برطانیہ میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج پرتشدد مظاہروں میں تبدیل کیوں ہوا؟

برطانیہ میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج پرتشدد مظاہروں میں تبدیل کیوں ہوا؟
برطانیہ میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج پرتشدد مظاہروں میں تبدیل کیوں ہوا؟

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکہ سیاہ فام شہری کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھرمیں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔مظاہروں کا یہ سلسلہ امریکہ سے نکل کرکینیڈا، یورپ ،آسٹریلیا اور ایشیا تک پھیل چکا ہے تاہم برطانیہ میں ہونے والے مظاہروں  کاسلسلہ متشدد مظاہرے کی شکل اختیار کرگیا۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں شریک شرپسند عناصر نے غنڈہ گردی کی اس لیے وہاں ہونے والا احتجاج متشدد شکل اختیارکرگیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر دیئے گئے اپنے ردعمل میں بورس جانسن کا کہنا تھا کہ  لوگوں کو معاشرتی دوری کو مدنظر رکھتے ہوئے پرامن احتجاج کرنے کا حق ہے لیکن انہیں پولیس پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شرپسند عناصر نے غنڈہ گردی کے ذریعہ مظاہرو میں بگاڑ پیدا کیا اور اسی مقصد کی نفی کی جس کے لئے وہ گھروں سے نکلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ذمہ داران کو جوابدہ کیا جائے گا۔

خیال رہے لندن میں پولیس اور مظاہرین میں وزیراعظم ہاوس کے سامنے تصادم ہوا تھا جس میں 14سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے تھے جبکہ دوسری جانب برطانوی شہر برسٹل میں مشتعل مظاہرین نے ایک غلام تاجر کا مجسمہ اتارا اور اسے ندی میں پھینک دیا۔ 17 ویں صدی کے ممتاز غلام تاجر   ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ گرانے کے لئے رسے استعمال کیے۔

کولسٹن رائل افریقی کمپنی کا ملازم تھا۔ اس کمپنی نے امکان ظاہر کیا تھا کہ افریقہ سے 80،000 سے زیادہ مرد ، خواتین اور بچوں کو غلام بنا کر امریکا منتقل کیا گیا تھا۔سنہ 1721 میں کولسٹن کی وفات کے بعد اس کی وصیت کے مطابق اس کی دولت خیرات کردی گئی تھی۔ بریسٹل شہرمیں اب بھی ایسی یادگاریں اور عمارتیں موجود ہیں۔

ہفتہ کے روز لندن میں ڈاوننگ اسٹریٹ میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب جھڑپ کر رہے تھے۔ مظاہرین اور پولیس میں ہونے والی جھڑپوں میں چودہ پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوگئے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -برطانیہ -