز کی 826 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں،سندھ میں 81 دکانیں بند کر دی گئیں۔این سی او سی کے مطابق خیبر پختونخواہ میں ایس او پیز کی 398 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی،کے پی میں 186 دکانیں اور 106 گاڑیاں بند، جرمانے عائد کئے گئے،گلگت میں 267 خلاف ورزیاں، 96 دکانیں، 56 گاڑیاں بند، جرمانے عائد کئے گئے۔ این سی او سی کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 44 خلاف ورزیاں، 29 دکانیں، دو انڈسٹریاں، 13 گاڑیاں بند،جرمانے عائد کئے گئے۔ این سی او سی کے مطابق آزاد کشمیر میں 972 خلاف ورزیاں، 168 دکانیں 202 گاڑیاں بند، جرمانے عائد کئے گئے ہر اور اس کے نواحی علاقوں میں اسسٹنٹ کمشنروں اور ریونیو افسروں نے کارروائی کرتے ہوئے کورونا وائرس کو روکنے کے لیے بنائے جانے والے ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے پر 28 دوکانداروں کو سربمہر کر دیا ہے جس میں میڈیکل سٹور منیاری شاپس جنرل سٹور ہوٹل اور دیگر دوکانیں شامل ہیں لاہوسے کرائم رپورٹر کے مطابق کورونا کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظرایس او پیز پر عملدر آمد کرانے کیلئے فوج اور رینجرز کی مدد حاصل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاق اورپنجاب نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے سخت سے سخت اقدامات کرنے پر اتفاق کرلیا۔ذرائع کے مطابق ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے فوج اور رینجرز کی مدد حاصل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹوں اور پبلک مقامات پر سکیورٹی فورسز کو انتظامیہ کے ساتھ گشت کروا کر سخت پیغام دیا جائے، جن مارکیٹوں میں ایس او پیز کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے وہاں سخت ایکشن لیا جائے گا۔دوسری طرف حکومت بلوچستان نے صوبے میں 18نکاتی ایس او پیز سے مشروط پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دے دی،مسافروں کا ماسک پہننا، گاڑیوں،بسوں میں ڈس انفکیشن اسپرے کرنا لازم قرار، خلاف ورزی کرنے پر پبلک ٹرانسپورٹ دوبارہ بھی بند کی جاسکے گی۔ اتوار کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق بلوچستان میں بین الصوبائی و بین اضلاع پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دے د ی گئی ہے صوبائی حکومت کے جاری کردہ ایک او پیز کے مطابق روانگی سے قبل اور منزل پر پہنچنے پر بسوں، وین کے اندورنی حصے میں ڈس انسفکیشن اسپرے لازم ہوگا، بسوں اور وین میں ہاتھ سینیٹائز کرنے کی سہولت فراہم کرنا لازم ہوگا،مسافر ایک سیٹ چھوڑ کر بیٹھ سکیں اعلامیے کے مطابق ٹرانسپورٹرز کو ہر مسافر کا ریکارڈ رکھنے کے ساتھ ساتھ تھرمل گن کے ذریعے انکا درجہ حرارت بھی چیک کرنا ہوگا بخار میں مبتلا افراد سفر نہیں کرسکیں جبکہ مسافروں، ڈرائیورز، کنڈکٹر ز کیلئے دوران سفر ماسک پہننا بھی لازم قرار دیا گیا ہے بغیر ماسک کے کسی کو بھی سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اعلامیے کے مطابق بسوں کی راہداری میں کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی،ٹیکسی کارز میں صرف تین مسافر سفر کرسکیں گے 18سیٹر وین صرف 10مسافروں کے ساتھ سفر کر سکے گی،بس اور ویگن اڈوں پر رش اورہجوم کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ ٹرمنلز، اڈوں پر ہاتھ دھونے کی سہولت موجود ہوگی،اعلامیے کے مطابق ٹرمنلز میں گاہکوں کو ماسک کے بغیر اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائیگی،عملے، مسافروں، عوام کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ رکھنا بھی لازمی ہوگا، اس کے علاوہ کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام حفاظتی تدابیر بھی اختیار کرنے کے احکامات جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق ایس اوپیز کی خلاف ورزی کی صورت میں کاروائی کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ کو عوام مفاد میں دوبارہ بند کرنے کے احکامات بھی جاری کئے جاسکتے ہیں۔

کورونا ایس او پیز

مزید :

صفحہ اول -