لوگوں میں تاحال آگاہی نہیں آئی،عید پرایس اوپیزکونظراندازکردیاگیا،جسٹس اعجازالاحسن

لوگوں میں تاحال آگاہی نہیں آئی،عید پرایس اوپیزکونظراندازکردیاگیا،جسٹس ...
لوگوں میں تاحال آگاہی نہیں آئی،عید پرایس اوپیزکونظراندازکردیاگیا،جسٹس اعجازالاحسن

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا ازخودنوٹس کیس میں جسٹس اعجازالاحسن نے کہاہے کہ لوگوں میں تاحال آگاہی نہیں آئی،عید کے موقع پرلوگوں نے ایس اوپیزکونظراندازکردیا،ویکسین کی دریافت سے قبل راستہ احتیاطی تدابیرہیں،کوروناوائرس بہت تیزی سے بڑھ گیاہے۔

تفصیلات کے مطابق کوروناوائرس ازخودنوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ سماعت کررہاہے،جسٹس مظہرعالم میاں خیل آج عدالت نہیں آسکے ۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے،کوروناسے تحفظ کاحل قانون سازی ہے،قانون سازی کرناوفاقی حکومت کے حق میں ہے،عدالت نے کہاکہ خدانخواستہ حفاظتی سامان نہ ہونے سے کوئی نقصان ہواتوتلافی نہیں ہوگی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ورکرزکی ہلاکت پروزیراعلیٰ جاکرمعاوضے کااعلان کردیتے ہیں،عدالت ایسی چیزوں کی صرف نشاندہی کرسکتی ہے،عدالت نے کہاکہ قانون سازی کے عملی اقدامات ہرحال میں حکومت نے کرنے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سینٹری ورکزگٹرصاف کرتے ہیں ان کیلئے حفاظتی اقدامات کیاہیں؟،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ لوگوں میں تاحال آگاہی نہیں آئی،عید کے موقع پرلوگوں نے ایس اوپیزکونظراندازکردیا،ویکسین کی دریافت سے قبل راستہ احتیاطی تدابیرہیں،کوروناوائرس بہت تیزی سے بڑھ گیاہے۔

عدالت نے کہاکہ پولیس والوں کودکانداروں اورخریداروں سے پیسے لینے کی اجازت دےدی گئی،چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیاکہ کس طرح سے ایس اوپیز پرعمل ہوگا؟،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ شہریوں کوبھی ذمہ داری دکھاناہوگی،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہم بھی کوروناوائرس کی حدت کومحسوس کررہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ڈاکٹرزکوحفاظتی سامان ہرحال میں دستیاب ہوناچاہیے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -