نارووال سپورٹس سٹی کیس،احسن اقبال کیخلاف ریفرنس میں تاخیر پر چیئرمین نیب سے جواب طلب

نارووال سپورٹس سٹی کیس،احسن اقبال کیخلاف ریفرنس میں تاخیر پر چیئرمین نیب سے ...
نارووال سپورٹس سٹی کیس،احسن اقبال کیخلاف ریفرنس میں تاخیر پر چیئرمین نیب سے جواب طلب

  

اسلا م آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نارووال سپورٹس سٹی کیس میں احتساب عدالت نے احسن اقبال کیخلاف ریفرنس میں تاخیر پر چیئرمین نیب سے جواب طلب کرلیا،عدالت نے کہاکہ چیئرمین نیب بتائیں ابھی تک ریفرنس دائر کیوں نہیں کیا جاسکا ؟،نیب26 جون تک تفصیلی جواب جمع کرائے ۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں نارووال سپورٹس سٹی کیس کی سماعت ہوئی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی،احسن اقبال اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،رہنمان لیگ احسن اقبال کیخلاف انکوائری انویسٹی گیشن میں تبدیل کردی گئی ،نیب نے پیشرفت رپورٹ احتساب عدالت میں پیش کردی ۔

نیب نے کہاکہ کوروناکے باعث تحقیقات میں دیرہورہی ہے،تحقیقات مکمل ہونے کے بعدریفرنس دائرکردیں گے،جج محمد بشیر نے کہاکہ بتائیں ریفرنس دائرکرناہے یاکیس خارج کردیں۔ن لیگ کے رہنما احسن اقبال خود روسٹرم پر آگئے ،احسن اقبال نے کہاکہ میڈیا میں نیب والے میری کردار کشی کررہے ہیں ،جج محمد بشیر نے کہاکہ میڈیا والی باتوں کاجواب باہر جا کر میڈیا پر ہی دیں ،احسن اقبال نے کہاکہ ایک سال ہو گیا یہ لوگ میرے خلاف تحقیقات کررہے ہیں ،میرے ریفرنس نہیں ہے تو کیس خارج کیاجائے ،نیب کہتا ہے عدالتیں فیصلے نہیں کررہیں اورریفرنس خود نہیں لاتے ۔

احسن اقبال کے وکیل نے اخبار بھی عدالت میں پیش کردی،وکیل نے کہاکہ نیب نے اعلامیہ جاری کیا عدالتوں میں جلد فیصلوں کیلئے درخواستیں دائر کریں گے ۔احسن اقبال نے استدعا کی کہ چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیاجائے ،نیب پراسیکیوٹر سہیل عارف نے کہاکہ چیئرمین نیب کی نمائندگی کیلئے ہم یہاں موجود ہیں ،احسن اقبال نے کہاکہ عدالت نیب کو ریفرنس دائر کرنے کاآخری موقع دے ۔

احتساب عدالت نے احسن اقبال کیخلاف ریفرنس میں تاخیر پر چیئرمین نیب سے جواب طلب کرلیا،عدالت نے کہاکہ چیئرمین نیب بتائیں ابھی تک ریفرنس دائر کیوںنہیں کیا جاسکا ؟عدالت نے کہاکہ نیب26 جون تک تفصیلی جواب جمع کرائے ،جج محمد بشیر نے کہاکہ ایف آئی اے سے جو کیس نیب کو ٹرانسفرہواس میں احسن اقبال کانام نہیں تھا ،عدالت نے کہاکہ نیب بتائے احسن اقبال کیخلاف ریفرنس آنا یا کیس خارج کردیں؟۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -