تحریک انصاف کے ایک وزیر پر بھی زیادتی کا الزام ، خبر سامنے آنے پر امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی پھر میدان میں آگئیں

تحریک انصاف کے ایک وزیر پر بھی زیادتی کا الزام ، خبر سامنے آنے پر امریکی ...
تحریک انصاف کے ایک وزیر پر بھی زیادتی کا الزام ، خبر سامنے آنے پر امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی پھر میدان میں آگئیں

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )معروف امریکی بلاگر ” سنتھیا ڈی رچی “ نے پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک پر جنسی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا ہے جبکہ انہوں نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر بھی مبینہ طور پر حراساں کرنے کا الزام لگایا ہے ۔

الزامات سامنے آنے کے بعد دونوں رہنماﺅں نے قانو نی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کر دیاہے لیکن اس شور وغل میں نجی اخبار ” جنگ نیوز“ نے ایک ٹویٹر صارف کے حوالے سے دعویٰ کر دیاہے کہ ” سنتھیا ڈی رچی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پی ٹی آئی کے ایک معروف وزیر پر بھی ریپ کا الزام لگا یا اور پھر اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی ۔“

مقامی اخبار  کی رپورٹ کے مطابق سدرہ میمن نامی خاتون نے ٹوئٹر پر امریکی خاتون سنتھیارچی کا ٹوئٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”دیکھئے سنتھیارچی نے ٹوئٹ کیا ہے کہ انہیں پی ٹی آئی کے وزیر نے بھی ریپ کا نشانہ بنایا ہے اور پھر انہوں نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا ہے۔سدرہ میمن نے لکھا کہ امریکی خاتون کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیر جنہوں نے ان کا ریپ کیا وہ اس وقت وفاقی وزیر ہیں۔“

تاہم سنتھیا ڈی رچی اس معاملے پر خود میدان میں آ گئیں ہیں اور انہوں نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ” اگر میں پی ٹی آئی کے وزیر پر ریپ کا الزام لگاتی یا پارٹی پر ریپ کی دھمکیوں کا تو نام نہاد لبرلز حمایت کرتے لیکن جب سے ہم رحمان ملک کی بات کر رہے ہیں تو وہ اتنے خاموش کیوں ہیں ؟ میں صرف صاف اور شفاف ٹرائل چاہتی ہوں ۔“

سنتھیا ڈی رچی کے اس ٹویٹ پر ایک ضیاءکشمیری نامی صارف نے جواب دیتے ہوئے سنتھیا کی جانب سے ڈیلیٹ کیے جانے والے مبینہ ٹویٹ کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور کہا کہ ” آپ نے یہ ٹویٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کر دیا ۔“

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والے مبینہ سکرین شاٹ کے مطابق سنتھیا ڈی رچی کہتی ہیں ” میرا پہلا ہدف پیپلز پارٹی تھی لیکن ایسا نہیں ہے کہ میں باقی سیاسی جماعتوں کو بخش دوں گی ، ن لیگ اور پی ٹی آئی اور کچھ چوٹی کے صحافی ، اندازہ لگائیں آپ کیلئے کیا آ رہاہے ، معروف پی ٹی آئی وزیر نے بھی مجھے ریپ کیا تھا ۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -